خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابانومی
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرقاضی عبد الستار

نومی

از قاضی عبد الستار فروری 5, 2022
از قاضی عبد الستار فروری 5, 2022 0 تبصرے 71 مناظر
72

وہ عجیب تھی۔ جسم دیکھیے تو ایک لڑکی سی معلوم ہوتی، چہرے پر نظر ڈالیے تو بالکل بچی سی دکھائی دیتی اور اگر آنکھوں میں اترجائیے تو ساری سموچی عورت انگڑائیاں لیتی ملتی۔ وہ سرخ اونچا سا فراک اور سیاہ سلیکس پہنے جگمگارہی تھی اور سیاہ گھنگھرالے بالوں کو جھٹک جھٹک کر ’’جیپ‘‘ میں اپنے سامان کاشمار کر رہی تھی اور میرے سامنےایک دوپہر کھلی پڑی تھی۔اس نےآنگن میں قدم رکھتے ہی اپنی ممی سے بھیا کے لیے پوچھا تھا۔ اونچے بغیر آستین کے بلاؤز اور نیچی چھپی ہوئی ساڑی میں کسی بندھی آنٹی نے،جنھیں ابھی اپنے بدن پر ناز تھاچمک کر بھیا کومخاطب کیا،’’نومی پوچھ رہی ہے کہ تم کون ہو؟‘‘

بھیا نے اداس چہرے پر سلیقے سے رکھی ہوئی رنجور آنکھیں چشمے کے اندر گھمائیں۔ روکھے سوکھے بالوں پر دبلا پتلا گندمی سا ہاتھ پھیرا۔ انکل نے بڑے سے بیگ کو تخت پر پٹکا۔ پیک تھوکنے کے لیے اگلدان پر جھکے اور بھیا بھاری آواز میں بولے۔ بھیا کی آواز ان کی شخصیت کو اور منفرد بنادیتی ہے۔ غم میں بسی ہوئی کھوجدار آواز سے ہلکا ہلکا دھواں سا اٹھتا رہتا ہے اور جسے سن کر اجنبیت احساس کمتری بن جاتی ہے اور خواہ مخواہ متعارف ہونے کو جی چاہتا ہے،’’بہت چھوٹی سی تھی جب دیکھا تھا اس نے‘‘

اور نومی کو اس طرح دیکھا جیسے کیلنڈر کو دیکھ رہے ہوں۔ جواب اس طرح دیا جیسے آنٹی سے کہہ رہے ہوں اسے بکس میں رکھ لیجیے ورنہ خراب ہوجائے گا دیہات میں، اور نومی بے چاری بھیا کی آواز میں شرابور کھڑی تھی۔ اس کی نظریں بھیا کے چہرے میں پیوست ہوچکی تھیں۔ انکل پکا گانا گانے والوں کی طرح کھنکار کر بولے،’’بیٹی۔۔۔ میں نے تمہیں بتایا تھا کہ وہاں گاؤں میں جہاں تم شادی میں جارہی ہو تمہارے ایک کزن ہیں جو بہت سی کتابوں کے ’’آتھر ہیں۔۔۔ وہی تو ہیں یہ۔‘‘

بھابی جو نند کی شادی میں بھیا سے زیادہ اپنا آپا کھوئے بیٹھی تھیں ایک طرف سے بڑبڑاتی نکلیں اور بھیا کو لیے دوسری طرف چلی گئیں اور بھیا نے بے خیالی میں بھی، نومی کی نگاہیں بھی اپنے ساتھ ہی لیے چلے گیے۔ اور وہ بے چاری خالی خالی آنکھیں لیے گم سم کھڑی رہی،’’جلدی کیجیے۔۔۔ پانی لداکھڑا ہے۔‘‘ پھاٹک سے کسی نے ہانک لگائی۔ میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ سارے میں سیاہ جامنی بادل چھائےہوئے تھے اور اندھیرا پھیلا ہوا تھا جیسے سورج کی بجلی فیل ہوگئی ہو۔ اس دن بھی ایسا ہی دل مسوس ڈالنے والاموسم تھا۔

ابھی بارات آنےمیں کئی دن باقی تھے لیکن مکان کا کوناکونا مہمانوں سے چھلک پڑا تھا۔ نہ کہیں تل رکھنےکی جگہ تھی اور نہ کسی کو دم مارنے کی مہلت۔ ایک تو برسات کی شادی وہ بھی دیہات میں اور دیہات بھی ایسا کہ سڑک پر ’’جیپ‘‘ دھنسی کھڑی ہے اور نکالنے کے لیے بیلوں کی جوڑیاں بھیجی جارہی ہیں۔ کام تو جیسے آسمان سے پانی کی طرح برس رہاتھااور بھیا کا یہ حال تھاکہ پاویں تو اپنی کھال تک اتار کر اپنی بہن کے جہیز میں دے ڈالیں۔ ابھی جوڑے نہاررہے ہیں۔ ابھی ’’تخت وار‘‘ دیکھ رہے ہیں۔ ابھی شامیانے کےقناتوں کے انجام پر سوچ رہے ہیں۔ میں پیڈاور قلم لیے موجود رہتی۔ خطوط پر چے اور یادداشتیں لکھنے کو حاضر رہتی۔ دالان میں یہاں سے وہاں تک چوکا لگا تھا۔ ٹوٹی پھوٹی بیبیاں سالخوردہ کپڑوں کے بجھے رنگوں میں اپنا بھرم بنائے خاموشی سے کھانا کھا رہی تھیں۔ چمچے پلیٹوں سے ٹکراتے، خاموشی کھنک اٹھتی تو عجیب سا لگتا۔ کہ بھیا باہر سے آگیے۔

’’ارے یہ ہماری نومی جی جی کھڑی کیوں ہے۔‘‘

نومی ایک ایک ستون کے پہلو میں کھڑی پلیٹ میں چمچا گھمارہی تھی۔ اس نے مڑ کر بھیا کو دیکھا۔ بھیا کے بالکل پیچھے آکر اس کی پلیٹ میں جھانکنے لگے اورنومی جاگ اٹھی۔ کھل گئی۔ لو دینے لگی۔ گردن پیچھے جھکاکر اپنے ڈھیروں بال بھیا کے سینے پر انڈیل دیے اور آنکھوں میں آنکھیں رکھ دیں۔ بھیا بچوں کی طرح پلکیں جھپکانےلگے اور نومی کی آنکھوں کو اپنی کھوئی ہوئی نظریں مل گئیں۔ کسی نے بھیا سے کھانےکو پوچھا تو کہیں دور سے آواز آئی،’’نہیں باہر تو نہیں کھایا میں نے۔‘‘

اور نومی بیسیوں کی صف چیر کر ایک پلیٹ میں الم غلم بھر لائی اور ایک چمچہ ان کے منہ کی طرف بڑھایا۔ بیسیوں کے وجود پر منڈھی ہوئی نیستی کی چادریں مسک گئیں۔ ہونٹوں کی بھولی بسری مسکراہٹیں یاد آنے لگیں۔ بھابی نے یہ تماشا دیکھا تو ایک کرسی لاکر رکھ دی۔ نومی نے ٹھنک کرکہا،’’نئیں نئیں۔۔۔ میں اپنے بھیا کو بوفے کھلاؤں گی۔‘‘ اور بھیاسچ مچ سعید بچوں کی طرح کھاتے رہے۔ دکھوں کے دلدل میں گردن گردن تک دھنسی ہوئی زندگیاں جو خوشی کے بہانوں کے انتظار میں بوڑھی ہوگئی تھیں، اس معمولی سے مذاق پر خوب ہنسیں۔ آنٹی کے تو اچھو لگ گیا۔ بھیا قہقہوں میں بھیگ گیے۔

اب رخصت ہونے والوں اور رخصت کرنے والوں کی بھیڑ چھوٹے سے جلوس کے مانند ڈیوڑھی سے نکل رہی تھی۔ گوری چٹی، گول مٹول آنٹی جیسے پھوٹی پڑ رہی ہوں بھیا ان کو پہلو میں لیے آرہے تھے جیسے پگھلے جارہے تھے اور نومی بغیر کسی مصروفیت کے مصروف لگ رہی تھی۔ دور سے آتی ہوئی باتوں کی پھوار سے اپنا آپ بچائے پھر رہی تھی اور اس کی آنکھیں جن میں بڑے بڑے ہاتھی ڈوب جاتے اور گہری ہوگئی تھیں اور میری یادوں کی فلم میں نئی ریل لگ گئی تھی۔

رات چڑھ چکی تھی۔ باہر سے گانےبجانے کی آوازیں آرہی تھیں۔ لڑکوں کے قہقہے سارے میں پھیلے ہوئے تھے۔ گاؤں کی عورتیں شوخ رنگ کے کڑھے ہوئے پیٹی کوٹ اور سنتھٹک ساڑیاں پہنےگہرا اور بھدا میک اپ کیے اپنے بدنما زیوروں اور خوشنما جسموں کی پریڈ کر رہی تھیں۔ ان کی آوازیں ’’سیلزمین‘‘ کی مصنوعی مسکراہٹ کی طرح شوخیوں سے سجی ہوئی تھیں۔ ’’مایوں‘‘ بیٹھی ہوئی آپا کی صحنچی کے سامنے ان کا ایک گروہ پچمیل آواز میں گیت گا رہاتھا اور میں سمجھنےکی کوشش کر رہی تھی۔ صحن میں پلنگوں کی قطاریں بچھی تھیں۔ کونےکے تخت پر پچیسی ہو رہی تھی اور اودھم مچا ہوا تھا۔ نومی کے قہقہے دھنک میں سرخی کی طرح نمایاں تھے۔ بھابی اپنے بچوں کو سلانے کےلیے لاٹھی چارج کر رہی تھیں کہ بھیا آئے اور سرجھکائے ہوئے زینے کی طرف جانے لگے کہ آنٹی نےآواز دی۔

’’رشن!۔۔۔ شطرنج کھیلو گے۔‘‘

بھیا جہاں تھے وہیں جم گیے۔ آنٹی کےاٹھتے ہی شور ہوا۔ لڑکیاں بھرا مار کر زینے کی طرف دوڑیں جیسے شطرنج نہیں مجرا ہونے جارہا ہے۔ بھیا کے کمرے میں جہاں بھابی تک بغیر اجازت اور ضرورت کے داخل نہ ہوتی تھیں، طوفان مچ گیا۔ تخت پر بھیا اور آنٹی شطرنج لے کر بیٹھ گیے اور لڑکیاں جہاں تہاں سماں گئیں۔ بھیا کی پشت پر دیوار تھی۔ داہنی طرف گاؤ۔ بائیں طرف نومی۔ دیوار میں لگے لیمپ کی گلابی روشنی میں سب کچھ پراسرار سا معلوم ہو رہا تھا ہر مہرے کے پٹنے پر مات کی طرح شور مچتا۔ نومی، چونچال نومی آہستہ آہستہ جگہ بنارہی تھی اور پاؤں پھیلا رہی تھی۔ بھیا نے چونک کر دیکھا، ان کے زانو پر نومی کے بال ڈھیر تھے۔ پھر بھیا کا ہاتھ بالوں پر لرزنے لگاجیسے وہ نومی کےنہیں خود انھیں کے بال ہوں۔ پھر اچانک بھیا نے ہاتھ کھینچ لیا اور جگہ ڈھونڈ کر تخت پر رکھ دیا۔ نومی نےپھر کروٹ لی اور نوکیلے سرخ ناخنوں سے سجی ہوئی انگلیاں بھیا کے ہاتھ کی ابھری رگوں پر لرزنےلگیں جیسے تھکے ہوئے سرخاب جھیل میں تیر رہے ہوں۔ پھر لیمپ بھبک کر گل ہوگیا۔ سب ہڑبڑاگیے۔ جب روشنی ہوئی تو دوہ گھٹنوں پر کھڑی بھیا کے بائیں شانے سے لگی ہوئی تھی اور بھیا کا چہرہ تمتما رہاتھا۔ آنکھیں بساط پر لیکن نگاہیں کہیں اور تھیں۔ آنٹی نے تالی بجاکر شور مچایا۔ بھیا وہ بازی بھی ہار گیے تھے۔

’’تم آج بھی میری ہار پر اس طرح خوش ہوسکتی ہو یہ معلوم نہ تھا ورنہ بہت پہلے ہارچکا ہوتا۔‘‘بھیا نے پہلی بار آنٹی کو تم کہا تھا۔ آنٹی بجھ گئی تھیں اور ان کی نظریں معافی مانگ رہی تھیں اور بھیا کے ہونٹوں نے جلدی سے اپنی پرانی مصنوعی مسکراہٹ پہن لی تھی۔

جلوس جیپ کے گرد آکر منتشر ہوگیا تھا۔ میں سب سے الگ کھڑی سب کے چہروں سےدلوں کے مضمون پڑھ رہی تھی۔ انکل نے اسٹیرنگ سنبھال لیا۔ انجن غرانے لگا۔ آنٹی بھیاکے پہلو سے پھسل کرانکل کے پاس بیٹھ گئیں۔ بھیا نے جھک کر ان کی ساڑی کافال ہک سے چھڑادیا۔ آنٹی اورگلابی ہوگئیں اور پرس سے گاگلز نکال کر جلدی سے آنکھیں جھپکالیں۔نومی بیتی رات کے باسی آنسوؤں سے چمچماتی آنکھیں سب کے چہروں میں چھپاتی گھوم رہی تھی لیکن بھیا کے پاس اس طرح گزر جاتی جیسے وہ بھیا نہیں کوئی اجنبی ہوں اور بھیا تو اس کے لیے اجنبیوں سے بھی بدتر ہوگیے تھے۔

اس رات پانی آفت مچائے تھا اور میراثنیں قیامت ڈھائے تھیں۔ پرنالوں اور گیتوں کے شور میں نہ کچھ سنتے بنتا تھا اور نہ سوچتے۔ میری نگاہ اوپر اٹھ گئی۔ بھیا کے کمرے میں تیز روشنی ہو رہی تھی۔ معلوم نہیں وہ کس وقت باہر سےآگیے تھے۔ میں بھیگتی بھاگتی اوپر پہنچی تو دیکھا نومی بھیا کی مسہری پر دونوں تکیے پشت سے لگائے کتابیں اور رسالے پھیلائے بھیا ہی کی طرح نیم دراز ہے۔ مجھے دیکھتے ہی گھبراگئی جیسے چوری کرتے پکڑی گئی ہو۔ بھیاکا البم بھینک کر کھڑی ہوگئی۔

’’آپا۔۔۔ آئیے۔‘‘

میں نے اسے مسہری پر بٹھادیا اور خود نیچی کرسی پر بیٹھ گئی۔ اور اسے دیکھنے لگی جو شفق کی طرح شوخ اور شاداب تھی۔ سرمے کی لکیریں لپ سٹک کی تازگی، روز کا غبار، بغیر شمیز کے کلف لگے کرتے کی استری، جلد بدن بنایا ہوا پائجامہ، گلے میں سرخ دوپٹے کامفلر، بالوں میں پھول کی طرح کھلی ہوئی سرخ ربن کی گرہ۔ وہ سر سے پاؤں تک بے پناہ تھی۔

’’آپا۔۔۔ میں بھیاکی کتابیں پڑھتی ہوں لیکن سمجھ میں نہیں آتیں۔‘‘

اتنے میں بھیگے ہوئے بھیا آگیے۔

’’ارے تم لوگ ابھی تک جاگ رہی ہو بھائی۔‘‘انہوں نے کھونٹی سے سلیپنگ سوٹ اتار لیا۔

’’آپ کو نیندآرہی ہے؟‘‘ بھیا نے جواب میں مڑ کر نومی کو دیکھا اور میں نے انھیں، آنکھیں اسی طرح رنجور اور معصوم اور نگاہ اسی طرح بے نیاز۔

’’نہیں تو۔۔۔ لیکن کیوں؟‘‘اور وہ پردے کے پیچھے کپڑے بدلنےچلے گئے۔

’’میں آپ سے پڑھوں گی۔‘‘

’’کیا پڑھو گی بھائی؟‘‘

’’آپ ہی کو پڑھوں گی۔‘‘

وہ اس طرح جواب دے رہی تھی جیسے وہ بھیا سے نہیں اپنی ہمجولی سے مخاطب ہو۔

’’اور جو نیند آئی تو۔۔۔؟‘‘

’’تو۔۔۔ یہیں سو جاؤں گی، اسی تخت پر۔‘‘

بھیا پردے سے باہر نکل آئے تھے۔ ہونٹوں پر اسی غمناک مسکراہٹ کی مہر لگی تھی۔

’’اور آنٹی کہیں گی میری بیٹی کو تخت پر لٹاکر اکڑا دیا۔‘‘

’’میں صرف آپ کی آنٹی کی بیٹی نہیں ہوں۔۔۔ نومی بھی ہوں۔‘‘

میں سن ہو کر رہ گئی۔ پھر میں نے سنا۔ نیچے سے کوئی مجھے چیخ چیخ کر پکار رہاتھا، میں اٹھی تو بھیا نے حکم دیا۔

’’جی جی! تم بھی یہیں لیٹنا آکر۔‘‘

جب میں واپس آئی تو دیکھا لیمپ جل رہا ہے۔ شیڈ بھیاکی طرف ہے۔ تخت پرنومی سو رہی ہے اور اس کے بدن کی قیامت جاگ رہی ہے۔ میں نے اس کا کرتا نیچے کھینچ دیا اور کرسی کا گدا سرہانےرکھ کر اسی کے پاس لیٹ رہی۔ آنکھیں بند کیے مردوں کی طرح پڑی رہی۔ پھر نہ جانے کیوں خراٹے لینے لگی جن کی شکایت آج بھی نومی نے کی تھی۔ میں آپ ہی آپ مسکرادی پھر چہرے پر بازو موڑ لیا۔ ایک آنکھ کھول کر دیکھا۔ بھیا اسی طرح دیوار کی طرف منہ کیے چپ چاپ پڑے تھے۔ پھر اچانک نومی نے مجھے جھنجھوڑا۔

’’آپا۔۔۔ اےآپا۔‘‘

میں اسی طرح خراٹے لیتی رہی۔ وہ چھلاوے کی طرح اٹھی اور بھیا کی مسہری پر۔ بھیا اٹھے، چشمہ لگایا اور اب نومی ان کے گلے میں بانہیں ڈال چکی تھی،’’مجھے ڈر لگ رہا ہے۔‘‘وہ بھیا کے گریبان سے بولی۔ اس کے گھونگھرالے بالوں پر بھیا کا ہاتھ آہستہ سےلرزا۔ میں اتنی دور سے بھی ان کے ہاتھ کی ٹھنڈک محسوس کر رہی تھی۔ پھر بھیا نے مجھے پکارا۔ میں سوتی بنی رہی۔

’’نومی جی جی!۔۔۔ اٹھ کر بیٹھو۔۔۔ مجھ سے باتیں کرو۔‘‘ وہ تھوڑی دیر مچلتی رہی۔ پھر ان کی گود میں پھیل گئی۔بھیا نے اسے بستر پر رکھ دیا۔ لیمپ کا شیڈ گھمایا۔

’’نومی جی جی!‘‘اس نے آنکھیں کھول دیں۔۔۔ جیسے کہہ رہی ہو جی!اور میں حیرتوں میں ڈوب گئی۔ وہ آنسوؤں سے تربتر تھیں۔

’’تمہارے ڈیڈی مجھ سے چند سال بڑے ہیں لیکن تمہاری ممی مجھ سے کئی سال چھوٹی ہیں۔‘‘

اس نے آنکھیں بند کرلیں جیسے کہہ رہے ہوں شٹ اپ!

’’تم نومی ہو جس نےکلکتہ کے ایک مشہور کانونٹ سے کیمبرج پاس کیا ہے۔ جو اپنے میگزین میں کہانیاں لکھتی ہے۔ جوراک اینڈرول جانتی ہے۔ لیکن میں اس نومی کو نہیں جانتا۔ میں تو ایک ہی نومی کو جانتاہوں، جو میری بہت پیاری بہت ہی پیاری آنٹی کی سب سے بڑی اور سب سے دلاری بیٹی ہے۔ یہ جو جی جی لیٹی ہے یہ بھی مجھے تمہاری طرح عزیز ہے اور یہ بالکل سو رہی ہے۔ تم باتیں کرو۔‘‘

’’کچھ بولو۔۔۔ نومی بیٹی۔‘‘

وہ آندھی کی طرح اٹھی اور دھم سے تخت پر گر پڑی۔

’’نومی تم بھیا سے رخصت نہیں ہوئیں۔‘‘آنٹی کی دور سے چل کر آتی ہوئی آواز کوند گئی۔ وہ ایک طرف سے شعلے کی طرح لپکتی آئی،’’آپ کو آپ کی بہت پیاری، بہت ہی پیاری آنٹی نے تو رخصت کردیا۔‘‘

وہ اس ایک جملے کی گولی داغ کر مڑگئی کہ اگر کھڑی رہتی تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی اور پھر جیپ پر اس طرح سوار ہوئی جیسے جیکی گھوڑے چڑھتے ہیں۔ گرد کاایک بادل اڑاکر جیپ چلی گئی۔ بھیا اسی طرح کھڑے رہے رنجور خاموش اور کھوئے ہوئے۔ میں اس بادل کے متعلق سوچتی رہی جو بھابی کی بھری پری زندگی پر منڈلا گیا تھا اور جسے بھیا نے سگریٹ کے دھوئیں کی طرح اڑا دیا تھا اور جس کا علم تک بھابی کو نہ تھا۔ میں راز کےاس بوجھ کے نیچے کانپ سی گئی اور پھر میں بھیا کے متعلق سوچنے لگی کہ وہ کس کے لیے کیا سوچ رہے ہوں گے۔

قاضی عبد الستار

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دیپ جلتا ہوا دامن سے بجھایا ہم نے
  • ہر ایک سمت اندھیرا ہے
  • دل تو اجڑی ہوئی ریاست ہے
  • کرونا سے مکالمہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
قاضی عبد الستار

اگلی پوسٹ
نیا قانون
پچھلی پوسٹ
دیوالی

متعلقہ پوسٹس

خلوت سے ہو گیا ہوں

جون 27, 2025

اتنا ظرف ھو ابن آدم میں

ستمبر 3, 2025

گردشِ حال پر کتاب لکھوں

اکتوبر 21, 2025

ہوتی ہے شمعِ عشق فروزاں کبھی کبھی

نومبر 3, 2021

جھڑ گیا جسم مداوات نہیں کرتا میں

دسمبر 15, 2019

تمہارے ہوتے ہوئے جاں مری کو آیا دکھ

نومبر 30, 2021

آزمائش یا سزا ( پہلا حصہ)

جون 17, 2025

وہ آنکھ جس کو گہر کی تلاش رہتی ہے

دسمبر 15, 2019

رات بھر سبز مزارات نظر آتے رہے

مارچ 3, 2022

تو مری جان مرے دل ميں سمانا ،ہاں ناں

مئی 18, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

آج کل آزاد خیال لڑکیاں

اگست 5, 2020

جی میں پہلے سی تب وتاب...

جنوری 14, 2021

مجھ کو دے دے خوشی محبت...

مارچ 3, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں