105
اگرچہ درد کے دل میں مرے ہالے نہیں ہیں
کہا کس نے کہ پاؤں میں مرے چھالے نہیں ہیں
ہمارے حق میں گر وہ بولتا تو مان لیتے
زباں پر اس کی ہاں تالے نہیں تالے نہیں ہیں
منافق دوستوں کا ساتھ تھا اور یہ گماں تھا
کہ ہم نے آستیں میں سانپ یہ پالے نہیں ہیں
ہماری سب دعائیں رنگ لائیں گی یقیں ہے
ہمارے دل میں کیونکہ شر کے وہ جالے نہیں ہیں
محبت لکھ رہے ہیں بانٹ کر سچی محبت
ہمارے لفظ کیونکہ تیر اور بھالے نہیں ہیں
ہمی ہیں شاز وہ اہلِ سخن اہلِ محبت
جو اہلِ ظرف ہیں اور جن کے دل کالے نہیں ہیں
شاز ملک
