اس شخص سے اس کی ملاقات محض اتفاق تھا ۔ پہلی نظر میں وہ اسے ایک معمولی شکل و صورت رکھنے والا ایسا آدمی لگا جو قدرے باتونی تھا ۔ اس کے اندازِ و اطوار میں بھی کچھ ایسی کشش نہ تھی ۔ ان دونوں کے درمیان رسمی سی بات جیت شروع ہوئی ۔ مگر گفتگو کے دوران اس نے محسوس کیا ۔ کہ وہ شخص غیر معمولی طور ہر ذہین ہے رفتہ رفتہ وہ اس کی باتوں میں دلچسپی لینے لگی اس شخص کی ذہانت اور بدلہ سخنی نے اسے کافی متاثر کیا ۔ گھر واپس آکر وہ دیر تک اس کی باتوں اور لطیف مزاح کو یاد کر کے محفوظ ہوتی رہی اگلے دن وہ لاشعوری طور پر متمنی تھی کہ کس طور اس سے باتیں کرے لیکن سارا دن یونہی گزر گیا شام کو فون کی بیل بجی تو وہ بے تابانہ لپکی۔ مگر اس کے پہنچنے سے پہلے ہی کسی اور نے ریسور اُٹھا لیا ۔ دوسری جانب سے فون رکھ دیا گیا ۔ اسے گمان گزرا کہ یہ اُس کی کال تھی اوراس خیال کے ساتھ ہی اسے ایک عجیب طمانیت کا احساس ہوا۔
اگلے روز وہ اس کے فون کا انتظا ر کرتی رہی ۔ دن ڈھل گیا اور شام کے سائے پھیلنے لگے اس کے انتظار میں بے کلی کے ساتھ اداسی شامل ہونے لگی ۔ پھر جیسے وہ ایک نتیجے پہ پہنچی ۔ میں خود ہی اسے کال کر لیتی ہوں ۔ مگر کہوں گی کیا ؟ اسے کوئی بہانہ نہیں سوجھ رہا تھا ۔ وہ ان ہی سوچوں میں اُلجھی دیر تک بے مقصد اِدھر اُدھر گھومتی رہی پھر غیر ارادی طور پر اس نے اس کا نمبر ڈائل کیا دوسری جانب سے پہلی ہی بیل پر فون اُٹھا لیا گیا اُس کی آواز سنتے ہی اس کا دل بے طرح دھڑ کا زبان جیسے گُنگ ہو گئی ۔ لیکن دوسری طرف سے لمبی چوڑی گفتگو شروع ہو گئی اس کے بعد ان دونوں کے درمیان فون ایک رابطہ بن گیا اب بلا ناغہ ان کی بات ہوتی اِدھراُدھر کی باتیں ۔ داستانیں ۔ قصے کہانیاں ۔۔۔۔۔۔۔ان کی فون کالز کا دورانیہ بڑھتا رہا اور وہ کئی کئی گھنٹے ریسور تھامے ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہتے ۔ لیکن وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوتا ۔ ان دونوں ایک عجیب سی کیفیت اس پہ طاری تھی ایک ہلکاہلکا سا احساس نشہ بن کر اس کے دل و دماغ پر چھا رہا تھا یوں لگتا تھا جیسے وہ کسی غیر مرئی طاقت کے زیر اثر چلتی ہوئی دور او پہلی غبار میں گم ہوتی چلی جا رہی ہے سنہری لمحات رنگین پر لگائے اُڑے چلے جا رہے تھے اور یوں لگتا کہ وہ نرم روپانی میں ہلکورے لیتی دھیرے دھیرے ندی کی روانی ہیں بہتی چلی جا رہی ہے ۔ بادلوں کو دیکھتی تو جیسے خود بھی ان کے ساتھ آسمانوں پر تیرنے لگتی ۔
بارش کی چھما چھم اس کے دل میں ایسی ترنگ پیدا کر دیتی جس میں ایک میٹھی کسک بھی شامل ہوتی ۔ اس کے انداز و اطوار میں دلربا نزاکت بھر گئی اس کی آواز میں ایک عجیب سی کھنک آگئی ۔ آئینہ دیکھی تو اسے خود پہ پیار آنے لگتا وہ خود سے سوال کرتی کہ یہ کیسی تبدیلی ہے اس کیفیت کا نام کیا ہے ؟ کیا اسے محبت ہو گئی ہے مگر کس سے ؟کیا اُس شخص سے ؟ لیکن اس کا جواب اسے خود سے ایک سا نہیں مل رہا تھا ۔ کبھی ہاں کبھی ناں ۔ یہ کیا بات ہوئی بھلا ؟ وہ اُلجھ سی جاتی ۔ آنکھیں بند کرتی تو محبت پوری شدت سے اس پرواردہو جاتی اس کی رگ رگ میں سرابت کر جاتی ۔ سنسناتی ہوئی تیز لہر اس کے دل و دماغ میں دوڑنے لگتی وہ جیسے ڈوبتی ابھرتی لہروں پر تیرنے لگتی ۔ لیکن جب وہ اسے آنکھ دیکھتی تو وہ اسے بالکل انجان آدمی نظر آتا ایک معمولی شکل و صورت والا جو نگاہوں کو نہ جچتا تھا ۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے اس کی شخصیت دو حصوں میں بٹ چکی ہو۔ وہ عجیب گو مگو کیفیت میں مبتلا تھی اور بے چین ، بے قرار اضطراری حالت میں اِدھر اُدھر بے مقصد گھومتی رہی ۔
وہ اپنی بے کلی کو سکون دینا چاہتی تھی ۔ مگر تشنگی بڑھتی چلی جا رہی تھی نہ کھانے کا ہوش نہ نیند کا کہیں پتہ ۔ وہ اس کی آواز سنتی تو دل میں کیف بھر جاتا مگر اس کو سامنے پا کر اس کے دل و دماغ کے دو حصے ہونے لگتے ۔ کیا یہ وہی ہے جس کے لیے وہ بے قرار ہے ؟ وہ اسے ایک انجان آدمی نظر آتا جس کے چہرے سے وہ شناسا نہ تھی مگر اس کی آواز اور اس کی باتیں دل میں اُترتی چلی جاتیں وہ اپنی اس کیفیت پر قابو پانے میں بالکل نا کام تھی ۔ اس کے رو برو اس کی باتیں سنتے ہوئے وہ آنکھیں موند لیتی اور نیم سوئی کیفیت میں محبت کے امرت کو قطرہ قطرہ اپنے وجود کے اندرسموتی رہتی اس کی شدید تر خواہش ہوتی کہ یہ لمحات پھیل کر پوری دنیا پر چھا جاتیں اتنے طویل ہو جائیں کہ زمین و آسمان کچھ نظر نہ آئے وہ محبت کے اُس پار کچھ دیکھنا نہیں چاہتی تھی ۔
لیکن دوسری جانب اس شخص کی کیفیت اس سے یکسر مختلف تھی وہ ہمیشہ اُسے خیالوں کی دنیا سے باہر آنے کو کہتا اسے حقیقت سے قریب لانے کی کوشش کرتا لیکن وہ اس کشمکش سے ٹوٹنے لگی کبھی خود کو بکھرنے سے بچانے کے لیے وہ اپنے تڑپتے ہوئے قالب کو سمیٹنے کی کوشش کرتی لیکن اس کیفیت میں وہ اذیت پسندی کی آخری حدووں کو چھونے لگتی اور کبھی سکون کی تلاش میں اُس سے دور رہ کر اِدھر اُدھر بھٹکتی پھرتی ۔ پھر یکا یک یہ ہوا کہ وہ اس سے کترانے لگی اس کی فون کالز متواتر آتیں مگر وہ ریسو نہ کرتی بس چپ چاپ ساکت چہرہ لیے بیٹھی رہتی ایسے میں اس کے پاؤں اضطراری طور پر حرکت میں رہتے شوریدہ موجیں اِدھر اُدھر سر پٹختی رہیں مگر اُوپر کی سطح ساکن ہوتی ۔ وہ اس کی تمام باتیں دل ہی دل میں دہراتی رہتی تاکہ وقت کا ظالم دھارا انہیں محو نہ کر دے ۔
اس کے ذہن کے پرووں پر ایسی فلم چل رہی ہوتی جس میں اس کے من پسند مناظر ہوتے پھر کئی بار ایسا ہو ا کہ وہ ریسور اُٹھائے بغیر اس کا نمبر ڈائل کرتی اور اس کے بعد ریسور کان سے لگائے گھنٹوں اس سے باتیں کرتی رہتی ایسی باتیں جو اس سے وہ کبھی نہ کہ پائی ریسور کی ٹون مسلسل اس کے کانوں میں بجتی رہی لیکن وہ چشمِ تصور میں اس کو سامنے پاتے ہوئے مجھ محو گفتگو رہتی ۔ وہ خود اذیتی کی اس منزل پر تھی جہاں اسے نہ کھانے کا ہوش اور نہ نیند کا کہیں پتہ تھا ۔اس کی آوا ز سنتی تو دل میں کیف بھر جاتا لیکن اسے سامنے پا کر اس کے دل و دماغ کے دو حصے ہونے لگتے ۔ دیکھنے میں وہ اسے انجان آدمی نظر آتا وہ غور سے اسے تکتی ہوئی یہ سوچنے لگتی کیا یہ وہی ہے ؟ جس کے لیے وہ اس قدر بے قرار ہے ۔۔۔اس کے چہرے سے وہ آشنا نہ تھی ۔ مگر اس کی آواز اور اس کی باتیں دل میں اُترتی چلی جاتیں وہ اپنی اس کیفیت پر قابو پانے میں بالکل نا کام تھی ۔ اس کے روبرو باتیں سنتے ہوئے وہ آنکھیں موند لیتی اور یوں نیم سوئی کیفیت میں محبت کے امرت کو قطرہ قطرہ پیتی رہتی اس لمحے اس کی شدید خواہش یہی ہوتی کہ محبت کے یہ لمحات پھیل کر پوری دنیا پر چھا جاتیں اتنے طویل ہو جائیں کہ زمین و آسمان کچھ نظر نہ آئے وہ غبارِ محبت کے اُس پار کچھ دیکھنا نہیں چاہتی تھی ۔ لیکن دوسری جانب اُس شخص کی کیفیت اس سے یکسر مختلف تھی۔ وہ ہمیشہ اسے خیالوں کی دنیا سے باہر آنے کو کہتا اسے حقیقت سے قریب لانے کی کوشش کرتا ۔ لیکن سب لا حاصل تھا ۔اب وہ اس کشمکش سے ٹوٹنے لگی اور پھر نجانے کیوں وہ اس سے کترانے لگی اس کی کالز متواترآتیں مگر وہ ریسو نہ کرتی ۔ بس چپ چاپ ساکت چہرہ لیے بیٹھی رہتی شوریدہ موجیں اِدھر اُدھر سر پٹختی رہتی لیکن پانی کی سطح اوپر سے ساکن تھی ۔ وہ اُس کے سامنے خاموش بیٹھی رہتی لیکن تنہائی میں اس کی تمام باتیں دل ہی دل میں دہراتی رہتی تاکہ وقت کا ظالم دھارا انہیں محو نہ کر دے اس لمحے اس کے ذہن کے پر دے پرایسی فلم چل رہی ہوتی جس میں اس کے من پسند مناظر ہوتے پھر کئی بار ایسا ہوتا کہ وہ ریسور اُٹھاتے بغیر اس کا نمبر ڈائل کرتی اور اس کے بعد ریسور اُٹھا کر گھنٹوں اس سے باتیں کرتی رہتی ۔ وہ باتیں جو وہ اس سے کبھی نہ کر پائی اس لمحے ریسور کی ٹون مسلسل اس کے کان میں بجتی رہتی وہ خود اذیتی کی اس منزل پر تھی ۔ جہاں شکستہ پائی نے اسے نڈھال کر دیا تھا ۔ یادیں ایک ایک کر کے اس کی جانب دوڑی چلی آرہی تھیں مگر وہ انہیں پرے دھکیل دیتی ۔ وہ اسے یاد نہیں کرنا چاہتی تھی اور بھول جانے کا ڈر بھی اسے دہلائے دیتا تھا ۔ ایک تیز کاٹ اس کے رگ و ریشے کو مسلسل تبا ہ کر رہی تھی اور وہ ان سے بہتا ہوا خون دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔ جیسے اپنی تڑپ کا لطف اُٹھا رہی ہو ۔ پھر رفتہ رفتہ یا بہت گہرا احساس اس کے ذہن پر چھانے لگا اس کے اعضاء مضمحل ہونے لگے جیسے اس کی روح بیمار پڑ گئی ہو وہ کمرےمیں بند ہو کر لیٹی مسلسل چھت کو گھورتی رہتی اسے یوں لگتا جیسے پوری کائنات رک گئی ہو وہ دھیرے سے اُٹھ کر کھڑکی کے پٹ کھول کر باہر دیکھنے لگتی باہر کا ماحول جیسے بالکل اجنبی سا لگتا ۔ لوگو ں کا آنا جانا ان کی مصروفیات بے معنی نظر آنے لگیں گھروں کی اونچی نیچی عمارتیں بالکل ویران اور غیر آباد سی تھیں ۔درختوں کے پتے دھول میں آٹے اور بالکل ساکت تھے ۔ کبھی کبھار کسی پرندے کی آواز اداسی میں مزید اضافہ نہ کر دیتی ۔ اسے یوں لگ رہا تھا کہ پوری کائنات اپنی مقصدیت کھو چکی ہو ۔ وہ خالی خولی نظروں سےاِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے مسلسل سوچ رہی تھی کہ یہ دنیا ایک پُتلی تماشا ہے ایک تار پر ناچنے والی بے روح پُتلیاں جن کی ڈور کسی اور ہاتھ میں ہے یہ سوچتے سوچتے وہ اپنا آپ کھو چکی تھی وہ سب کچھ جو پہلے اہم تھا اب کتنا فضول سا ہو چکا اس کی تمام دلچسپیاں شوخیء طبع ، رنگینیء خیال کیا ہوئی ۔ اس کے ذہن میں سب کچھ گڈمڈ ہو گیا ۔ پھر جیسے کوئی عکس دھیرے دھیرے واضح ہوتا گیا اس کے خدو خال نکھرتے گئے دل و دماغ میں کوئی روشنی جھلمانے لگی جس کی تھرتھراتی لو میں اسے اپنے اندر کی دنیا دکھائی دینے لگی جو بے انتہا خوبصورت تھی باہر کی تمام رعنائیاں تو اس کے دل کی دنیا کا محض پر تو تھیں ۔ اصل جمال کو اس اپنا حسن ِ نظر تھا ۔ جس نے دنیا کو نئے نئے رنگ عطا کیے تھے ۔
تمام حسن تو جذبہ محبت کی دین تھا ۔ اس کی بخشش تھی ۔یہ وہی جذبہ تھا جس کی وسعتیں بے پناہ ہیں جو خیال محبوب سے ہی ہر شے کو جگمگا دیتا ہے ۔محبت جوائل حقیقت ہے ۔ لافانی ہے ۔ اور پھر نافہء آہو کے مانند اس کا ایک نیا سفر شروع ہوا اپنی ہی خوشبو کی تلاش کا سفر ۔۔۔
36
اگلی پوسٹ
