463
تم جاننا چاھو کہ میرے اندر ہے کون
اس بات کے آغاز پہ تم غور ذرا کر لو
میرے ساتھ جو چلنا ھو تو دور تلک چلنا
ورنہ پلٹو اور محبت کا استخارہ کر لو
کیسے ٹوٹتے ھیں لوگ چلو دکھلاوں میں
سڑکوں پہ پڑے لوگوں کا نظارہ کر لو
اب تم بھی منافقت سے باز آجاو
میرا مشورہ یہی ھے گزارہ کر لو
دوسری محبت میں مات ہو بھی سکتی ہے
یوں کرو میرے ہی ساتھ پہ گزارا کر لو
حسرتوں کی دلدل میں دھنس نہیں سکتی
آرزو تم کو ہے تمہیں فیصلہ دوبارہ کر لو
منزلیں اور بھی ہے تحمینہ کی بتائیے دیتی ہوں
پھر نہ کہنا کہ تم مجھ سے کنارہ کر لو
تہمینہ مرزا

1 تبصرہ
بہت خوب کہا ہے
اب تم بھی منافقت سے باز آجاو
میرا مشورہ یہی ھے گزارہ کر لو