خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباآزادی کی حنوط شدہ لاش!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

آزادی کی حنوط شدہ لاش!

از سائیٹ ایڈمن اگست 22, 2022
از سائیٹ ایڈمن اگست 22, 2022 0 تبصرے 37 مناظر
38

ہم اللہ رب العزت کا جتنا شکر ادا کریں وہ کم ہوگا کہ اس نے ہمیں رہنے کیلئے دنیا جہان کی نعمتوں سے لبریز ایک خطہ زمین ہمارے آباءو اجداد کی قربانیوں کی بدولت عطاء فرمایا ۔ اس خطہ کی آزادی کی ضرورت کیوں پیش آئی یہ ایک الگ داستان ہے جس پر اللہ تعالی نے موقع دیا تو پھر کبھی تفصیل سے لکھیں گے ۔ ہم ہندوستان میں ایسے دو پاٹوں میں پس رہے تھے جہاں ناصرف مذہبی بلکہ نظریاتی مفادات کو بھی بری طرح سے مسخ کیا جارہاتھا ۔ مسلمانوں سے انکی سال ہا سال سے ہندوستان پر حکمرانی کا بدلہ لیا جارہا تھا اور ایسا بدلہ لیا گیا کہ ہم حکمرانی کےلئے پیدا ہونے والے غلام بن کر رہ گئے ۔ ہم نے احتیاطوں کے، مصلحتوں کے اتنے طوق اپنی گردنوں میں ڈال لئے کے گردن کو اٹھنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا اور ہماری سوچ بھی محکوم ہوکر رہ گئی ۔

پاکستان کو ہندوستان سے نکلے (نئی نسل کیلئے لفظ نکلے کی وضاحت کرتے چلتے ہیں کیونکہ مسلمان درحقیقت برصغیر کے حکمران تھے لیکن سازشوں کے ایسے جال بنے گئے کہ جس میں بری طرح پھنس کر اقتدار و اختیار ہاتھ سے ریت کی مانند جاتے دیکھتے رہے اور سوائے اسکے کے نئے سرے سے آزادی کی تحریک چلائی جائے کچھ نہیں کر سکتے تھے)یا آزاد ہوئے پچھتر سال ہونے کو آگئے ہیں اور پاکستانی قوم اس کا جشن ِ خاص(ڈائمنڈ جوبلی) منانے کی تیاریوں میں مشغول ہے، پاکستانی قوم ہر سال بھرپور طریقے سے آزادی کا جشن مناتی ہے اور ہر سال پچھلے سال سے زیادہ رقم خرچ کرنے کا ریکارڈ بھی قائم کرتی ہے ۔ بھوک و افلاس کی ماری یہ قوم پاکستان کی آزادی کا جشن منانے سے کبھی بھی نہیں چوکی، یہ اپنے دلوں میں جلتی ہوئی آزادی کی شمع کو کسی حال میں بجھنے نہیں دینا چاہتی بھلے انکی زندگیوں کے چراغ ہی کیوں نا گل ہوجائیں ۔ آج تک زندگی کی بنیادی ضروریات ہی میسر نہیں آسکیں ۔ قوم کی وطن عزیز پاکستان سے اس والہانہ اور اندھی محبت کی پیش نظردشمن نے بڑی خاموشی سے اور منظم طریقے سے ملک کو نقصان پہنچایا ہے ۔ ہم پاکستانیوں کو ایک عرصے تک تو علیحدگی کی خوشی مناتے گزر گئی اور خوشی منانے میں اتنے مگن ہوئے کہ ایک مخصوص ٹولے نے تمام وسائل پر اغیار کی مدد یا پھر سرپرستی کی بدولت قبضہ کرلیا ۔ لوگ جشن ِ آزادی مناتے رہے اور وطن عزیز سے محبت کا ثبوت دیتے رہے اور یہ سمجھتے رہے کے پاکستان کی آزادی سے انہیں ایک آزاد مملکت ایک آزاد خطہ زمین مل گیا ہے ۔ اس بات کا احاطہ کرنا ذرا مشکل ہے کہ یہ مخصوص ٹولہ حقیقت میں کس کا ساتھ دینے والا ہے اور کس کو آنکھیں دیکھانے والا ہے ۔ قوم کی معصومیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ انکی حب الوطنی کو سیاسی بازیگروں نے اپنے سے منسوب کرا لیا اور اپنی حمایت کرنے والوں کو حب الوطنی کے اسناد دئیے جانے لگے ۔ مختلف مکتبہ فکر کے لوگ پاکستان کی نومولود انتظامیہ کی کشتی میں سوار ہوگئے جہاں اس بات کا تعین کرنا ناممکن ہوگیا کہ کو ن پاکستان کا حامی ہے اور کون پاکستان کا مخالف ہے ، اسلئے اس بحث نے بھی سر اٹھایا کہ پاکستان میں کون سا حکومتی نظام راءج کیا جائے گا جس پر بانی پاکستان سے جب پوچھا گیا کہ پاکستان کس نظام حکومت یا طرز حکومت کی پیروی کرے گا تو بانی پاکستان محمد علی جناح ٰ;231;نے واشگاف الفاظ میں بتایا کہ جو نظام چودہ سو سال قبل دنیا کے لئے نور ہدایت بن کر آسمان سے اتارا گیا اور جس کا نفاذ حضرت محمد ﷺنے ریاست مدینہ میں کیا اور وہ نظام آدھی سے زیادہ دنیا پر نافذ رہا ۔ یہ وہ نظام تھا کہ جس نے دنیا کو منظم کیا اور فلاح کی صحیح تشریح کر کے عملی طور پر دیکھائی ۔ لیکن اغیار کیلئے پاکستان مخالفین کیلئے سب سے بڑھ کر اسلام دشمنوں کیلئے تو یہ بات کبھی بھی قابل قبول نہیں ہوسکتی ہے ۔ تو یہ بحث تاحال پچھتر سال گزر جانے کے بعد بھی جاری ہے ۔

پاکستان آزاد ہوگیا اور پاکستان کیلئے جدوجہد کرنے والوں کو رہنے کیلئے ایک الگ خطہ زمین فراہم کردیا گےا ۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو آزاد کردیا گیا اور آزادی کو آزاد سرزمین پر پہنچتے ہی وہاں پہلے سے موجود کچھ بیرونی اہلکاروں نے پھٹے پرانے اور ٹوٹے پھوٹے لوگوں سے آزادی یہ کہہ کر لے لی گئی کہ پہلے ذرا اپنے پیروں پر کھڑے ہوجاءو اپنے آپ کو سنبھال لو پھر یہ آزادی لے لینا گویا آزادی کو قید ہوگئی اوراسے مصر میں رکھی گئی ممی کی طرح حنوط کرکے رکھ دیا گیا،وقت اور حالات اجازت نہیں دے رہے تھے ورنہ باقاعدہ طور پر اس آزادی کا گلا اسی وقت دبا دیا جاتا، ویسے ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کی طاقت کسی میں نہیں تھی ورنہ ایسا ہی کرتے ۔ آستین کے سانپوں کا ڈسا ایسے مرتا ہے کہ بس زندوں کی فہرست سے نکال دیا جاتا ہے ۔ پھٹے پرانے اور لٹے پٹے لوگوں کو ان کی زندگی کی بقاء کی جنگ میں دھکیل دیا گیا اور وہ بیچاروں کی کیفیت والے ششو پنج میں مبتلاء آزادی کو بھول کر اپنی اور اپنے لوگوں کی زندگی کی بقاء کی جنگ میں کود پڑے ۔ یہی ان گھس بیٹھیوں کی سب سے پہلی فتح تھی پھر کیا تھا یہ لوگ جیت کا جشن مناتے رہے اور ہم پاکستانی اپنی زندگیوں کی بقاء کی جنگ میں ایسے کودے کہ پھر پلٹ کا کچھ دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملا ۔ ہم پر مسلط ہونے والوں نے ہماری مجبوریوں سے خوب فائدہ اٹھایا اور ہماری پریشانیوں میں کمی کرنے کی بجائے ہماری کوئی داد رسی کرنے کی بجائے انہوں نے انہیں پروان چڑھانے کا بیڑہ اٹھا لیا یعنی مشکلات میں اضافہ کرتے چلے گئے ، ہماری زندگیوں کو بے نور کرتے گئے اور دنیا کی روشنیوں سے اپنی زندگیاں منور کرتے چلے گئے ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی حکومت ، حکومتی امور چلانے کیلئے قرضے مانگتی رہتی ہے لیکن عوام کا ایک خاص طبقہ اپنی بھرپور زندگیاں گزارتا چلا جا رہا ہے ۔

آزادی کی حنوط شدہ لاش اسی دن سے اپنے حقیقی ورثہ کی منتظر ہے(جنہیں زندگی کی بقاء کی جنگ میں دھکیل دیا گیا تھا) وہ راہ دیکھ رہی ہے کہ کب اسے آزاد کرایا جائے تاکہ وہ ہ میں آزاد آب و ہوا کا احساس دلاسکے ، ہمارے حقیقی حقوق تک رسائی دلا سکے، انصاف دلا سکے ، ہمارے دئیے گئے محصولات کا حساب دلا سکے، ہمارے علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرا سکے، ہ میں پاکستان کی حقیقی آزادی کا سجدہ شکر بجا لانے کی توفیق دلا سکے ۔ خدارا ذرا سوچیں تو صحیح کہ ہم کب آزاد ہیں ہم تو غلاموں کے غلام بن کر اپنا اپنا مقرر شدہ وقت اس پاک سرزمین پر بوجھ بن کر گزار رہے ہیں ۔ ہماری آزادی کو عبرت بنانے کی کوشش کی گئی اور اگر سمجھا جائے تو اس میں کافی حد تک کامیابی بھی ہوگئی ۔ ہم پچھتر سال سے آزادی کی لاش اپنے کاندھوں پر لئے گھوم رہے ہیں ۔ دنیا کے ٹھیکےدار دنیا کو پر امن بنانے کی باتیں کرتے ہیں اور حقیقت میں ترقی کی اصل ضامن امن و امان ہی ہے ۔ لیکن معلوم نہیں کیوں دنیا کے ان منصفوں کو کشمیر اور فلسطین میں ہونے والے انسانیت سوز مظالم دیکھائی نہیں دیتے ۔ یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ فلسطین اور کشمیر میں چلنے والی آزادی کی تحریکیں واضح ہیں انکا دشمن انکے سامنے ہے افسوس ناک خبر یہ ہے کہ ہمارے دشمن نے ہ میں ایک الگ زمین دے کر ہم میں سے اپنے لوگ چن کر ہ میں انکی غلامی میں دے دیا ۔

ہمارے حکمران جو گاڑیوں کے غول میں گھومتے پھرتے ہیں جن تک رسائی عوام کیلئے ممکن ہی نہیں ہوتی ، ہم کہاں آزاد ہیں ۔ آج جب آگہی کا سورج طلوع ہوا ہے جب یہ سمجھ میں آنا شروع ہوا ہے کہ کوئی تو ہے جو ہماری محنت کا صلہ ہم سے پہلے ہی لئے جارہا ہے ۔ یہ کیسی آزادی ہے کہ کبھی صحافت آزادی کا نعرہ لگاتی سڑکوں پر روندی جاتی ہے، کبھی سیاسی جماعتوں کو آزادی کی جدوجہد کیلئے جیلوں میں دھکیل دیا جاتا ہے ، کبھی اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ملک اسلام کیلئے قید خانہ بنا دیا جاتا ہے ، کبھی حقوق نسواں والے ادھم مچا تے دیکھائی دیتے ہیں ، کبھی صوبوں تو کبھی زبانوں اور کبھی علاقوں کی آزادی کی جدوجہدہوتی دیکھائی دیتی ہے ، کبھی قانون اپنی بیچارگی کا ماتم کرتا دیکھائی دیتا ہے تو کبھی عوام کی جان و مال کے رکھوالے اپنی آزادی کے درپے ہوتے ہیں ۔ تدریسی عمل اپنے نفاذ کیلئے تاحال تگ و دو میں مصروف عمل ہے ۔ آزادی کو تو حنوط شدہ لاش بنا کر رکھ دیا گیا تھا ۔ آئیں اس حنوط شدہ لاش کے حقیقی وارث ہونے کا ثبوت دیں اورسب سے پہلے اپنی صفوں میں سے کالی بھیڑوں کو نکالیں ۔ سوائے اسکے اور کوئی حل نہیں کے اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی اطاعت کا مکمل یقین رکھتے ہوئے انکا نظام قائم کیا جائے اور ہر قسم کے غم و خوف سے پاکستان اور پاکستانیوں کو آزاد کیا جائے ۔ آخر ہم کب تک اس گھٹن زدہ ماحول میں سانس لیتے رہینگے ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جنوبی پنجاب میں سیلاب
  • قرآن کے نغماتی اعجاز
  • ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا امتحان
  • عافیت میں بھی طبلِ جنگ رہا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بساط پہ اک نظر
پچھلی پوسٹ
یوم آزادی اور آزادی

متعلقہ پوسٹس

اپنے آبأ کا گھر بیچنا ہے

نومبر 14, 2025

تجھے اپنے دل میں بسائیں گے ہم

جولائی 18, 2021

ونائل ریکارڈ

نومبر 24, 2024

ہوا سے دوستی ہم کو

جون 10, 2024

مخلص نہیں ہیں آپ شکایت نہ کیجیے

ستمبر 19, 2020

تکبر کا انجام

جولائی 24, 2020

حدیث کی اقسام

جنوری 22, 2023

نوجوان نسل اور روشن مستقبل

مارچ 9, 2026

پاکستان: چیلنجز اور مواقع

اکتوبر 27, 2025

میں نے کیا غلط کیا تھا، اماں؟

اپریل 28, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

عباس تابش ـ ایک مطالعہ

نومبر 3, 2020

کہنو مجنوں کے مرنے کی

جولائی 5, 2024

نہ رنجشیں، نہ شکایت ہے

ستمبر 24, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں