110
جب بھی خوشبو سا مرے دل نے بکھرنا چاہا
رنگ پھولوں نے مرے خون میں بھرنا چاہا
راہ میں سوچ کی دیوار اٹھا دی اس نے
الجھنوں سے جو کبھی میں نے گزرنا چاہا
میری تقدیر سے وہ بابِ اثر بند ملا
جب دعاؤں کے پرندوں نے اترنا چاہا
چل دیا ساتھ ہی میرے تری یادوں کا ہجوم
راہ سے زیست کی تنہا جو گزرنا چاہا
جال پھیلا دئے کیا کیا مرے اندیشوں نے
جب بھی لمحات کی موجوں میں اترنا چاہا
بھیڑ پنگھٹ پہ چلی ساتھ مرے خوابوں کی
پیاسے نیناں کو وہاں جا کے جو بھرنا چاہا
فرزانہ نیناں
