خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرصرف دعا فرما دیں
اردو تحاریراردو کالمزجاوید چوہدری

صرف دعا فرما دیں

جاوید چوہدری کا ایک کالم

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 19, 2019
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 19, 2019 0 تبصرے 366 مناظر
367

دنیا کے تمام والدین اپنے بچوں اور تمام بچے اپنے والدین کو فرشتے، ہیرو اور ٹیپو سلطان سمجھتے ہیں، مجھے بھی اپنے والد میں یہ ساری خوبیاں نظر آتی تھیں اور وہ بھی مجھے دنیا کا شاندار ترین بیٹا سمجھتے تھے لیکن بات اس احساس سے کہیں آگے ہے، میں لفظوں کا بیوپاری ہوں، میں نے پوری زندگی لفظ بوئے اور لفظ کاٹے ہیں۔
میں آج اگر چاہوں تو میں اپنے والد کے انتقال پر ایک جذباتی کالم لکھ کر آپ سب کو واہ واہ اور سبحان اللہ سبحان اللہ پر مجبور کر سکتا ہوں، میں ثابت کر سکتا ہوں میرے والد ایک اساطیری کردار اور قرون اولیٰ کے مسلمان تھے اور ان کا سینہ ایمان اور دماغ دانش کا عظیم خزانہ تھا لیکن میں نے وقت کے ساتھ ساتھ سیکھا ہے اصل چیزیں اور اصل باتیں مشکل نہیں ہوتیں، یہ سادہ ترین ہوتی ہیں، آپ کو جہاں ہوا کو باد صبا اور لٹکنے کو آویزاں لکھنا پڑ جائے آپ وہاں منافقت کرتے ہیں اور میرے والد نے مجھے زندگی میں جو چار چیزیں سکھائی تھیں ان میں پہلی چیز منافقت سے نفرت تھی چنانچہ میں آج لفظوں کے دریا بہا کر ان کی ٹریننگ کی توہین نہیں کرنا چاہتا، میں آج کے کالم کو کاروبار یا بیوپار نہیں بنانا چاہتا، یہ میری زندگی کا سادہ ترین کالم ہے۔
میرے والد میرے والد کم اور استاد زیادہ تھے، میں نے زندگی میں اگر کسی سے کچھ سیکھا تو وہ میرے والد تھے، میں نے زندگی میں ہزاروں کتابیں پڑھیں، میں دنیا کے درجنوں مشاہیر سے ملا اور میں نے آدھی سے زیادہ دنیا دیکھی لیکن آپ یقین کیجیے مجھے اس پوری دنیا میں اپنے والد جیسا کوئی دوسرا شخص نہیں ملا، میرے والد نے دنیا میں کوئی ملک نہیں بنایا، کوئی ادارہ، کوئی تنظیم، کوئی فرقہ اور کوئی بزنس گروپ نہیں بنایا لیکن وہ اس کے باوجود ایک عظیم انسان تھے، کیسے؟ آپ ملاحظہ کیجیے، دنیا میں صرف دس فیصد لوگ اپنی زندگی کو ٹرانسفارم (تبدیل) کر پاتے ہیں جب کہ باقی نوے فیصد لوگ کسان پیدا ہوتے ہیں اور کسان مرتے ہیں، مزدور پیدا ہوتے ہیں اور اگلی نسل کو بھی اوزار پکڑا کر رخصت ہو جاتے ہیں۔
کلرک کا بیٹا کلرک، افسر کا بیٹا افسر، تاجر کا بیٹا تاجر، سیاستدان کا سیاستدان، مولوی کا مولوی اور فوجی کا بیٹا عموماً فوجی ہوتا ہے، ہم میں سے صرف دس فیصد لوگ یہ تسلسل توڑ پاتے ہیں لیکن میرے والد نے اپنی زندگی میں چار ٹرانسفارمیشنز کیں اور لوگوں کو حیران کر دیا، وہ دشمنیوں میں پیدا اور جوان ہوئے، یہ ایک آدھ نسل کا ایشو نہیں تھا، یہ چار پانچ نسلوں کا تسلسل تھا، میں پورے خاندان کا پہلا بچہ تھا، میری عمر دو سال تھی، یہ ایک دن اٹھے، مجھے اور میری والدہ کو لیا، نسلوں کی دشمنیوں پر ہاتھ پھیرا اور گاؤں چھوڑ دیا اور پھر باقی زندگی کوئی دشمنی پالی اور نہ کسی ہتھیار کو ہاتھ لگایا، میں نے بچپن میں ایک بار ائیر گن خرید لی، میرے والد نے اس دن مجھے پہلا تھپڑ مارا، یہ ان کی پہلی ٹرانسفارمیشن تھی، میں اسکول جانے والا خاندان کا پہلا بچہ تھا، وہ یونیورسٹی تک مجھے خود چھوڑ کر آتے تھے، ہم تمام بہن بھائیوں نے زندگی میں تعلیم کے نام پر جو مانگا میرے والد نے فوراً دے دیا، ہم ان سے تین تین بار فیس اینٹھ لیا کرتے تھے اور وہ حساب تک نہیں کرتے تھے۔
ان کی دوسری ٹرانسفارمیشن زراعت سے بزنس تھی، وہ پانچ ہزار سال سے کسان تھے، زمین، فصل اور جانور ان کے جینز کی میموری تھے مگر وہ ایک دن اٹھے، زراعت کو زندگی سے نکالا، کاروبار شروع کیا اور پھر زندگی میں کبھی کاشت کاری کی طرف واپس نہیں گئے، زمین لوگ لے گئے، ہمارے ڈیرے کی اینٹیں تک لوگوں نے اکھاڑ دیں لیکن والد نے زندگی میں کبھی شکایت نہ کی، درجن بھر گھر بنائے مگر کسی میں لان نہیں بنایا، گملے میں بھی پودا نہیں لگایا، میں نے ڈرتے ڈرتے ہمت کی مگر وہ میرے گھر میں کمرے میں رہتے تھے، لان میں نہیں جاتے تھے، والد نے کاروبار میں بے تحاشا پیسہ کمایا، اتنے نوٹ گنے کہ انگلی کی پہلی پور کے نشان مدہم پڑ گئے، ہم تمام بہن بھائیوں نے بچپن میں اتنی رقم دیکھ لی کہ ہمارے اندر سے لالچ ختم ہو گیا۔
یہ کاروبار ابا جی کی تیسری ٹرانسفارمیشن تھی، میں 1992 میں لاہور سے اسلام آباد آگیا، ہم پانچ چھ لڑکے چھوٹے سے گھر میں رہتے تھے، زمین پر چٹائیاں بچھا کر سوتے تھے، یہ مجھے ملنے آئے، مجھے زمین پر سویا ہوا دیکھاتو سیدھے سی ڈی اے کے آکشن میں بیٹھ گئے، دو پلاٹس خریدے اور گھر بنانا شروع کر دیا، گھر مکمل ہوا تو لالہ موسیٰ میں اپنی ساری پراپرٹی بیچ دی اور پورے خاندان کو ساتھ لے کر اسلام آباد آ گئے، کاروبار بھی بند کر دیا اور پھر کبھی اس طرف مڑ کر نہیں دیکھا، کاروبار کے دور کے تمام تعلقات تک منقطع کر دیے اور یہ ان کی چوتھی ٹرانسفارمیشن تھی، میں نے زندگی میں کسی شخص میں اتنی ٹرانسفارمیشنز نہیں دیکھیں، ایک ہی خاندان میں پچاس سال میں اتنی تبدیلیاں اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہیں، ہم لوگ 50 سال پہلے جاہل ہوتے تھے اور ہم آج الحمد للہ پورا خاندان علم کی شاہراہ پر ہیں، میرے بیٹے کو آج گوگل اور فیس بک لیکچر کے لیے بلاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ہمارے والد کو 84 سال زندگی دی، یہ 84 سال انھوں نے ہیرو اور لیڈ ر کی طرح گزارے، ہم آٹھ بہن بھائی ہیں، ہم سب اپنے والدین کے پاس تھے، میرے دو بھائی ملک سے باہر چلے گئے تھے، ایک کو خود واپس شفٹ کرایا اور دوسرے کے بارے میں کہتے تھے یہ بھی ضرور واپس آئے گا اور وہ بھی مستقل واپس آ گیا، ہمیں ان کی یہ حکمت ان کے انتقال کے وقت سمجھ آئی، وہ صبح تین بجے دنیا سے رخصت ہوئے اور ہم نے شام چار بجے ان کا جنازہ پڑھ لیا، ہمیں جنازے کے لیے کسی کا انتظار نہیں کرنا پڑا، ہم سب ان کے پاس تھے، وہ پوری زندگی "انڈی پینڈنٹ” رہے چنانچہ تدفین کے لیے بھی رقم چھوڑ کر گئے تھے، آخری تین سال بیمار رہے، دل بیس فیصد کام کرتا تھا، شوگر چھ ساڑھے چھ سو تک چلی جاتی تھی، بینائی تقریباً ختم ہو گئی تھی، ہاتھوں میں رعشہ تھا اور آخر میں گردے بھی کمزور ہو گئے تھے لیکن آپ سیلف کنٹرول کی انتہا دیکھیے، ٹانگیں بدن کا بوجھ نہیں اٹھاسکتی تھیں لیکن واش روم جانا ہوتا تھا تو ٹانگوں میں باقاعدہ جان آ جاتی تھی، خود اٹھ کر جاتے تھے اور خود واپس آتے تھے۔
پیشاب کے بیگ، ڈائیلاسز اور میڈیکل بیڈ سے نفرت تھی، ڈاکٹر نے آخر میں مجھے فون کر کے بتایا، ہمارے پاس اب ڈائیلاسز اور میڈیکل بیڈ کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، میں نے ڈائیلاسز اور میڈیکل بیڈ کا بندوبست کر لیا، بیڈ ان کے کمرے میں لگا دیا گیا، اگلے دن ڈائیلاسز ہونا تھا، ڈاکٹر سے کہا، مجھے ایک دن کے لیے گھر جانے دیں، میں کل ڈائیلاسز کرا لوں گا، ڈاکٹر نے اجازت دے دی، میں نے عرض کیا، آپ میرے گھر آ جائیں، میں نے بیڈ لگوا دیا ہے، کہا میں کل آ جاؤں گا اور وہ اپنے گھر چلے گئے اور اس رات ڈائیلاسز سے پہلے انتقال کر گئے، اباجی نے فیصلہ کیا تھا وہ یورین بیگ لگوائیں گے، ڈائیلاسز کروائیں گے اور نہ ہی میڈیکل بیڈ پر لیٹیں گے چنانچہ وہ ان تینوں مراحل سے پہلے دنیا سے رخصت ہو گئے۔
یہ ڈسپلن ان کی زندگی کی روٹین تھی، وہ جو صحیح سمجھتے تھے وہ کرتے تھے، دنیا کی کوئی طاقت انھیں روک نہیں سکتی تھی، وہ دوستیوں کے خلاف تھے، وہ کہتے تھے انسان جب بھی خراب ہوتا ہے دوستوں کے ہاتھوں ہوتا ہے لہٰذا وہ دوستوں کے معاملے میں بہت محتاط تھے، وہ سب کے دوست تھے لیکن ان کا کوئی دوست نہیں تھا، وہ سب کی سنتے تھے، سب کی مدد بھی کرتے تھے لیکن اپنے لیے کسی سے مدد مانگتے تھے اور نہ اپنی تکلیف کسی کے ساتھ شیئر کرتے تھے، میں نے یہ گُر ان سے سیکھا، وہ بے انتہا صفائی پسند تھے، ہاتھ دھوئے بغیر کسی سے ہاتھ نہیں ملاتے تھے، صفائی کا خیال نہ رکھنے والوں کے ساتھ کھانا نہیں کھاتے تھے۔
چھٹی حس بہت تیز تھی، لوگوں کو دیکھ کر ان کی فطرت سمجھ جاتے تھے، جرأت اور بے خوفی یہ دونوں ان کی زندگی میں انتہا کو چھوتی تھیں، رسک لے جاتے تھے اورخطرناک ترین رسک سے مکمل محفوظ نکل آتے تھے، خوش نصیب تھے، زندگی کے مشکل ترین مراحل عبور کر گئے، اللہ تعالیٰ نے اولاد، خوش حالی اور صحت تینوں سے نوازا اور انھوں نے جی بھر کر انجوائے کیا، زندگی میں صرف دو خواہشیں کیں، ایک دن مجھے کہنے لگے، میں نے پوری زندگی غلامی میں گزار دی، ہم پہلے انگریزوں کے غلام تھے اور اب ان دیکھے انگریزوں کے غلام ہیں، میں زندگی میں ایک بار کوئی آزاد ملک دیکھنا چاہتا ہوں، میں انھیں یورپ لے گیا، رانا بھگوان داس اس وقت چیف جسٹس تھے، وہ بھی ہمارے ساتھ روانہ ہو گئے۔
میں انھیں فرانس، اٹلی اور اسپین لے کر گیا، وہ بڑی دیر تک مسجد قرطبہ میں بیٹھے رہے، رانا بھگوان داس ان کے آگے کھڑے ہو گئے اور والد صاحب نے ان کے پیچھے چھپ کر نماز بھی پڑھ لی اور دوسری خواہش ان کی تدفین سے متعلق تھی، وہ انتقال سے قبل ہماری والدہ کو بتا گئے تھے مجھے گاؤں میں میرے بھائیوں اور والدین کے ساتھ دفن کر دینا، ہم انھیں اپنے قریب دفن کرنا چاہتے تھے تاکہ دعا کے لیے حاضر ہوتے رہیں لیکن والدہ نے جب وصیت کا بتایا تو ہم انھیں لے کر گاؤں چلے گئے، تدفین کے وقت بار بار میرے ذہن میں آتا تھا، یہ آج سے 48 سال پہلے مجھے یہاں سے لے کر گئے تھے اور یہ آج مجھے ایک بار پھر یہاں لے آئے ہیں، ہم جہاں سے چلے تھے ہم پوری دنیا پھر کر دوبارہ وہاں آ گئے، یقینا اس میں ان کی کوئی نہ کوئی حکمت ہو گی، مجھے روضہ رسولؐ کے خادم نے نبی اکرمؐ کے روضہ مبارک کی خاک عنایت کی تھی، یہ میری زندگی کا واحد اثاثہ تھی، ہم نے جب انھیں لحد میں اتارا تو یہ خاک ان کے منہ میں ڈال دی، میری نظر میں وہ پوری دنیا میں اس تحفے کے واحد حق دار تھے اور وہ یہ حق لے کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔
میری آپ تمام احباب سے درخواست ہے آپ درود شریف پڑھ کر ایک بار ان کے لیے مغفرت کی دعا فرما دیں، یہ آپ کا ہم سب پر احسان عظیم ہو گا۔ میرے والد فرشتہ تھے، ہیرو تھے اور نہ ہی ٹیپو سلطان تھے لیکن وہ اس کے باوجود میرے لیے سب کچھ تھے اور وہ سب کچھ اب میرے پاس نہیں رہا

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مُعاشرتی بِگاڑ
  • لاوارث
  • ایک طوائف کا خط
  • زرد پتّوں کی اوٹ میں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
طے ہو گیا ہے مسئلہ جب انتساب کا
پچھلی پوسٹ
پریشاں ہو کے میری خاک آخر دل نہ بن جائے

متعلقہ پوسٹس

عدم برداشت

ستمبر 4, 2025

نغمهٔ شکست

مئی 30, 2025

کشمیر میں بھارتی استعماریت

فروری 6, 2020

حسن کی تخلیق

جنوری 24, 2020

شاعری کا ابتدائی سبق

مئی 21, 2024

اصلی جن

اکتوبر 21, 2019

ال گلہری

دسمبر 30, 2014

سیرت مصطفی ﷺ: دنیا کے لیے روشن راستہ

اگست 30, 2025

ایران میں احتجاجی طوفان

جنوری 12, 2026

رشتوں کے درمیان

اگست 7, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

قومی حکمت عملی کی کمی

ستمبر 8, 2025

فوٹو گرافر

جنوری 13, 2020

ایکٹریس کی آنکھ

جنوری 21, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں