خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباختم نبوتؐ پر کوئی سمجھوتہ ۔ نا ممکن
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہاسلامی مضامین

ختم نبوتؐ پر کوئی سمجھوتہ ۔ نا ممکن

اویس خالد کا اسلامی کالم

از سائیٹ ایڈمن مئی 3, 2020
از سائیٹ ایڈمن مئی 3, 2020 0 تبصرے 622 مناظر
623

ختم نبوتؐ پر کوئی سمجھوتہ۔۔۔نا ممکن

آئے دن ہمارے ملک میں کچھ ایسی آئینی ترامیم کا شور سنائی دیتاہے کہ جس سے بیٹھے بیٹھے پورے ملک میں ایک نئی بحث چھڑ جاتی ہے۔ہر طرف بے چینی کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔اور اگر ترمیم مذہبی حوالے سے ہو تو لاکھوں کروڑوں لوگوں کی دل آزاری کا باعث بنتی ہے اور امن و سکون کے لیے بھی خطرے کا باعث ہوتی ہے کیونکہ پھر احتجاجی مظاہروں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور ان احتجاجی مظاہروں کی آڑ میں کچھ شر پسند عناصر ملک کا امن و امان تباہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔پچھلے انتخابات سے پہلے بھی اگر ہمیں یاد ہو تو ختم نبوتؐ کے قانون میں ترمیم کی گئی جس کوعوام کے پر زور اصرار پر واپس لیا گیا۔اب پھر اچانک سے ایک ترمیم سامنے آئی ہے جس میں مبینہ طور پرقادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے حوالے سے تبدیلی کا ذکر ہے۔اس پر مزید بات کرنے سے پہلے ختم نبوتؐ کے عقیدے پر بات کرنا ضروری ہے جو ہمارا ایمان ہے بلکہ ہمارا ایمان آقا کریمؐ کی محبت اور اتباع اور آپؐ کوآخری نبیؐ ماننے سے شروع ہوتا ہے اور اسی بات پر ہی مکمل ہوتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ قادیانی کون ہیں؟یہ قادنیت کیا ہے؟تو یہ وہ بد ترین کافر ہیں جو کہ نبی پاکؐ کو آخری نبی نہیں مانتے اور الٹا اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہیں جب کہ اسلام سے ان کا سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ہم مسلمان بغیر کسی دلیل کے ہر اس شخص کو کافر مانتے ہیں جو کہ نبی پاکؐ کو آخری نبی تسلیم نہیں کرتا۔اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے۔اس بات کو ماننے کے لیے کوئی بہت بڑاعالم ہونے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ یہ بڑی سادہ سی بات ہے اورہمارا بنیادی عقیدہ ہے۔ کسی ادنیٰ سے ادنیٰ درجے کے مسلمان کو بھی اس معاملے کی نذاکت کا علم ہے اور اس کا بھی یہ راسخ عقیدہ ہے کہ نبی آخر الزماں ؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور جو اس کے برعکس نظریہ رکھے وہ سراسر کافر ہے اور کسی رحم کا مستحق نہیں۔اب بات آ گئی قانونی یا شرعی طور پر ہمارے ملک میں ان کافروں کی کیا حیثیت ہونی چاہیے تو اس میں بھی بات بڑی واضح ہے کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے تو اس معاملے کا حل بھی یقینا ہمیں آقا کریمؐ کی حیات طیبہ سے ہی ملے گا۔
ہمیں علماء حق کے زریعے وہاں سے رجوع کرنا چاہیے۔پہلی بات کہ ہمارے ملک میں ایسے مسائل اٹھتے کیوں ہیں؟اس کی کئی ایک وجوہات ہیں۔پہلی تو بات یہ ہے کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ پاکستان جو اسلام کے نام پہ حاصل کیا گیا تو اس وطن عزیز میں جزا و سزا کے لیے مکمل اسلامی آئین کا نفاذ کیوں نہیں ہے؟اس وجہ سے بھی اب تک کئی اختلافات جنم لے چکے ہیں۔ دوسری بات کہ کیا ہم کسی پلمبر سے مرسیڈیز ٹھیک کرا سکتے ہیں یا کسی حجام سے سرجری کرا سکتے ہیں یا کسی موچی سے موبائل مرمت کرا سکتے ہیں؟نہیں ناں تو پھراس بات کو سمجھنا چاہیے کہ جو جس کام کا اہل ہو وہی اگر کام کرے گا تو درست ہو گا بصورت دیگر خراب ہی ہوگا۔اب یا تو علماء حکمران ہوں یا حکمران عالم دین۔نہیں تو ایسے ہر مذہبی معاملے میں خاص طور پر کہ جس پہ تمام مکتبہ فکر اور مسالک کا باہمی سلوک و اتفاق ہے، حکومت کو چاہیے کہ وہ کسی ایک دو کو نہیں بلکہ ملک بھر کے تمام علماء سے باہمی مشاورت کر کے اور بعد ازاں عوام کو اعتماد میں لے کر ہی کسی قسم کی ترمیم کا قصد کرے۔
کیونکہ قرآن و سنت کے مطابق علماء حق ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔آپ دیکھ لیں پٹرول سستا ہو یا مہنگا ہو حکومت کی مرضی ہے عوام اپنا سا منھ لے کر رہ جاتی ہے کچھ نہیں کرتی۔ٹماٹر چار سو روپے کلو تک پہنچ گئے تھے عوام نے کڑوا گھونٹ پی لیا۔اب رمضان کی آمد پر کھجور اور لیموں کے دام میں تین گنا اضافہ ہو گیا کہیں کوئی احتجاج نہیں ہوا یاکہیں کوئی جلوس نہیں نکلا۔سڑکیں خراب،جرائم کی بھرمار،ہسپتال ادوویات سے محروم،تعلیم مہنگی لیکن یہ قوم ایک لفظ منھ سے نہیں نکالتی،الٹا خود ہی لطیفے بنا کر ہنستی ہنساتی رہتی ہے۔لیکن ختم نبوتؐ کا معاملہ ہویا اس طرح کے کسی اور دینی مسئلے کا معاملہ ہو تو عوام برداشت نہیں کرتی،بے چین ہوتی ہے۔کیونکہ ہم مسلمان کتنے ہی گنہگار کیوں نہ ہوں خطاکار کیوں نہ ہوں لیکن آقاؐ کی محبت میں کہیں کوئی کمی نہیں آ سکتی۔ہمارا تو پرردگار کے پاس ایک بہت بڑا آسرا ہی یہ ہے اور پروردگار کے ہم پر فضل کی نشانی بھی یہی ہے لہذا اسے کسی قیمت پر ہم کھو نہیں سکتے۔ویسے بھی نبی پاکؐ کی محبت ہمارے وجود کا حصہ ہے۔یہ محبت ہماری زندگی ہے اور دونوں جہانوں میں نجات ہے۔ہم عوام کی ضروریات و سہولیات کے حوالے سے مانا کہ کوئی وقعت نہیں لیکن ہر وہ معاملہ جس سے ہمارے مذہبی جذبات جڑے ہوئے ہیں اس میں کسی قسم کا ردو بدل کرنے سے پہلے تمام علماء کی زیر سر پرستی قرآن و سنت کی روشنی میں غور کیا جانا چاہیے اور پھر قوم کے جذبات کو اہمیت دیتے ہوئے پوری قوم کو اعتماد میں لے کر پوری بات سمجھا کر کوئی قدم اٹھانا چاہیے۔اس سے ملک میں کسی قسم کی انارکی نہیں پھیلے گی نہ ہی کسی کے جذبات مجروح ہوں گے اور ناں ہی کسی احتجاج کی نوبت آئے گی۔

اویس خالد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بس ایک بوند زندگی
  • جوہرِ بیش بہا کو کھولا
  • اخبارات کا زوال اور سوشل میڈیا کا اُبھار
  • اللہ کی عطا ہے محبت رسول کی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ذمہ دار کون؟
پچھلی پوسٹ
بے اختیار، بے بس،مجبور

متعلقہ پوسٹس

مہر و وفا کا پیکر: کریم اعوان

مئی 5, 2023

نسوانیت کا عکس

دسمبر 25, 2024

کل بزم کہکشاں میں ستاروں کی بھیڑ تھی

اگست 20, 2020

ٹاور آف سائیلنس

جنوری 20, 2021

دیےنے تھامی ہوئی تھی قلم دوات کی نبض

نومبر 19, 2021

آپریشن غضب للحق

فروری 28, 2026

سوچ رہا ہوں الٹی سیدھی کوئی

مارچ 8, 2025

مرادیں مل رہی ہیں شاد شاد اُن کا سوالی ہے

اکتوبر 29, 2020

تلاش

مارچ 24, 2026

مقصد حیات

جون 20, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

قہقہوں کے سائے میں

جنوری 14, 2025

دہلی کا ایک یادگار مشاعرہ

جولائی 1, 2024

سیلاب، سیاست اور بے بس انسان

ستمبر 9, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں