100
جو راستے سے بھی گزریں انہیں حبیب رکھوں
دیا جلاؤں تو دہلیز کے قریب رکھوں
مرا خلوص پشیماں ہے میری فطرت سے
وہ مجھ سے دور کھنچیں میں انہیں قریب رکھوں
کسی کے دل میں جگہ ہو تو بوجھ بانٹوں بھی
کہیں زمین نہیں ہے کہاں صلیب رکھوں
کبھی مزاج نہ پوچھوں کبھی لگاؤں گلے
میں زندگی سے مراسم بڑے عجیب رکھوں
بدن سے لو تو اٹھے روشنی تو ہو قیصرؔ
ہوا کے رخ پہ سلگتا ہوا نصیب رکھوں
قیصرالجعفری
