111
وہ پچھلے موڑ پر اس راستے سے ہٹ چکا تھا
میں آنکھیں بند کر کے جس کے پیچھے چل رہا تھا
تشخص کھو رہے تھے ہم بدلتے پانیوں سے
ہمارا ہر تنا پھیلاؤ میں ہم سے جدا تھا
محبت بیچ میں دیوار آنے سے ہوئی تھی
کہ ہم دونوں کا قد دیوار سے تھوڑا بڑا تھا
کسی کے اک قدم سے راستوں نے سمت پائی
کسی کی اک جھلک سے پورا آئینہ بنا تھا
اندھیرا بڑھ رہا تھا عمر کی کچی سڑک پر
سفر لازم تھا سو رفتار کو کم کردیا تھا
وہ باتیں ختم ہونے پر خدا حافظ نہ کہہ دے
میں باتیں کرتے کرتے آف لائن ہوگیا تھا
وہ کمرا تھا کہ ویرانی بھرا سینہ تھا حارثؔ
وہ اک کونے میں بکسہ تھا کہ دل رکھا ہوا تھا
حارث بلال
