106
کون کہتا ہے بار بار ملے
ایک لمحہ خوشی کا یار ملے
میرے ہونے کا مرثیہ لکھے
میرے رونے پہ اشک بار ملے
یار اک شخص اس جہان میں بھی
میرے ہونے کا دعویدار ملے
موت آنی ہے میں نے مانا پر
سانس لینے کا اختیار ملے
جس کو نفرت تھی مانگنے سے کبھی
اب وہ کہتا ہے کچھ ادھار ملے
آپ جیسا مجھے ملا ہی نہیں
میرے جیسے تو بےشمار ملے
منیر انجم
