خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےاُڑان
اردو افسانےاردو تحاریرڈاکٹر نور ظہیر

اُڑان

ڈاکٹر نور ظہیر کا ایک اردو افسانہ

از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020 0 تبصرے 505 مناظر
506

کالندی بڑے فخر سے کہا کرتی تھی کہ تتلی اس کی سب سے اچھی دوست ہے اور جب تتلی بھی یہی دوہراتی تو اس کی آنکھیں فخر سے نم ہوجاتیں۔ صحیح! اس نے بالکل صحیح فیصلہ کیا تھا جو نوکری چھوڑ دی تھی۔ اس کے ساتھ کی زیادہ تر مائیں تو میٹرنٹی لیب کے بعد اپنے بچوں کو ساس، آیا یا کریچ میں چھوڑ کر، نوکریوں پر واپس آگئی تھیں۔ مگر نتیجہ سامنے تھا۔ کسی کی بھی اپنے بچوں کے ساتھ ایسی دوستی نہیں تھی۔

جب تتلی نے بولنا شروع کیا تو کالندی نے کبھی اس سے تتلاکر بات نہیں کی۔ بھلا یہ کیا لاڈ ہوا کہ بچےّ کی زبان خود ہی بگاڑ دو۔ وہ ہمیشہ صاف بھاشا میں اس سے بات کرتی اور دوسروں کو بھی ٹوکتی رہتی۔ اس کا اپنا بچپن لکھنؤ میں گزرا تھا اور اس کی مسلمان دوستوں نے اردو کے لفظوں کا تلفظ، ٹوک ٹوک کر صحیح کروایا تھا۔ اسے آج بھی یاد تھا جب اسے انٹر سکول کویتا پاٹھ میں پہلا انعام ملا تھا تو اس کی تعریف کرتے ہوئے جسٹس علامت اللہ بیگ نے کہا تھا کہ اس کا تلفظ ایسا ہے جیسا کسی اردو فارسی کے عالم کا۔

تتلی کو بھی اس نے شروع سے گلے پر انگلی رکھ کر ’ق‘، ’خ‘، ’غ‘ سکھایا تھا۔ نتیجہ یہ بھی ہوا تھا کہ ’کم بخت‘ اور ’بے غیرت‘ جیسی اردو کی گالیاں تتلی دو سال کی عمر سے دینے لگی تھی۔ لیکن اب اس کا کیا کیا جاسکتا تھا؟ لڑکی کے صحیح تلفظ کے لیے اتنا تو برداشت کرنا ہی پڑے گا۔ جب بڑی ہوگی اور اچھے بُرے کا فرق سمجھے گی تب خود ہی گالیاں دینا چھوڑ دے گی۔

چلنے میں ابھی تتلی ڈگمگاتی تھی کہ کالندی نے اسے کتھک کے توڑے سکھانے شروع کردیے۔ دوستوں، رشتے داروں نے کہا بھی کہ ابھی پیر کمزور ہیں، ان پر بوجھ ڈالنا ٹھیک نہیں لیکن وہ ایک نہ سنتی۔ اس نے خود بچپن سے رقص سیکھا تھا۔ یہ اور بات تھی کہ اس کے شوہر کو اس کا سٹیج پروگرام پسند نہیں تھا۔ پھر تتلی کے ہونے میں وہ بیمار بھی رہی اور جو ڈور ایک بار ہاتھ سے چھوٹ گئی تو پکڑ میں نہیں آئی۔ تتلی سے اس کی یہ باتیں اس کی پیدائش سے پہلے سے ہی ہوتی تھیں۔ اس نے وعدہ کیا تھا تتلی سے کہ اسے کتھک ضرور سکھائے گی۔ شوہر کبھی کبھار کڑواہٹ بھرے لہجے میں پوچھتے بھی — ”اپنا ناچ چھوٹ گیا ہے تو کیا اب بیٹی کو نچوانے کا ارادہ ہے؟“
وہ ہنس کر جواب دیتی — ”ناچ سیکھنا صرف ناچنے کے کام نہیں آتا۔“ شوہر بات نہ سمجھ کر، منہ بناکر کندھے اُچکا دیتا۔ اس کے آگے وہ بھی بات صاف نہیں کرتی۔
توڑے سکھاکر وہ مُدرائیں سکھانے لگی۔ ایک سو بیالیس مُدرائیں خود اس نے کتنی مشکل سے یاد کی تھیں۔ تتلی کو دو مہینے میں یاد ہوگئیں۔ پھر تو جیسے کالندی کو کُھلی چھوٹ مل گئی۔ رسکھان کے سویّوں سے لے کر سورداس کے پدوں تک، کبیر رحیم کے دوہوں سے لے کر خسرو کے انمل بے جوڑ تک، جو بھی اُسے یاد تھا وہ تتلی کو یاد ہونے لگا۔ لمبی لمبی کویتائیں، بڑی بڑی نظمیں، تتلی منٹوں میں یاد کرلیتی اور گھر آئے مہمانوں کو سناکر مُگدھ کردیتی۔

آخر آزمائش کی گھڑی آئی۔ سات سال کی تتلی نے سکول میں ہونے والے کویتا پاٹھ کی پرتی یوگیتا میں دِنکر کی ’رشمی رتھی‘ سے کرن کرشن سنواد سنایا اور پرتھم پُرسکار جیتا۔ اس کے بعد تو لڑکی جیسے بھاگ چھوٹی۔ ہر انگریزی، ہندی کویتا مقابلے میں حصہ لیتی۔ دیر رات تک جاگ کر کالندی کے ساتھ کویتائیں یاد کرتی اور ہمیشہ پرتھم انعام پاکر اس کی محنت وصول کراتی۔ جب تھوڑی اور بڑی ہوئی تو کویتا کے ساتھ ڈیبیٹ میں بھی بھاگ لینے لگی۔ کالندی اس کے ساتھ اخبار پڑھتی، اسے ایڈیٹوریل پڑھنا اور سمجھنا سکھاتی، اس کے لیے الگ الگ طرح کے رسالے خریدتی، کلیسکس چن چن کر اسے دلاتی۔ یاد کیے ہوئے ’ڈکلی میشن‘ وہ ایسے اعتماد سے سناتی کہ سننے والے تعریف کیے بنا نہیں رہ پاتے۔

ایک بار، ’پیرنٹ ٹیچر میٹنگ‘ میں، تتلی کی کلاس ٹیچر نے پوچھا بھی کہ وہ اسے کیسے سکھاتی ہے۔ کالندی چپ رہی۔ انھیں بتاتی بھی کیا؟ کیا وہ سمجھتی کہ بولنے کی لَے، تال اور گیت، رقص کے کارن آئی ہے، انگریزی اور ہندی کا اُچّارن اس لیے ٹھیک ہے کیونکہ اردو کے لفظ سکھائے گئے ہیں، آواز میں اُتار چڑھاؤ اس لیے پیدا کرپاتی ہے کیونکہ سنگیت سیکھ رہی ہے، ہاتھوں اور چہرے کے ہاؤ بھاؤ اسے سننے والوں سے تعلقات قائم کرنے میں مدد کرتے ہیں، یہ ڈرامہ کیمپوں کا یوگدان ہے اور سب سے انت میں لیکن سب سے ضروری، اپنی بات کو خود سمجھنا اور اس پر یقین کرنا، جو کالندی کے ساتھ گھنٹوں بحث کرنے سے اس نے پایا تھا۔ وہ بات بھلا رٹے رٹائے وِچاروں کو مائک پر آکر اُگل دینے میں کہاں ہوسکتی ہے۔

دھیرے دھیرے تتلی کا رُجحان انگریزی کی طرف بڑھتا گیا۔ جب اس نے سینئر سیکنڈری میں تراسی فی صد پانے کے بعد انگریزی آنرس کرنے کی ٹھانی تو سب نے ناک بھوں چڑھائی۔ بھلا انگریزی کا کوئی مستقبل ہے؟ لیکن تتلی ان لڑکیوں میں سے نہیں تھی جو دوسروں کے کہنے میں آکر الٹی طرف بہہ جائے۔ اندر ’انٹرنس ٹیسٹ‘ دے رہی تتلی کا، کالجوں کے باہر، تیز دھوپ میں انتظار کررہی کالندی فخر سے سوچتی کتنی آتما وشواس ہے اس کی لڑکی میں۔ ٹیسٹ کے بعد دونوں ہنس ہنس کر بھیل پوری کھاتیں اور انھیں حیرانی سے تکتے لوگوں کے بارے میں ایک دوسرے کو اشارے کرتیں۔

دلّی یونیورسٹی کے نارتھ کیمپس کے سب سے اچھے کالج میں انگریزی میں داخلہ ہوجانا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ کالندی کو تو یہی لگ رہا تھا جیسے وہ اپنے کالج کے دن دوبارہ جی رہی ہو۔ اس نے سوچنا شروع کردیا تھا۔ تتلی کے لیے کالج میں پہننے کے کپڑے، جوتے کہاں سے خریدے جائیں، دو تین اچھے بیگ ہونے چاہئیں، کپڑے کے اور شاید کچھ میک اپ بھی۔ آج کل لڑکیاں کالج میں بھی کتنا میک اپ کرکے آتی ہیں۔ اور کتابیں؟ یہ تو وہ بھول ہی گئی! کتابوں میں تو پورا دن لگ جائے گا۔ بھئی صرف کورس کی کتابیں تو نہیں لیں گے نا۔ ادیبوں پر تنقید، مقالے، وستار سبھی شروع سے لے لینا چاہیے تاکہ ٹیوٹوریل لکھنے میں تتلی کو نہ تو مشکل آئے نہ ہی زیادہ وقت لگے۔

کالج کے پہلے دن باہر انتظار کررہی کالندی سے تتلی نے آکر پوچھا تھا — ”ممّا، آپ کتنے روپے میرے اوپر خرچ کریں گی؟ مطلب ابھی کتابوں، کپڑوں وغیرہ کا کیا بجٹ ہے؟“
کالندی نے جب ذرا حیرانی سے وجہ جاننا چاہی تھی تو اس نے جواب دیا تھا — ”نہیں، جتنے بھی آپ نے سوچے ہوں، اس میں سے آدھے تو کل ہی دے دیجیے گا۔ کلاس میٹس سب ایک ساتھ جارہے ہیں کملا نگر کتابیں لینے۔ باقی میں بعد میں لے لوں گی تاکہ دوستوں کے ساتھ کناٹ پلیس چلی جاؤں کپڑوں، چپلوں وغیرہ کے لیے۔“ کالندی چپ رہی۔ کہتی تو تب، جب اس سے پوچھا گیا ہوتا۔ تتلی تو اپنا فیصلہ سنا رہی تھی۔

”اور جانتی ہیں ممّا، کپڑوں کی سب سے اچھی مارکیٹ سروجنی نگر میں ہے۔ میں وہاں کبھی نہیں گئی۔ ایک دوست اُدھر ہی رہتی ہے۔ اس کے ساتھ جاؤں گی۔“
کتابیں لاکر تتلی نے بستر پر پھیلا دیں۔ بہت سی کتابیں، بہت سا پڑھنا۔ کالندی نے ایک دو کتابیں اُٹھاکر کور دیکھتے ہوئے کہا — ”ارے وِجے تندولکر! انڈین لٹریچر میں ہوں گے۔ میں نے ان کے تقریباً سارے ناٹک پڑھے ہیں۔ مجھے بہت پسند ہے۔“
”یہ مزے کے لیے پڑھنا نہیں ہے ممّا، یہ آنرز کی پڑھائی ہے۔“ تتلی ہنس کر بولی۔
کالندی نے ذرا تلخی سے کہا — ”مجھے معلوم ہے تم آنرز کررہی ہو۔“ لیکن طنز تتلی سے ٹکراکر ادھر اُدھر ڈولتا رہا۔ وہ کتابوں پر اپنا نام لکھنے اور انھیں قرینے سے اپنی میز پر لگانے میں مصروف تھی۔
تین مہینے گزر گئے۔ تتلی اپنے کالج کی پڑھائی میں اچھے بُرے پروفیسروں، دلچسپ اور بورنگ دوستوں میں ڈوب گئی۔ سات بجے صبح نکلتی، تقریباً اُتنے ہی بجے رات کو لوٹتی۔ کالندی خود کو سمجھاتی — یہ اس کی دوستی کا امتحان ہے۔ کتنے دوست تو سالوں نہیں ملتے، پھر بھی گہری رفاقت بنی رہتی ہے۔ وقت آئے گا، تتلی لوٹ آئے گی۔

اور کل شام وہ وقت آگیا۔ تتلی بوکھلائی ہوئی کالج سے لوٹی اور کالندی کی کتابیں، تابڑتوڑ نکالنے لگی۔ نکالتی، کھولتی، پنّے پلٹتی اور پٹخ دیتی۔ کالندی ہڑبڑائی ہوئی رسوئی سے نکلی۔
”کیا، بات کیا ہے؟ کیا ڈھونڈ رہی ہو کتابوں میں؟“
”ممّا آپ کے پاس پابلو نیرودا کا ایک سنگرہ تھا نا ۔۔اور ایک برٹولٹ بریخت کا؟“
”ہاں ہے تو مگر ۔۔“
”مجھے ابھی چاہیے“
”کیوں؟ کیا کرنا ہے؟“
”اُف ممّا! کل کالج فیسٹ کے اُدگھاٹن میں دونوں میں سے ایک کی کویتا پڑھنی ہے۔“
”تمہیں!“ کالندی کا دل خوشی کے مارے جھومنے لگا۔ آخر کالج میں بھی اس کے سکھائے ہوئے ہنر کی قدر ہوہی گئی — ”صرف نیرودا اور بریخت کیوں؟ یہ لو نا۔ ’اینتھالوجی آف سوشلسٹ ورس‘ اس میں سے چھوٹی کوئی اچھی سی کویتا“
ڈھونڈتے، پڑھتے دونوں نے ایک نظم چھانٹی۔ تتلی نے اسے ایک کاغذ پر اتار لیا اور من میں کئی بار پڑھ لیا۔ کالندی خوش تھی۔ اطمینان سے اس نے کھانا بنایا، سب کو کھلایا۔ صبح کی چائے کے لیے ٹرے تیار کرکے وہ لائی تو تتلی سوچکی تھی۔ اُسے ذرا چنتا ہوئی۔ یہ کیسے کل اچھی طرح پڑھ پائے گی، ایک بار بھی اس کے سامنے سنائی نہیں! لیکن خیر، اس نے خود کی ڈھارس بندھائی ۔ صبح اُٹھ کر دوچار بار کرلے گی تو ٹھیک رہے گا۔ اب تتلی کوئی بچی تو ہے نہیں۔

صبح تڑکے اٹھ کر اس نے ادرک کی چائے بنائی تاکہ تتلی کا گلا صاف رہے۔ تتلی کو اٹھایا تو وہ جلدی جلدی چائے گلے سے نیچے اتارتی ہوئی بولی — ”ممّا میں پہلے نہا لوں، آج مجھے جلدی ہے۔“
کالندی چائے کے برتن اٹھاتے ہوئے بولی — ”ہاں ہاں، نہا لو تاکہ جلدی تیار ہوکر مجھے ڈھنگ سے وہ نظم سنا سکو۔ ایک بار بھی میرے سامنے پڑھی نہیں تو کیسے اچھی طرح پڑھ پاؤگی۔“
باتھ میں گھستی ہوئی تتلی لاپرواہی سے پلٹی اور بولی — ”آپ کو وقت برباد کرنے کی ضرور نہیں ہے۔ وہ ہماری کرشن مورتی میم ہیں نا، وہ سنیں گی بھی اور جہاں ضرورت ہوگی، ٹھیک بھی کردیں گی۔ اسی لیے تو جلدی جانا ہے۔“ وہ غپ سے اندر چلی گئی اور زور سے شاور چلاکر نہانے لگی۔

کالندی نے سہارے کے لیے کرسی کی پیٹھ پکڑی ،پھر اسی پر بیٹھ گئی۔ کتنی دیر بیٹھی رہی اسے خبر نہیں۔ پھر اُٹھی اور خود سے بولی — ”یہیں تک کی ڈور تھی۔ اب تتلی کو اپنی اڑان اڑنی ہے۔“
”اور تم! تمہارا کیا ہوگا؟“ دل نے پوچھا۔
”میں یہ سوچ کر خوش ہو لوں گی کہ آج اڑان اس کی اپنی سہی، اڑنا تو میں نے ہی اسے سکھایا ہے“۔

 

ڈاکٹر نور ظہیر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مولانا جلال الدین رومی علیہ الرحمہ
  • مقبوضہ علاقوں کے باسیوں کی زندگی
  • ان کہی بات
  • بلونت سنگھ مجیٹھیا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دفن
پچھلی پوسٹ
کوئی عزت مآب مانگے گا

متعلقہ پوسٹس

ذرا اعتبار کر لے

نومبر 30, 2019

ایک باپ بکاؤ ہے

مارچ 29, 2020

چارپائی اور کلچر

دسمبر 7, 2019

قوموں کی حیات اور اقبال کا پیغام

فروری 6, 2026

رونے کی آواز

جون 9, 2020

پیمانِ شکنی

جنوری 10, 2025

انخلاء

مئی 18, 2020

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

ہم کمزور نہیں ہیں !

جون 27, 2022

کسٹم کا مشاعرہ

دسمبر 14, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کشتی کی وہ سنہری شام

دسمبر 22, 2024

"کرونا” حقائق اور جھوٹ

مارچ 30, 2020

بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے

جنوری 26, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں