خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابلوچستان: واپسی کا سفر شروع
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزسید محمد زاہد

بلوچستان: واپسی کا سفر شروع

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 24, 2021
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 24, 2021 0 تبصرے 90 مناظر
91

ہماری اسٹیبلشمنٹ کا ملک پر حکمرانی کا یہ تجربہ بھی بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ اس سے پہلے نامزد کردہ یا پھر طوعاً و کرہاً منظور کردہ، کسی بھی وزیراعظم سے ان کی بن نہیں پائی تھی۔ الزام ہمیشہ سویلین پر آتا رہا کہ اس ناکام محبت کی وجہ ان کی نا اہلی ہے۔ اس ناکردہ گناہ کے بوجھ تلے دبے سیاستدان اور عوام اگلے دس سال ’خاکی مار‘ برداشت کرتے تا وقت یہ کہ ان کا شوق چاروں شانے چت ہو جاتا اور عوامی دباؤ پر ٹوٹی پھوٹی معیشت کے ساتھ حکومت پھر عوامی نمائندوں کے حوالے کرنا پڑ جاتی۔

شکست پھر بھی نہ مانتے۔ تکفیر، سرکشی و نافرمانی اور بھارتی ایجنٹی کے الزامات کی مدد سے ان کی سازشیں پروان چڑھتی رہتیں۔ مفاد پرست الیکٹ ایبلز کی چمچہ گیری اور مذہبی انتہا پسندوں کی صحبت ان کے عزائم کو مہمیز کرتی۔ دھرنوں اور عدالتی پیشیوں کی معاونت حکومتوں کو مفلوج کیے رکھتی۔ پھر وہی کھیل کھیلا جاتا اور ایک شام کا آغاز 111 کے بوٹوں کی سلامی اور ’میرے عزیز ہم وطنوں‘ کی دھاڑ کے ساتھ ہوتا۔ عوامی نمائندوں کو کرپٹ، نا اہل اور غدار قرار دے کر ملک بدر کر دیا جاتا۔

پھر دس سال تک ملک میں لاقانونیت، قتل و غارت اور بم دھماکے جاری رہتے۔ کلاشنکوٖف، ہیروئن اور غیرملکی ایجنٹوں کی بھر مار سے ملک مفلوج ہو جاتا۔ سال ہا سال کی ناکام حکمرانی ملک کو ایک دن میں بائیس بائیس گھنٹے تک اندھیروں میں ڈبوئے رکھتی۔ کشمیر، ڈھاکہ، سیاچین اور کارگل کی مہم جوئیوں کے بعد یہ آمر عوام اور غیر ملکی آقاؤں کی نظر میں ناقابل اعتبار اور ناموزوں قرار پاتے۔ پھر وہی سانپ سیڑھی کا کھیل شروع ہوجاتا۔ الیکشن اور نا اہل، کافر، منکرین ختم نبوت، مرتد، غدار، مودی کے یار عوامی نمائندے۔

2018 کی پلاننگ 1992 کے بعد شروع ہو گئی تھی۔ ہمیں یاد ہے کہ جنگی اصطلاح میں ’فاتح عالم‘ قرار پانے والے کپتان کو کس طرح سرکاری پروٹوکول میں ضلع در ضلع متعارف کروایا گیا تھا۔ وہ بانکا سجیلا کپتان جس کی حسین قربتوں کے حسرت گزیدہ قریہ قریہ پائے جاتے تھے۔ وہ جس کی عظیم شخصیت کی تمکنت چاکلیٹ ہیرو وحید مراد کی کمی پوری کرتی تھی۔ گیند پھینکنے کے لیے دوڑتے وقت جس کی ناقابل رسا اڑتی زلفیں دیکھ کر کانچ کی چوڑیوں سے چھنکتی کلائیوں کی تیز نبض رک جاتی تھی۔

اس ہینڈسم کو کالجوں میں لایا گیا۔ چاہنے والوں نے ایک جھلک پانے کے لیے سونے کے کنگن اور ہار وار دیے۔ نظر نظر میں جھلکتی نارسا پرستشوں کی داستان پڑھ لی گئی اور دیوتا بنا کر پیش کر دیا گیا۔ پوجا کا پاٹ مکمل کرنے کے لیے مذہب کا تڑکا بھی لگا دیا گیا۔ اسلام کی ایک رعایت سے بہت سوں کا بھلا ہوا ہے۔ ”سب کچھ کرنے کے بعد کہہ دو کہ میں نے توبہ کر لی ہے۔“ دلوں کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے۔ بہشتی دروازے کی چوکھٹ پر ماتھا ٹیک دو، پیر بھی ساتھ ہو تو ریاست مدینہ کی نیو رکھنے کا نعرہ مستانہ بلند کرنے میں کمی کس چیز کی رہ جاتی ہے! اب پشتہ نہ بھیت اور نیا پاکستان اسارنا شروع۔

لیکن مملکت کے اسرار و رموز جاننا خلائی مخلوق کے بس کی بات نہیں ملکی تدبر و انتظام جاننے کو عرب لوگ سیاست کہتے تھے۔ اور یہ رموز جاننے والا سیاست دان کہلاتا ہے۔ ارسطو کے یونان میں ریاستوں کو پولس کہا جاتا تھا اور ان کے معاملات کو چلانے والے کو پولیٹیشن۔ یہ تدبر، یہ سیاست کسی ادارے میں نہیں سکھائی جا سکتی نہ ہی کوئی منظم ادارہ حکماً اس کا نفاذ کر سکتا ہے۔ یہ عوام میں جا کر ان کی خدمت کرنے سے ہی سیکھی جا سکتی ہے۔

پاکستان میں جو سیاست دان صرف جنازے اور شادیاں بھگتا لے وہ بہت کامیاب کہلاتا ہے۔ ہمارے ہینڈسم نے تو پورے دور حکومت میں صرف دو شادیوں میں حاضری دی۔ ایک اپنے مربی، بڑے صاحب کے بیٹے اور دوسری ملٹری سیکریٹری کی بیٹی کی۔ اپنی بھانجی کی شادی میں بھی شامل ہونا مناسب نہیں سمجھا۔ جنازوں سے تو بانکے سجیلے کا کبھی کوئی تعلق رہا ہی نہیں۔

نواب آف کالا باغ کے بیٹے ملک اعظم خاں، عمران خان صاحب کی نجی محفلوں کے میزبان تھے۔ بہت پہلے جب آتش جواں تھا، جب توبہ کی بجائے توبہ توبہ کی بلاخیز جوانیاں چہار اکناف تھرکا کرتی تھیں، خاں صاحب ان کے ہاں حاضری دیا کرتے تھے۔ ایسی ہی ایک ست رنگی شب کو جب خان صاحب ان کو میزبانی کا شرف بخشنے کے بعد بیڈ روم میں گوشہ نشین ہو کر لطف اندوز ہو رہے تھے، ملک اعظم کی وفات کی خبر ملی۔ ہمارے ہیرو نے یہ اطلاع ملتے ہی وہ جگہ چھوڑ دی۔ اسی وجہ سے ملک خاندان سے ہمیشہ کے لیے تعلقات منقطع ہو گئے۔ ایسا توہم پرست بندہ عوام میں اپنی مقبولیت کھو دیتا ہے۔

معیشت کو سنبھالنے والے ترین، زلفی وغیرہ وغیرہ اپنی معیشت بہتر کر کے رفوچکر ہو چکے ہیں۔ سول انتظامیہ کے سنگھاسن تبادلوں کے اڑن کھٹولے پر لگا دیے گئے ہیں۔ کام کرنے کا موقع ہی نہیں دیا جا رہا ۔ صرف وسیم اکرم پلس کا راگ ہی سنایا جا رہا ہے۔ کرپشن کی پردہ داری یوں کی جا رہی ہے کہ آڈٹ والوں کو حکم ہے کوئی پیراگراف نہیں لکھنا۔ مبادا کہ پریس والے وہ پروانہ لے اڑیں اور نام نہاد عزت بھی خاک میں مل جائے۔

اب اسٹیبلشمنٹ کا لانچ کردہ یہ مہرہ عوامی سطح پر بری طرح پٹ چکا ہے۔ تین سال کی بھرپور سپورٹ، پازیٹو رپورٹنگ، الیکشن کمیشن کا دست شفقت، عدلیہ کی سزائیں، نیب کے ناجائز ہتھکنڈے، اور سب سے اہم بنی گالا کے جن، کچھ بھی ملک چلانے میں مددگار نہیں ہوسکا۔ نفرت اور انتقام سے معیشت کی آبداری کرنے والے، کانٹوں کی فصل کاٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ بلوچستان کے روایتی اکھاڑے میں کھیل شروع ہو چکا ہے۔ گھوڑے اصطبل میں بند کر لیے گئے ہیں۔ اب کی بار اپنا چھانگا مانگا آباد کیا جا رہا ہے کیونکہ کوئی قابل اعتبار سویلین مل ہی نہیں رہا۔ کوئی نواز شریف یا زرداری اب کی بار سہارا نہیں دے رہا۔

وہ جو طعنے دیا کرتے تھے کہ اپوزیشن سویلین حکومتوں کو نقصان پہچانے والوں کا نام کیوں نہیں لیتی، اب دم سادھے بیٹھے ہیں۔ گوجرانوالہ کے جلسہ میں نام پکار دیے گئے۔ اسے غداری سے تعبیر کیا گیا۔ اب اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ بھی دائر ہو چکی ہے۔ الزام سیدھا سادا ہے۔ بال عدلیہ کی کورٹ میں ہے۔ عوامی لیڈر کھل کر کھیل رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے نمائندوں کو اپنی صفائی دینی ہے۔ خود ڈوبنا ہے یا سب کو ساتھ لے کر؟ فیصلہ انہوں نے ہی کرنا ہے۔

اب وقت ہے کہ اداروں کو بچایا جائے اور چند افراد (وہ افراد جنہوں نے شاید اگلے سال آسٹریلیا کے جزیروں میں جا بسنا ہے ) کی پسند ناپسند پر حکومتیں بنانے اور توڑنے کی بجائے عوام کے منتخب نمائندوں کو کام کرنے دیا جائے۔ بلوچستان میں آپ کچھ کریں یا نہ کریں، واپسی کا سفر شروع ہو چکا ہے۔ اصطبل سجا کر موجودہ حکومت کو شہادت کا موقع دیں اور نہ ہی ایک نئی مہم آرائی میں اپنے پاؤں گدلے کریں۔ سولین مدد کے بغیر سردار ذرا بھاری بھی پڑ سکتے ہیں۔ کل کلاں یہ رٹ بلوچستان ہائیکورٹ میں دائر ہو سکتی ہے۔ بلوچی وکیلوں اور قاضیوں سے ڈر بھی بہت لگتا ہے۔

اس حکومت کی فکر کرنا چھوڑ دیں۔ یہ اپنی منافقت، نفرت اور انتقام پر مبنی نا اہلی کا بوجھ مزید نہیں اٹھا سکتی۔ یہ اپنی موت آپ مر جائے گی۔ بس آپ دست شفقت اٹھا لیں، سیلوٹ کریں اور گھر جائیں۔

سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مخبر
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟
  • جنم دن اور زندگی کا سفر
  • سرخی میں جذب لمحے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
انگور – چھوٹی چیز بڑے فائدے
پچھلی پوسٹ
"فالسہ” موسم گرما کا معالج

متعلقہ پوسٹس

رات کی آغوش سے مانوس اتنے ہو گئے

مئی 7, 2020

جذبات کے اظہار

اپریل 1, 2023

اِک وقت سے سہما ہوا چہرہ

مارچ 19, 2022

اردو اور انگریزی انشاپردازی پر کچھ خیالات

جنوری 16, 2026

بوڑھا تھا مگر عین جوانی میں کھڑا تھا

نومبر 13, 2025

دل میں ہر آس کی تصویر

مئی 29, 2024

سمے کی کوکھ سے حیرت کا رنگ اترتا ہے

جنوری 11, 2020

غریب کی چائے

جنوری 31, 2020

کہی ہے پھر بھی اب تک ان کہی ہے

اکتوبر 16, 2025

ظفر ہیں نیلم و الماس پتھر ایک صانع کے

جون 3, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • ​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

    ستمبر 15, 2026
  • مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

    ستمبر 13, 2026
  • تقوی کی اعلی مثال

    ستمبر 10, 2026
  • آیت نور اور ڈارک ویب

    ستمبر 10, 2026
  • حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

    ستمبر 10, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار

اسلامی گوشہ

مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

ستمبر 13, 2026

تقوی کی اعلی مثال

ستمبر 10, 2026

سلام بحضور امام حسین (ع)

ستمبر 10, 2026

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

اردو شاعری

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

ستمبر 15, 2026

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

ستمبر 10, 2026

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا

ستمبر 10, 2026

قصّہِ پارینہ

ستمبر 5, 2026

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

تقوی کی اعلی مثال

ستمبر 10, 2026

آیت نور اور ڈارک ویب

ستمبر 10, 2026

جھکے گا ظلم کا پرچم

ستمبر 6, 2026

6 ستمبر 1965

ستمبر 5, 2026

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • ​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

    ستمبر 15, 2026
  • مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

    ستمبر 13, 2026
  • تقوی کی اعلی مثال

    ستمبر 10, 2026
  • آیت نور اور ڈارک ویب

    ستمبر 10, 2026
  • حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

    ستمبر 10, 2026
  • سلام بحضور امام حسین (ع)

    ستمبر 10, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

آج میرا خیال؟ یا حضرت

دسمبر 16, 2021

دیپِ اُلفت مجھے جلانا ہے

اپریل 30, 2020

وحشتیں ہیں چار سُو

جولائی 6, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں