273
کب کسی کے ہاتھ پر جاتا ہوں میں
شاخ پر کھل کر بکھر جاتا ہوں میں
درد کی شدت سے بھر جاتا ہوں میں
سانس لیتا ہوں کہ مر جاتا ہوں میں
رات کی صورت گزر جاتا ہے تو
خواب کی صورت بکھر جاتا ہوں میں
یہ در و دیوار جو خاموش ہیں
ان کی آوازوں سے ڈر جاتا ہوں میں
مسکرا کر دیکھتا ہے وہ مجھے
اور پھر خوابوں سے بھر جاتا ہوں میں
اس کے رستے پر قدم پڑتا نہیں
اپنی حد سے تو گزر جاتا ہوں میں
جس طرف سے آ رہی ہے یہ ہوا
اب دیا لیکر ادھر جاتا ہوں میں
ارشاد نیازی
