547
پہلے قدموں پہ مجھے قیس نے ارشاد کیا
مرشدی آپ کو صحرا میں بہت یاد کیا
بعد میں جا کے پرندوں کو زباں دی اس نے
پہلے اک پیڑ میں آواز کو آباد کیا
اسم کو جسم سے آلودہ نہیں ہونے دیا
دودھ کو دودھ سمجھنے کا سبق یاد کیا
رنگ اور پھول سے خوشبو کا تصور لے کر
میں نے احساس سے تصویر کو ایجاد کیا
اک ہی دریا سے بجھائی ہے ضرورت اپنی
اک ہی درویش کو تا عمر ہے استاد کیا
اس نے یوں خود کو نکالا ہے مرے دل سے منیر
جیسے بازو کسی تعویذ سے آزاد کیا
منیر جعفری
