278
خوشی کی ملی یہ سزا رفتہ رفتہ
تعارف غموں سے ہوا رفتہ رفتہ
تھی چہرے کی رنگت تو نظروں کے آگے
چلا رنگ دل کا پتہ رفتہ رفتہ
بھلائی کئے جا یقیں رب پہ رکھ کر
وہ دیتا ہے سب کو صلہ رفتہ رفتہ
سنی بھوکے بچے نے جب ماں کی لوری
تو رو رو کے وہ سو گیا رفتہ رفتہ
ترے بن بھی کٹ جائے گی عمر لیکن
چھڑا اپنا دامن ذرا رفتہ رفتہ
نظر جو ملی دل ہوا راکھ جل کر
دھواں پھر اسی سے اٹھا رفتہ رفتہ
چمن میں کھلیں ہنستے ہنستے جو کلیاں
تو خوشبو سے مہکی فضا رفتہ رفتہ
نہ گھبراؤ موناؔ پریشانیوں سے
اثر لائے گی ہر دعا رفتہ رفتہ
ایلزبتھ کورین مونا
