خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامریم نواز ہیلتھ کلینک
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزسید محمد زاہد

مریم نواز ہیلتھ کلینک

از سائیٹ ایڈمن جون 6, 2025
از سائیٹ ایڈمن جون 6, 2025 0 تبصرے 54 مناظر
55

مشترکہ ہندوستان میں مغربی طریقہ علاج کی تاریخ 1600 کی ہے، جب پہلے ڈاکٹر ایسٹ انڈیا کمپنی کے پہلے بحری بیڑے کے ساتھ سرجن کے طور پر ہندوستان پہنچے۔ 1757 میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں اپنی حکمرانی قائم کی جس کی وجہ سے سول اور ملٹری سروسز کی ترقی ہوئی۔ بنگال میں 1764 میں کمپنی کے فوجیوں اور ملازمین کو طبی خدمات فراہم کرنے کے لیے ایک طبی شعبہ قائم کیا گیا۔ ہندوستان کا پہلا ہسپتال مدراس جنرل ہسپتال تھا جو کہ 1779 میں بنایا گیا۔

ہندوستان کے وہ علاقے جو پاکستان میں شامل ہوئے وہ اس وقت مغل اور پھر سکھ حکومت کے زیر اثر تھے۔ ان ادوار میں اس شعبہ میں کوئی کام نہ ہوا۔ یہاں میڈیکل سائنس کا پہلا جدید ادارہ لاہور میڈیکل سکول (کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج) 1867 میں بنایا گیا۔ اس کے بعد پورے ہندوستان میں ہسپتال اور ڈسپنسریز قائم کی گئیں۔

بیسویں صدی کے آغاز میں تین سو تیس مربع میل کے علاقے کے لیے ایک ہسپتال موجود تھا۔ پاکستان معرض وجود میں آیا تو ضلع اور چند تحصیلوں میں ڈاکٹر اور ٹاؤن کی سطح پر ڈسپنسرز کی زیر نگرانی ہسپتال موجود تھے۔ اس کے بعد کئی سال تک یہی نظام چلتا رہا۔ میں ایک ایسی لیڈی ڈاکٹر کو بھی جانتا ہوں جس نے 1942 میں آگرہ سے ایم بی بی ایس کیا اور حافظ آباد جیسی دور دراز اور بیک ورڈ تحصیل میں کام کیا۔

بھٹو کے عہد میں نئی تعلیمی پالیسی لاگو کی گئی۔ کئی جامعات اور کالج بنائے گئے۔ اسی دور میں مری روڈ پر ایک بس حادثہ میں سندھ کے کسی میڈیکل کالج کے کچھ طالبعلم سہولیات کے فقدان کی وجہmaruam nawaz health clinic سے وفات پا گئے۔ کہا جاتا ہے کہ بھٹو صاحب اس حادثہ سے انتہائی غمزدہ ہوئے اور نئے میڈیکل کالج بنانے کا اعلان کیا۔ پہلا کالج راولپنڈی میں بنایا گیا۔ پورے ملک میں تقریباً 6 نئے میڈیکل کالج قائم کیے گئے۔ انگریز کے دور کے بعد میڈیکل سہولیات کے سلسلے میں یہ ایک بڑا جمپ تھا۔

اس دور تک ضلع اور تحصیل کی سطح پر ایک سول ہسپتال ہوتا تھا۔ ہمارے شیخوپورہ کے ضلعی سول ہسپتال میں دو میڈیکل افسر، ایک سرجن اور ایک لیڈی ڈاکٹر کی سیٹیں تھیں۔ یاد رہے کہ یہ پنجاب کا ایک بڑا ضلع ہے۔ لاہور کا جڑواں ضلع ہونے کی وجہ سے یہاں آبادی بہت زیادہ ہے۔ پر کیپیٹا انکم، سیاسی شعور اور ایجوکیشن لیول بھی بہت بہتر ہے۔

محمد خان جونیجو کی حکومت میں 1986 میں صحت کے نظام میں بہت بڑی تبدیلی آئی اور ضلع و تحصیل کی سطح پر ہیڈ کوارٹر ہسپتال بنائے گئے جن میں پہلی بار مختلف امراض کے ماہر ڈاکٹر تعینات کیے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر یونین کونسل میں ایک ڈاکٹر کی زیر نگرانی بنیادی مرکز صحت اور ٹاؤن کمیٹی کی سطح پر چار ڈاکٹرز پر مشتمل دیہی مرکز صحت بنائے گئے۔ یہ صحت کے شعبہ میں ایک عظیم انقلاب تھا۔ ان مراکز میں بیماریوں کے علاج کے ساتھ ان سے بچاؤ کے اقدامات پر بھی بھرپور زور دیا جاتا رہا ہے۔ لیکن یہیں سے محکمہ صحت میں خرابیوں کا بھی آغاز ہوا۔بنیادی مراکز صحت شہروں سے دور دیہات میں بنائے گئے تھے جہاں پر ایک سترہ گریڈ کے افسر کی ضروریات کے مطابق ماحول موجود نہیں تھا۔ اس کے علاوہ دیہات کی سیاست اور وہاں کی مشکلات بھی ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔ بجلی پانی اور سیکیورٹی کے بھی مسائل تھے۔ جاب کی نوعیت ایسی تھی کہ انہیں وہاں رہائش رکھنے پر مجبور کیا گیا۔ شروع سے ہی ڈاکٹرز کے لیے وہاں کا ماحول سازگار بنانے کی بجائے ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ مقامی افسران نے مالی مفادات کے عوض انہیں حاضری سے استثنا کا راستہ دکھایا۔ حالات یہاں تک خراب ہو گئے کہ اکثر مراکز میں پتا ہی نہیں ہوتا تھا کہ کوئی ڈاکٹر تعینات ہے بھی یا نہیں۔

بنیادی مراکز صحت پر یہ حالات تھے اور دوسری طرف آبادی میں بے تحاشا اضافہ، سڑکوں کے جال اور موٹر سائیکل و کار کی فراہمی نے ضلع اور تحصیل لیول پر کام کا بوجھ بہت بڑھا دیا تھا۔ وہاں ڈاکٹرز کی انتہائی قلت تھی۔ پچاس سے سو مریضوں کے اکثر وارڈز میں سپیشلسٹ ڈاکٹر تو موجود ہوتا لیکن اس کے ساتھ میڈیکل افسر نہ ہوتے۔ شیخوپورہ کے ضلعی ہیڈکوارٹر میں 2007 میں دس سے زائد وارڈز اور پانچ سو سے زائد ان ڈور مریضوں کے لیے صرف سترہ میڈیکل افسر تھے۔ اس قلت کو سامنے رکھتے ہوئے 2008 میں پورے پنجاب میں ہر مہینے واک ان انٹرویو کی بنیاد پر ایڈہاک ڈاکٹرز بھرتی کیے گئے اور ان کے لیے عمر کی حد بھی ختم کر دی گئی۔

اس نا انصافی اور ورک لوڈ نے ڈاکٹرز میں بے چینی کی لہر پیدا کر دی۔ ان میں گروپ بندی اور سیاست بڑھتی گئی۔ کام کی مجبوری سے افسران اور حکومتیں بھی ان سے صرف نظر کرنے لگیں۔ یہاں ایک اور برائی کا آغاز ہوا۔ ڈاکٹرز نے دباؤ ڈال کر ہفتے کے چھ دنوں میں 36 گھنٹے کی ڈیوٹی کو ڈیڑھ دن کی حاضری میں منتقل کر لیا۔ انتظامیہ کی مجبوری تھی۔ شام اور رات کو کوئی ڈاکٹر ڈیوٹی کرنے کے لیے موجود ہی نہیں تھا۔ اب جو انسان چھتیس گھنٹے مسلسل کام کرے گا اس کے کام کی نوعیت کیا ہوگی؟ بتانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

نئی صدی کے آغاز میں اس کمی کا اندازہ ہو گیا تھا اس لیے پرائیویٹ کالجز کھولے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر ممالک میں بھی داخلے کا رجحان بڑھا۔

حکومتی نا اہلی، آبادی میں بے تحاشا اضافہ، غربت میں اضافہ، ادویات کی کمی، غیر معیاری میڈیکل کالجز، ڈاکٹر کی گروپ بندی اور افسران کی ملی بھگت کے ساتھ مراکز صحت کی بری کارکردگی نے اس شعبہ کا بیڑا غرق کر دیا۔ حکومت پر آئی ایم ایف کا دباؤ اب اسے مجبور کر رہا ہے کہ وہ ان مسائل کا کوئی حل ڈھونڈے۔ صحت کارڈ کا اجرا اس سلسلے کی ایک ایسی کڑی تھی جس نے لوگوں کا دھیان اصل مسائل سے ہٹا کر اس وقتی فائدہ کی طرف لگا دیا۔ اب اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے تمام ہسپتالوں کو ٹھیکے پر دینے (آؤٹ سورس کرنا) کا آغاز ہوا ہے۔ پہلے پہل لاہور کے کچھ بڑے ہسپتالوں کو آؤٹ سورس کر کے دیکھا گیا کہ ان کی کارکردگی بہتر ہو گئی ہے۔

پنجاب میں ’مریم نواز ہیلتھ کلینک‘ کی ابتدائی شکل ہمیں دسمبر 2024 میں نظر آنا شروع ہوئی۔ فروری تک پنجاب کے 150 بنیادی مراکز آؤٹ سورس کر دیے گئے۔ یکم جون سے مزید 975 شامل ہو گئے ہیں۔ ان ہسپتالوں میں کام کا طریقہ کار یہ ہے کہ ایک ڈاکٹر کو ایک مرکز ٹھیکے پر دے دیا گیا۔ اس نے کم از کم دو ایل ایچ وی، ایک ڈسپنسر اور ایک نائب قاصد اپنے ساتھ ملازم رکھنا ہے۔ ان ملازمین کو بھرتی کرنے اور نکالنے کا 100 فیصد اختیار اسی ڈاکٹر کے پاس ہے۔ ڈاکٹر کو ماہانہ کارکردگی کی بنیاد پر (pay for performance) ایک مخصوص رقم دی جاتی ہے۔ کارکردگی جانچنے کا معیار یہ ہے :

ایک نارمل پیدائش پر چھ ہزار پانچ سو روپیہ اور مختلف قسم کے مریض دیکھنے پر ایک سو سے چھ سو روپے دیے جاتے ہیں۔ اس رقم سے ڈاکٹر نے ان مریضوں کو ادویات بھی دینی ہے۔

گاؤں کے ان بنیادی مراکز صحت کا ڈھانچہ کچھ اس قسم کا ہے۔

ڈریپ کی منظور شدہ اور وارنٹی والی ادویات ڈاکٹر ماہانہ ملنے والی رقم سے خریدے گا اور اس کا حساب رکھے گا۔ سارا سامان جس میں الٹراساؤنڈ مشین بھی ہے حکومت مہیا کرے گی۔

24 گھنٹے ہسپتال کھلا رہے گا اور کم از کم عملہ موجود ہونا چاہیے حکومت نے ایک مرکز صحت کو مہینے میں 30 نارمل ڈلیوری کا ٹارگٹ دیا ہے اور کم از کم 1940 مریض دیکھنے ہیں۔ سختی اس قدر ہے کہ 10 سے کم ڈلیوریز پر انکوائری لگ جاتی ہے۔ پانچ سے کم پر معاہدہ منسوخ اور ڈاکٹر کو بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔ دوسری طرف اگر ڈاکٹر تیس سے زیادہ ڈلیوریز کر لیتا ہے یا اس سے زیادہ مریض دیکھتا ہے تو اس کا کوئی اضافی فائدہ نہیں دیا جائے گا۔ مرمت اور دیکھ بھال کے لیے صرف 25 ہزار ماہانہ دیا جائے گا اس 25 ہزار میں ڈاکٹر نے خاکروب، مالی اور چوکیدار بھی رکھنا ہے۔ ہسپتال میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ اور مشینوں کی خرابی کو بھی ٹھیک کروانا ہے۔

ڈاکٹر کی ڈیوٹی تو صبح اٹھ سے دو بجے تک رکھی گئی ہے لیکن ہسپتال 24 گھنٹے کھلا رہے گا اس دوران ہونے والی ادویات اور دیگر سامان کی چوری کا ذمہ دار ڈاکٹر ہو گا اور اس کا نقصان اسے بھرنا پڑے گا۔

یہ وہ ادارے ہیں جہاں پچھلے 40 سال میں صحیح طریقے سے کام نہیں ہوا۔ کبھی ادویات نہیں، کبھی ڈاکٹر غیر حاضر اور کبھی عملہ نہیں۔ اب یہ بدنامی بھی ڈاکٹرز کی جھولی میں ڈال دی گئی ہے کہ یہ ہسپتال پرائیویٹ ہو گیا ہے۔ مریض ڈر کے مارے ادھر منہ نہیں کر رہے۔ ان حالات میں مریضوں کو ہسپتال تک لانا اور خصوصی طور پر انہیں بچے کی پیدائش کے لیے تیار کرنا بہت مشکل ہے۔ پرانا عملہ جس کا مقامی آبادی میں کچھ اعتماد بنا ہوا تھا وہاں سے نکال لیا گیا ہے۔ جبکہ نئی لیڈی ہیلتھ وزیٹرز جو ڈاکٹرز رکھ رہے ہیں وہ پوری طرح تربیت یافتہ نہیں۔ ’مریم نواز کلینک‘ کا بڑا ٹارگٹ ماں اور بچے کی صحت ہے۔ اس کام کے لیے پورے کا پورا عملہ بالکل نیا ہے اور شرط یہ ہے کہ کام پہلے کریں پھر معاوضہ ملے گا۔

ان مراکز صحت میں سب سے بڑا مسئلہ سیکیورٹی کا ہے۔ ڈاکٹر اور عملہ زیادہ تر باہر سے آتا ہے۔ مقامی چودھراہٹوں اور بدمعاشوں سے ان نئے لوگوں نے نمٹنا ہے۔ پہلے دور میں اگر عملے کی کسی سے ان بن ہو جاتی تو زیادہ سے زیادہ اس کی ٹرانسفر ہوتی تھی اب معاہدہ منسوخ ہو جائے گا اور ڈاکٹر بلیک لسٹ۔ اس لیے علاقے کے گندے لوگوں کی بلیک میلنگ زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ابھی چار ماہ ہوئے ہیں اور چھوٹی سی شکایت جیسے حفاظتی ٹیکہ لگنے والی جگہ پر سوجن اور پیپ پڑنے پر ڈاکٹرز کی انکوائری لگا دی گئی اور مہینے میں پانچ سے کم ڈیلیوری کرنے والے ڈاکٹرز کو معاہدہ منسوخ کرنے کی وارننگ دی گئی۔ ایل ایچ وی نے جعلی انٹری ڈال دی اور ڈاکٹر کو نکال کر رجسٹریشن کینسل کرنے کی سفارش بھی کر دی گئی۔ اب خود سوچیں دو تین ماہ میں ایک میل ڈاکٹر کہاں سے اتنی خواتین کو ڈھونڈ کر لائے کہ وہ پیدائش کروانے پر راضی ہو جائیں۔ (جو مراکز آؤٹ سورس ہوئے ان میں تقریباً ستر سے اسی فی صد میں میل ڈاکٹرز کام کر رہے ہیں )

یہ ساری سزائیں ان غلطیوں پر ہو رہی ہیں جو کہ اس سے پہلے ان اداروں میں بہت عام تھیں۔

ایک اور اہم بات: پیدائش کے عمل کے دوران اگر ناکامی ہوئی ہے تو اس مریض پر آنے والے اخراجات کسی مد میں شامل نہیں ہوں گے اور ان تمام ادویات کا نقصان ڈاکٹر کو اپنی جیب سے دینا پڑے گا۔

سب سے مشکل کام ان تمام مریضوں اور ادویات کو روزانہ کی بنیاد پر آن لائن اپ ڈیٹ کرنا ہے۔ خود سوچیں ایک ڈاکٹر جس نے اپنی تعلیم کے دوران اس کام کے بارے میں پڑھا نہیں، اسے کوئی ایسی ٹریننگ بھی نہیں دی گئی وہ یہ سارے کام کیسے کرے گا؟

سب سے بڑا مسئلہ جس کا ڈاکٹرز کو سامنا کرنا پڑے گا وہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن سے اپنے ادارے کا لائسنس لینا ہے۔ ان کی شرائط پورا کرنا ایک عذاب ناآگاہ و ناآسودہ ہے اور ان اخراجات کی مد میں ڈاکٹر کو کچھ نہیں ملنا۔

ایک ڈاکٹر جو کہ تین ماہ کام کرنے کے بعد اس معاہدے سے دستبردار ہو گیا اس سے ہم نے وجہ پوچھی۔ جواب ملا ساری خَجِل خواری کے بعد شاید کسی ماہ تمام ٹارگٹ پورے ہو جائیں تو ڈیڑھ سے دو لاکھ بچ جائیں لیکن کام 24 گھنٹے کرنا پڑتا ہے۔ اگر نہ بھی کریں تو ذہن ہسپتال میں ہی رہتا ہے۔ ہم نے کہا ایک نئے گریجویٹ کے لیے بہت مناسب آمدن ہے اور آپ علاقے میں متعارف بھی ہو رہے ہیں۔ جواب ملا تین ماہ میں اتنے زیادہ مسائل اور ٹینشن کا سامنا کرنا پڑا کہ میرا وزن سات کلو کم ہو گیا۔

ہاں! ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ ایف سی پی ایس کی انڈکشن میں بنیادی مرکز صحت میں کام کرنے کے نمبر سب سے زیادہ ہیں جو کہ پہلے ان سیٹوں پر مستقل ڈاکٹرز کی موجودگی میں بہت کم لوگ حاصل کر سکتے تھے۔ اب جو کام کرے گا وہ فائدہ اٹھا لے گا۔ یاد رہے کہ ڈاکٹرز میں بے روزگاری کی شرح اتنی زیادہ ہے کہ ایک ’مریم نواز ہیلتھ کلینک‘ کے حصول کے لیے چودہ سے زائد درخواست گزار موجود ہیں۔ متعلقہ حکام نے کسی ڈاکٹر کے چھوڑ کر جانے کی صورت میں دوسری اور تیسری آپشن بھی اپنے پاس محفوظ رکھی ہے۔

عملی طور پر یہ نظام بہت سی مشکلات ساتھ لایا ہے۔ دو سو سال پرانا نظام بدلنا آسان کام نہیں۔ اب یہ حکومت کے سوچنے کا کام ہے کہ اسے کیسے کامیاب کرنا ہے؟ حکومت کے پاس زیادہ سے زیادہ چار سال ہیں۔ اسے عوام کے پاس جانا ہے۔ اُن عوام کے پاس جن میں اس کی پذیرائی پہلے ہی کم ہے۔

سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دنیا! ہالی وڈ کا اسٹوڈیو بن گئی ہے
  • قدرت کا نازک رقاص
  • وہ پچھلے موڑ پر اس راستے
  • جب ساتھ چراغوں کے، پرچھائیاں چلتی ہیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مقبوضہ علاقوں کے باسیوں کی زندگی
پچھلی پوسٹ
کمال کردے او بادشاہو

متعلقہ پوسٹس

خوشی کی انتہا

جنوری 4, 2022

مسجود ملائک اور درد دل

جنوری 30, 2022

پیٹرول کا نیا بوجھ – عوام کا مسئلہ

اپریل 3, 2026

سنترپنچ

فروری 4, 2020

فراوانی سے قلت کا سفر!

اکتوبر 14, 2023

بندگی و الوہیت

دسمبر 29, 2024

اے ہَوا تُو ہی نہیں میں بھی ہوں

جون 13, 2020

کام

جنوری 10, 2021

کرونا کی وبا: کیا حکومتی اعداد و شمار صحیح ہیں؟

اپریل 6, 2020

قصیدہ شریف

اکتوبر 12, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

عاشقی خانہ بدوشی میں کٹی

مئی 4, 2020

دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم

جون 9, 2020

لہو لہو سا منظر دکھائی ریتا...

اگست 23, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں