خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکہیں ہم نافرمانوں میں تو نہیں !
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

کہیں ہم نافرمانوں میں تو نہیں !

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 2, 2020
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 2, 2020 0 تبصرے 31 مناظر
32

کہیں ہم نافرمانوں میں تو نہیں !

ہر آنے والا دن گزرے ہوئے دن سے بد تر ہونے کا احساس دلاتا ہے ۔ بنیادی طور پر سارا فساد معیشت کیلئے ہے ، یہ انفرادی پیٹ و دیگر آسائشوں کے حصول سے شروع ہوتا ہے اور اجتماعیت کی سرحدوں سے ٹکرا جاتا ہے ، گوکہ تاحال انسانی خواہشات کی کوئی متعین نہیں کی جاسکی ہے ۔ معیشت کے استحکام کیلئے ایک دوسرے کی ذاتی ملکیت پر قبضہ کرنے سے لیکر پورے پورے ملکوں پر قابض ہونے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی رہی اور یہ سلسلہ ابھی جارہی ہے ۔ ترقی یافتہ دور میں قبضہ کرنے کیلئے بے تحاشہ ایسی ایجادات موجود ہیں کہ جن سے بغیر تخریب کاری کئے اپنے ممکنہ احداف حاصل کئے جاسکتے ہیں ۔

واصف علی واصف ; فرماتے ہیں کہ عطاء کو اپنی مرضی سے استعمال کرنے والاعام طور پر خطاکر جاتا ہے،اس لئے عطا کی ہوئی شے کو عطا کرنے والے کی رضا کیمطابق استعمال کروورنہ عطا ء سے الگ کر دئیے جاءو گے ۔

کسی بات کا وقت پر سمجھ آجانا اور اسکو سمجھ کر اس پر عمل کرنا کٹھن اور مشکل ہوتا ہے ۔ بچپن میں جب طرح طرح کی چیزیں نظروں کے سامنے آتی ہیں تو معصوم سا دل کرتا ہے کہ یہ سب کچھ اسے مل جائے ، کبھی کبھی تو یہ دل بہت ضد بھی کرتا ہے اور جسکے نتیجے میں اسے اپنے خول یعنی جسم کی مرمت بھی کروانی پڑ جاتی ہے ، پھر کہیں جاکے جز وقتی قرار آتا ہے ۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب نا تو طاقت ہوتی ہے ، نا اختیار اور نا ہی خریداری کیلئے رقم دونوں کیلئے کسی کے محتاج ہوتے ہیں اور یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہوتے ہیں کہ کس وجہ سے اس چیز سے باز رکھا جا رہاہے ۔ پھر وقت گزرتا ہے جب طاقت آجاتی ہے کسی حد تک اختیار بھی آجاتا ہے لیکن رقم محدود بلکہ قلیل میسر ہوتی ہے لیکن جن چیزوں سے پہلے روکا گیا تھا انکی سمجھ آجاتی ہے پھرنئی روک ٹوک پرانی روک ٹوک کی جگہ لے لیتی ہے جو کہ بہت ناگوار گزرتی ہے اور اپنے مطالبات کے رد ہوجانے پر مختلف قسم کے احتجاج شروع ہو جاتے ہیں اور احتجاج کی نوعیت مطالبے سے براہ راست مطابقت رکھتی ہے یعنی جتنا شدید مطالبہ ہوتا ہے اتنا ہی شدت سے بھرپور احتجاج ہوتا ہے ۔ اب وہ وقت آجاتا ہے جب طاقت ، اختیار ، دولت اور سب سے بڑھ کر من چاہی زندگی گزارنے کا اختیار آجاتا ہے ۔ اب تقریباً ساری روک ٹوک کسی کتابوں کی الماری میں رکھی ہوئی کتاب کی طرح دماغ میں سمائی ہوتی ہے ، یہاں سے وہ سلسلہ شروع ہوتا ہے جب آپ کسی کیساتھ وہ سب کچھ جو آپ پیچھے جھیلتے آئے ہو کسی اور کیساتھ کرنا ہوتا ہے ۔ آج سب چیزوں کی ترتیب واضح ہوتی دیکھائی دیتی ہے او رکبھی تنہائی میں بیٹھے ہوئے زیر لب خود بخود مسکراہٹ زیر لب پھیل جاتی ہے جیسے کوئی بچپن کی بہت ہی معمولی سی چیز کیلئے کی جانے والی ضد کے بدلے میں مرمت کا یا پھر کسی اور طرف دھیان بانٹنے کا یاد آجانا ۔ وقت کا پہیہ گھومتا چلا جاتا ہے آگے والے بہت آگے چلے جاتے ہیں پیچھے والے آگے آجاتے ہیں اور انکے پیچھے اور نئے لوگ آجاتے ہیں ۔ اس ساری گفتگو میں انسان کی نافرمانی بنیادی جز ہے جو ایک نا فرمانی (بطور بیج زمین میں دفن کیا جاتا ہے )کے نتیجے میں وقت آنے پر ایک درخت کی صورت اختیار کر چکا ہوتا ہے ۔

یقین سے لکھ رہا ہوں کے تقریباً ہم سب ہی اپنی اپنی نافرمانیوں کی شناخت بہت آسانی سے کرسکتے ہیں اگر کرنا چاہیں ، ہم سب ہی ایک نامعلوم بھاگ دوڑ میں مگن ہیں اور یہ جاننا بھی نہیں چاہتے کہ آخر اس بھاگ دوڑ سے سوائے تھکن کے اور کیا ملنے والا ہے ۔ البتہ اس تیز ی سے گزرتے وقت میں ہمارے کتنے ہی ہم سے بچھڑ جاتے ہیں اور پھر ہم انکے بچھڑجانے کے غم میں کئی کئی دن تک مبتلا ء رہتے ہیں اب اگر یہی وقت انکی زندگی میں انہیں دے دیا ہوتا تو اس طرح سے بیٹھ کر ہاتھ نا مل رہے ہوتے ۔

گوکہ خالق کائنات جس کے قبضے میں ہم سب کی جان ہے ایک نقطہ نواز ہے جیسے چاہتا ہے اسکے لئے بخشش کا سامان پیدا کردیتا ہے ۔ بخشنے کیلئے کبھی راستے سے ہٹائے ہوئے پتھر کی عوض تو کبھی قبر پر ایک مٹھی مٹی ڈالنے کی بدولت بخش دیتا ہے بس اپنے فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ فلاح شخص کو جنت میں داخل کردو ۔ رسی جتنی ڈھیلی ہوگی نافرمانی کی اتنی ہی گنجائش پیدا ہوتی جائے گی ۔ ایسے بھی اللہ کے بندے ہیں جو کلمہ توحید کی رسی کواس طرح اپنے گلے کا طوق بناتے ہیں کہ نافرمانیوں کی گنجان صحبتوں میں بھی اپنے آپ کو فرمانبردار رکھ لیتے ہیں اور یقینا یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو فلاح مل جاتی ہے ۔

نافرمانی فرد واحد کی ہو یا پھر ایک خاندان کی ہو یا پورے معاشرے کی تباہی کو دعوت دیتی ہے ، جس طرح سے ایک مخصوص وقت تک نافرمانی دیکھائی نہیں دیتی اسی طرح سے مخصوص وقت تک تباہی کا بھی نہیں پتہ چلتا ۔ ایک فرد نافرمانی کر رہا ہے اور کرتا ہی چلا جا رہا ہے جبکہ اسے پہلی نافرمانی سے سزا ملنا شروع ہوچکی ہے (جوکہ وہ خود جانتا ہے ) لیکن کیونکہ بظاہر کوئی نقصان ہوتا دیکھائی نہیں دے رہا اسلئے اس نے نافرمانی ترک نہیں کی اور آہستہ آہستہ تباہی کی طرف خود کو لیئے جارہا ہے ۔ ایک فرد کی نافرمانی کی دیکھا دیکھی دیگر افراد بھی اس نافرمانی کا حصہ بن جاتے ہیں اور پھر اصلاح کا پہلو دیکھے بغیر یہ عمل جاری رہتا ہے اب تباہی قوم یا پھر خطے پر آنا شروع ہوجاتی ہے ۔ ہوسکتا ہے ہمارے طرز تحریر سے قارئین کی تشفی نا ہوئی ہو لیکن یہ یقین ہے کہ بنیادی نقطہ ضرور سمجھ آگیا ہوگا ۔

عطاء کا شکر ادا کرتے رہیں ، عطاء کرنے والا تو ناشکروں کو بھی دیتا ہے لیکن اسنے تقسیم کر رکھی ہے ، شکر کرنے والوں کیلئے دائمی خیر ہے اور ناشکروں کیلئے یہیں کی عطاء سب کچھ ہے ۔ عطاء کرنے والے کی مرضی سے آگاہ رہیں اورآگاہی کا سلسلہ جاری رکھیں ۔ نافرمانی ہوتی ہے دانستہ ہو یا غیر دانستہ تلافی کریں اور ایسی تلافی کریں کہ عطاء کرنے والا اپنے عرش والوں کو دیکھائے کہ دیکھو میری عطاء کو سمجھنے والے انسان ایسے ہوتے ہیں ۔ ہم نافرمانیوں کی دلدل میں دھنستے ہوئے یہ کیوں نہیں سوچ رہے کہ اس عارضی زندگی کو پرسکون بنانے کیلئے دائمی زندگی کا سکون کیوں برباد کر رہے ہیں ، ہم محسن انسانیت ﷺ کے امتی ہیں بھلا اپنے پیارے نبی ﷺ کو کیا منہ دیکھائیں گے یا اس قطار میں کھڑے ہونے کا موقع بھی مل پائے ۔ آپ خود سے پوچھ کر دیکھ لیں کہ کیا میں نافرمان ہوں ;تو جو جواب آئے اس سے کھلے دل سے تسلیم کریں اور فرمانبرداری کی طرف دوڑ لگائیں ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہورے کیڑی گل توں ڈریا ہویا اے
  • چچا چھکن نے ایک خط لکھا
  • روشنی کی پناہ
  • کوئی نظم بجاتا جا رہا تھا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کانٹے پہ کوئی موسم نہیں آتا !
پچھلی پوسٹ
بانو قدسیہ

متعلقہ پوسٹس

جس گھڑی عشق سربریدہ ہو

فروری 5, 2020

میری روداد ہے کہ آئینہ

نومبر 18, 2020

مرے دوست تیری خبر ملی بڑا دکھ ہوا

نومبر 14, 2021

خیال کی گونج

دسمبر 25, 2024

تم نے ہی مشکل میں ڈالا

مئی 9, 2025

وجود ایک وہم ہے

مارچ 8, 2025

کبھی آباد تھا یہ شہرِ جاں بھی

جون 13, 2020

روٹھے کو منانے میں دیر کتنی لگتی ہے

نومبر 11, 2025

یہ جو منظر میں تابانی ہے بھائی

اکتوبر 25, 2025

محمودہ

جنوری 17, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

زندگی رکتی تو نہیں

فروری 2, 2020

ممکن ہی نہیں میرا مسلماں ہونا!

نومبر 4, 2020

مترجم بلوچ بیوہ سے

مئی 2, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں