خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباآبروئے غزل
آپکا اردو بابااردو تحاریرتحقیق و تنقیدمقالات و مضامین

آبروئے غزل

از سائیٹ ایڈمن فروری 21, 2021
از سائیٹ ایڈمن فروری 21, 2021 0 تبصرے 78 مناظر
79

آبروئے غزل ۔۔۔ خمارؔ بارہ بنکوی کے یوم وفات پر خصوصی پیشکش

خمارؔ بارہ بنکوی کے قریب بیٹھنے اور انکا کلام سن نےکی سعادت خاکسار کیلئے خوش نصیبی کی بات رہی ہے۔ زیادہ خوش نصیب اور مقرب وہ لوگ سمجھے جانے چاہئے جنہوں نے خمار صاحب کی زبان سے ایسے الفاظ بھی سنے ہیں جن کے بارے میں جاسوسی ادب کے مشہور مصنف ابنِ صفی کا قول ہے کہ وہ اگر پتھر پر رکھ دئے جائیں تو پتھرریزہ ریزہ ہو جائے۔ہم اہلِ بارہ بنکی کو اس بات پر بجا طور پر فخر ہے کہ ساری دنیا میں جہاں جہاں اردو سے محبت کرنے والے لوگ ہیں وہاں وہاں بارہ بنکی کانام خمارؔ صاحب کی معرفت پہونچا ہے۔ خمار بارہ بنکوی کا اصل نام محمد حیدرخاں تھا۔ ان کی پیدائیش 15 ستمبر 1919 کو صوبہ اودھ کے بارہ بنکی شہرمیں ہوئی ۔ اس دور کے مطابق اردو اور فارسی کی تعلیم گھر پر ہی ہوئی۔ انٹر میڈیٹ کے درجے میں پہونچے ہی تھے کہ بقول ان کے ایک ’ لطیف حادثے ‘سے دو چار ہو گئے۔ یہیں سے تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو گیا اور شعر گوئی کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اگر چہ ان کے ہم عصروں نے احتراماََ اس ’ لطیف حادثے کی تفصیلات کے ذکر سے گریز کیا ہے ،لیکن غالب امکان ہے کہ یہ حادثہ عشق کا رہا ہو گا۔
اب کچھ ان کے خاندان کے ادبی پسِ منظر کے بارے میں جس میں ان کی شخصیت پروان چڑھی تھی۔ ذاخر ؔ لکھنوی لکھنئو کے مشہور و معروف خاندان اجتہاد کے ایک منفرد اور ممتاز مرثیہ گو شاعر تھے۔ اردو کے علاوہ انہیں عربی اور فارسی زبان پر بھی قدرت تھی۔khumar bankviاگرچہ دیگر اصناف کو ترجیح نہ دیکر انہوں نے مر ثیہ گوئی کو موضوع سخن بنایا تھا لیکن ان کا اردو شعراء کے اساتذہ میں اہم مقام تھا۔ا ن کے شاگردوں میں علی حیدر قرارؔ بارہ بنکوی بھی شامل تھے۔قرارؔ بارہ بنکوی کے برادر خورد اور شاگرد بھی غلام حیدربہارؔ بار ہ بنکوی تھے ۔ انہیں بہارؔ بارہ بنکوی کے فرزند محمد حیدر خمار بارہ بنکوی اور کاظم حیدر نگارؔ بارہ بنکوی تھے۔عم محترم کی خمارؔ کی تربیت پر پوری توجہ اور خمار صاحب کے شاعری کی طرف فطری رجحان نے اپنا اثر دکھایا اور خمارؔ صاحب فن شاعری کی باریکیوں سے جلد ہی واقف ہو گئے۔ قرار صاحب قدیم اور استادانہ رنگ میں اشعار کہتے تھے۔ اس دور کے مشاہیر شعراء ان کے پاس آتے رہتے تھے۔ ان آنے والوں میں جگرؔ مراد آبادی بھی شامل تھے، وہ جگر صاحب سے بہت متاثر ہوئے۔ 1945 میں قرار بارہ بنکوی صاحب کا انتقال ہو گیا۔1946 میں خمار صاحب کا پہلا شعری مجموعہ ’ حدیثِ دیگراں‘ کے نام سے شائع ہواجس کے دیباچے میں وہ اپنی شاعری کے متعلق رقم طراز ہیں۔
’’ یوں تو تقریباََ پندرہ سولہ برس کی عمر سے شعر موزوں کرنے لگا تھا، لیکن شعر کیا ہے؟ شعر کے مطالبات کیا ہیں؟ ان تمام باتوں کا علم اس وقت ہواجب زندگی کی خوشگوار تلخیوں سے واسطہ پڑا۔ جملہ اصنافِ سخن کا تجزیہ کرنے پر میں نے اپنے جذبات اور محسوسات کے اظہار کے لئے صنفِ غزل کو سب سے زیادہ موزوں اور مناسب پایا۔چنانچہ تین نظموں کے علاوہ جو کچھ بھی لکھا غزلوں کی شکل میں لکھا۔ ابتدا میں کچھ دنوں تک اپنا کلام عمِ مرحوم قرارؔ بارہ بنکوی کو دکھایا لیکن بعد میں اپنے ذوقِ سلیم کو اپنا مصلح بنایا۔‘‘
خمارؔ صاحب نے کم عمری میں ہی مشاعروں میں پڑھنا شروع کر دیا تھا پہلے مشاعرے میں پڑھا جانے والا مطلع تھا۔
واقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سے
اس راز کو پوچھو کسی برباد نظر سے
اس طرح 1940 میں جب کہ خمار کی عمر تقریباََ 21برس تھی اور ان کی شاعری میں کافی حد تک پختگی آ چکی تھی۔ اور مشاعروں میں کافی مقبولیت بھی حاصل ہوتی جا رہی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب حسرتؔ موہانی، فانیؔ بدائیونی،ثاقب لکھنوی، عزیزؔ لکھنوی، سیمابؔ اکبر آبادی اور جگرؔ مراد آبادی جیسے کلاسیکل غزل کے بڑے شعراء موجود تھے۔ بعد میں شکیلؔ بدائیونی، شعریؔ بھوپالی، انورؔ مرزاپوری اور فنا ؔنظامی بھی ان میں شامل ہو گئے۔ اتنی سخت مسابقت اور نا مساعد حالات میں خمارؔ صاحب کا اپنی جگہ بنا پا نا ایک معجزہ سا لگتا ہے۔ در اصل مشاعروں میں چوتھی دہائی سے ہی ترنم اور آہنگ پر زور دیا جاناشروع ہو گیا تھا۔ جگر صاحب بھی اپنے والہانہ کلام اور والہانہ طرز ترنم کی وجہ سے مشاعروں پر چھائے ہوئے تھے۔ اسی دوران ترقی پسند تحریک کا غلغلہ بلند ہوا اور بہت اچھی غزل کہنے والے شعرا جیسے مخدومؔ محی الدین ، فیض احمد فیضؔ اور مجازؔ بھی اس میں شامل ہو گئے۔ اور غزل کو بے وقت کی راگنی تک کا جانے لگا۔ اس دور کے متعلق خمار صاحب کے الفاظ ہیں۔
کوئی اے خمارؔ ان کو مرے شعر نذر کر دے
جو مخالفین مخلص نہیں معترف غزل کے
’’ وقت گزرتا گیا غزل کے محا فظین ایک ایک کر اللہ کو پیارے ہو گئے اور غزل پر برا وقت آگیا لیکن ساتھ ہی ساتھ ترقی پسند تحریک کا زور بھی گھٹ گیا اور غزل کے مخالفین خود غزل کہنے لگے۔‘‘
خمارؔ بارہ بنکوی کی غزلیں موسیقیت اور آہنگ سے بھر پور ہیں ۔ زیادہ تر غزلیں مترنم بحروں میں کہی گئیں ہیں۔ ان کی لگاتار بڑھ تی مقبولیت کی یہ بھی ایک وجہ تھی ۔ وہ مشاعروں پر چھا جاتے تھے ان کے پڑھے گئے اشعار عوام اور خواص کو زبان زد ہو جاتے تھے۔ اور گلیوں بازاروں میں سنائی دینے لگتے تھے۔ان کی شاعری سہل ممتنع کی مثال ہے۔، زبان کی نفاست اور سادہ بیانی کی بھی۔
کہیں شعر و نغمہ بن کے کہیں آنسوئوں میں ڈھل کے
وہ مجھے ملے تو لیکن ملے صورتیں بدل کے
یہ وفا کی سخت راہیں یہ تمہارے پائے نازک
نہ لو انتقام مجھ سے مرے ساتھ ساتھ چل کے
یہ چراغِ انجمن تو ہیں بس ایک شب کے مہماں
تو جلا وہ شمع اے دل جو بجھے کبھی نہ جل کے
٭
حال دل ان سے کہہ چکے سو بار
اب بھی کہنے کی بات باقی ہے
٭
محبت میں کسی سے مل کے چھٹ جانا بس ایسا ہے
کہ جیسے نزع کی جاںکاہیوں کو جاوداں کر لیں
٭
خمارؔ ان کے گھر جا رہے ہو تو جاو
مگر راستے میں زمانہ پڑے گا
اپنی غزل کی شاعری کے متعلق خود ان کی رائے ہے ’’ جب تک انسان ہنسنا اور رونا جانتا ہے اس وقت تک کلاسیکی غزل بھی زندہ رہے گی۔ میں نے اس کے حسن و جمال میں کوئی اضافہ تو نہیں کیا مگر اس پر آشوب دور میں اس کے خد و خال کی آب و تاب کم نہیں ہونے دی۔‘‘ غزل کے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک درد مند دل بھی رکھتے تھے اسکا ثبوت ان کے تقسیم ملک کے دوران 1947 میں اور اسکے بعد بھی ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے مواقع پر کہے گئے ان کے اشعار ہیں۔
وقت نے انگڑائی لی ہے آج کل
چشمِ ساغر میں نمی ہے آج کل
کاش لفظوں میں بھی ہو سکتا بیاں
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے آج کل
زندگی کا ذکر کیا اس دور میں
موت بھی سہمی ہوئی ہے آج کل
٭
تاریخ کے اوراق پہ لکھا ہے لہو سے
انسانوں کو انسان سے اللہ بچائے
٭
چراغوں کے بدلے مکاں جل رہے ہیں
نیا ہے زمانہ نئی روشنی ہے
٭
اور انکا یہ شعر تو موجودہ حالات کے تناظر میں کہا گیا محسوس ہوتا ہے۔
نسبت تو چمن سے رکھتے ہیں ارباابِ چمن پر بار سہی
پھلوں کو مبارک رعنائی ہم خار اگر ہیں خار سہی
خمارؔ بارہ بنکوی کی توجہ یوں تو مشاعروں پر مرکوز تھی لیکن انہوں نے فلمی دنیا سے بھی گریز نہیں کیا غالباََ 1942-43 میں انھیں مشہور ہدایت کار کاردار نے اپنی فلم میں گیت لکھنے کا کام سونپا۔ انھوں نے کئی فلموں میں نغمے لکھے اور ایک کامیاب نغمہ نگار ثابت ہوئے ’’ اے دلِ بے قرار جھوم، تصویر بناتا ہوں تصویر نہیں بنتی، بھلا نہیں دینا جی بھلا نہیں دینا، جیسے گیت آج تک گنگنائے جاتے ہیں۔ فلمی دنیا میں جانے کی وجہ سے انکی شہرت اور مقبولیت میں تو اضافہ ہوا لیکن ان کی ادبی حیثیت کو اس کا نقصان اٹھانا پڑا۔ بین الاقوامی شہرت کے باوجود فلمی شاعر سمجھ کر نقادوں نے ان کو نظر انداز کیا اور ان کے کلام کو قابلِ اعتنا نہیں سمجھا۔حالانکہ ان کے کلام کا ادبی اور فنی جائزہ لئے جانے کی ضرورت ہے جس سے ادب میں ان کے صحیح مقام کا تعین ہو سکے۔
خمار ؔ بارہ بنکوی کی خدمات کے اعتراف میں انھیں کئی قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا۔جیسے اتر پردیش اردو اکادمی، اردو سینٹر کینیا، اکادمی نوائے میر عثمانیہ یونی ورسٹی حیدر آباد،ملٹی کلچرل سینٹر کناڈا،ادبی سنگم نیو یارک سے انہیں معتدد اعزاز ملے۔ 1992 میں دبئی میں اور 1993 میں ان کے وطن بارہ بنکی میں جشنِ خمار کا احتمام کیا گیا۔پروفیسر ملک زادہ منظور صاحب کا جن کو بے شمار مشاعروں میں خمار بارہ بنکوی کو دعوتِ سخں دینے کی سعادت حاصل رہی ہے، کہنا ہے ’’ خمار صاحب کم و بیش نصف صدی سے مشاعروں کا جزو لا ینفک رہے ہیں۔ ان کے کلام کی سادگی۔ ان کے پڑھنے کا انداز اور ان کا مخصوص ترنم اپنے اندر دلوں کو فتح کر لینے کا سامان رکھتا ہے مگر ان سب پر ان کا حسن اخلاق، چھوٹوں پر ان کی شفقت اور بڑوں کا احترام سب سے زیادہ کشش کا سبب بنتا ہے‘‘
خمار صاحب کشادہ قلب، نیک دل اور دوست انسان تھے۔ قلندرانہ مزاج رکھتے تھے جسکا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ باوجود فلمی دنیا سے وابستہ ہونے، نصف صدی سے زیادہ ہندوستان اور ساری دنیا میں مشاعروں کے بے تاج بادشاہ سمجھے جانے اور عوامی طور پر آبروئے غزل کے خطاب سے سرفراز ہونے کے باوجود ساری عمر کرائے کے ایک چھوٹے سے مکان میں گذار دی۔ عمر کا بیشتر حصہ رندی اور سرمستی میں گذارنے کے بعد آخر میں تائب ہوئے۔ عمرے کا شرف بھی حاصل کیا۔ تغزل سے شروع ہوا سفر تقدس پر تمام ہوا۔
گذر ا شباب دل کو لگانے کے دن گئے
جشن ِ نیاز و ناز منانے کے دن گئے
خوفِ خدا نے پائوں میں زنجیر ڈال دی
کوئے بتاں میں ٹھوکریں کھانے کے دن گئے
آخر میں کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوئے ، ایک سال کی طویل علالت کا دور کافی تکلیف دہ رہا۔ لکھنئو میڈیکل کالج میں داخل ہونے کے بعد 19 فروری1999 کو اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔ویسے تو خمار صاحب کی غزلوں کی مقبولیت ان کی حیات میں ہی نقطئہ عروج تک پہونچ گئی تھی۔ جو کہ آج تک قائم ہے، ان کے بے شمار اشعار لوگوں کو یاد ہیں اور آج انٹرنیٹ کے دور میں انکے اشعار نوجوان نسل کے محبت کے پیغامات کا اہم حصہ ہیں۔ انکے مجموعے حدیثِ دیگراں، رقصِ مے، آتشِ تر موجود ہیں ، ان کے علاوہ انکے فرزند زادے فیضؔ خمار جو کہ خمار صاحب کے انداز اور ترنم میں کلام سناتے ہیں اور خمار صاحب کی یاد تازہ کر دیتے ہیں۔ خمارؔ بارہ بنکوی صاحب کو ان کی غزلوں کے حوالے سے عرصئہ دراز تک یاد رکھا جائیگا۔

اختر جمال عثمانی۔بارہ بنکی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کثیف روحیں
  • ماڈل ٹاؤن
  • کراچی کا جلتا ہوا سوال
  • اب کہ ‘میں تم’ کو
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کچھ دن اسیرِ خواہشِ نان و نمک رکھا
پچھلی پوسٹ
21 فروری عالمی یوم مادری زبان!

متعلقہ پوسٹس

سلام کرنے کی فضیلت

اکتوبر 6, 2024

یوم عہد وفا – 14 اگست

اگست 14, 2020

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

جو سایوں کی وادی میں چلے

نومبر 3, 2019

کیا اسلام دین، ہندو ہی تھا؟

جون 14, 2020

وجدان کا نکاح

جولائی 31, 2022

سلسلہ وار شجر کٹتے

نومبر 11, 2025

‪فوتگی کا مینیو

دسمبر 18, 2025

آخری ہدایت

جنوری 4, 2022

آزادی کی حنوط شدہ لاش!

اگست 22, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اس کی ادا ادا میں جو...

اکتوبر 11, 2025

لگ رہی ہے کچھ گلابی شام...

اکتوبر 10, 2025

کیا کروں اے خدا نہیں جاتا

جولائی 11, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں