100
ہمیں تو خواہش دنیا نے رسوا کر دیا ہے
بہت تنہا تھے اس نے اور تنہا کر دیا ہے
اب اکثر آئینے میں اپنا چہرہ ڈھونڈتے ہیں
ہم ایسے تو نہیں تھے تو نے جیسا کر دیا ہے
دھڑکتی قربتوں کے خواب سے جاگے تو جانا
ذرا سے وصل نے کتنا اکیلا کر دیا ہے
اگرچہ دل میں گنجائش نہیں تھی پھر بھی ہم نے
ترے غم کے لیے اس کو کشادہ کر دیا ہے
ترے دکھ میں ہمارے بال چاندی ہو گئے ہیں
اور اس چاندی نے قبل از وقت بوڑھا کر دیا ہے
تعلق توڑنے میں پہل مشکل مرحلہ تھا
چلو ہم نے تمہارا بوجھ ہلکا کر دیا ہے
غم دنیا غم جاں سے جدا ہونے لگا تھا
حسنؔ ہم نے مگر دونوں کو یکجا کر دیا ہے
حسن عباس رضا
