452
سوکھے ہوئے پھول اور یہ گلدان اٹھا کر
لایا ہوں کسی اور کا سامان اٹھا کر
ہونٹوں پہ میں اک لفظ بھی لانے سے گیا آج
آنکھوں میں کسی شخص کا احسان اٹھا کر
منصورِ زمانہ ہوں مجھے قید نہ کرنا
لیجاؤں گا ہمراہ یہ زندان اٹھا کر
ہجرت میں وہ عجلت تھی کہ اب یاد نہیں ہے
خود کو کہاں رکھا اسی دوران اٹھا کر
ہر سانس کی قیمت ہے چکانی پڑی مجھکو
زندہ ہوں میں اک عمر کا تاوان اٹھا کر
کیا بات گراں بار ہے یہ بھی نہیں کُھلتا
چلتی ہے یہ کیا بوجھ مری جان اٹھا کر
تخریب میں تعمیر کی صورت نہیں ارشاد
کیا فائدہ اس خاک میں طوفان اٹھا کر
ارشاد نیازی
