104
چاند
بے چین خیالوں کو جگاتی ہے چاندنی
یادیں تمہاری ساتھ میں لاتی ہے چاندنی
پھیلی ہے رات سرمئی آنچل سی ہر طرف
نکلا ہے چاند سب کو لبھاتی ہے چاندنی
آنگن کو میرے جب بھی سجاتا ہے نیا چاند
آنکھوں سےمیرے نیر بہاتی ہے چاندنی
سجنی کا روپ جب بھی چراتا ہے نیا چاند
تب تب سجن کا ساتھ نبھاتی ہے چاندنی
جب جب حسین خواب دکھاتا ہے نیا چاند
ملنے کا انتظار بڑھاتی ہے چاندنی
خوشیوں کا دورساتھ میں لاتا ہے نیا چاند
پر شامِ غم میں ساتھ نبھاتی ہے چاندی
چوکھٹ کا چاند اور ہے آنگن کا چاند اور
لیکن سبھی کا ساتھ نبھاتی ہے چاندنی
ہر شب صداۓ دل ہے ریحانہ نئی نئی
ہر شب کی داستان سناتی ہے چاندنی
ریحانہ علی
