119
آسماں کے رنگوں میں رنگ ہے شہابی سا
دھیان میں ہے پھر چہرہ ایک ماہتابی سا
منظروں نے کرنوں کا پیرہن جو پہنا ہے
میں نے اس کا رکھا ہے نام آفتابی سا
تم عجیب قا تل ہو، روح قتل کرتے ہو
داغتے ہو پھر ما تھا چاند کی رکابی سا
کون کہہ گیا ہے مو ت ٹوٹنے سے آتی ہے
گل نے تو بکھر کے باغ کر دیا گلا بی سا
پھر ہوا چلی شاید بھولے بسرے خوابوں کی
دل میں اٹھ رہا ہے کچھ شوق اضطرابی سا
تلخیوں نے پھر شا ید اک سوال دہرایا
گھل رہا ہے ہو نٹوں میں ذائقہ جو ابی سا
حرف پیار کے سارے آ گئے تھے آنکھوں میں
جب لیا تھا ہاتھوں میں چہرہ وہ کتابی سا
بوند بوند ہوتی ہے رنگ و نور کی برکھا
جب بھی موسم آیا ہے نیناں میں شرابی سا
فرزانہ نیناں
