خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرعورت اور محبت
اردو تحاریرتحقیق و تنقیدمقالات و مضامین

عورت اور محبت

روبینہ فیصل کے افسانے پر ایک مضمون

از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020 0 تبصرے 862 مناظر
863

عورت ایک ایسی پہیلی ہے جسے صدیوں سے ہر قوم ’ ملک اور عہد کے ادیب ’ شاعر اور دانشور بوجھنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن جونہی وہ پہیلی بوجھنے کے قریب ہوتے ہیں اس پہیلی کی کوکھ سے ایک اور پہیلی’ ماں کی کوکھ سے ایک نئی بیٹی پیدا ہوجاتی ہے ،جو پہلی پہیلی سے زیادہ پیچیدہ ’ گنجلک اور پُراسرار ہوتی ہے اور ادیب شاعر اور دانشور اس نئی پہیلی کو بوجھنے کی کوشش میں غزلیں ’نظمیں ’ مقالے اور افسانے لکھنے لگتے ہیں اور عالمی ادب کے ذخائر میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اسی لیے علامہ اقبال نے فرمایا تھا
؎ وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

چونکہ ہم صدیوں سے پدرسری نظام کا حصہ ہیں اس لیے تمام مذاہب اور تمام فلسفے مردوں نے بنائے ہیں جو ان مذاہب اور فلسفوں میں ہمیں عورت کی نفسیات کے راز بھی بتانے کی کوشش کرتے آئے ہیں ۔

جب عورتوں کو اندازہ ہوا کہ ان کی نفسیات کا غلط تعارف اور ان کے مسائل کی غلط تفہیم ہو رہی ہے تو انہوں نے اپنی کہانی خود لکھنی شروع کی اور خود ہی اپنے مسائل پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی۔
بیسویں صدی کے عالمی ادب میں مغرب کی بے ٹی فریڈین ’ سیمون دی بوژوا’ اینائس نن اور ورجینیا وولف کی اور مشرق میں فروغ فرح زاد’ کشور ناہید ’فہمیدہ ریاض ’عشرت آفرین جیسی شاعرات اور قراہ العین حیدر’ بانو قدسیہ ’ نیلم احمد بشیر اور زاہدہ حنا جیسی نثر نگاروں کی تخلیقات نے ہمارا تعارف عورتوں کے جدید مسائل سے کروایا اور عورتوں کے مردوں سے رشتوں کے بارے میں ایک نئے انداز سے سوچنےکی دعوت دی۔
پچھلے چند سالوں میں اردو کی خواتین لکھاریوں کی محفل میں ایک نئی لکھاری کا اضافہ ہوا ہے جس کا نام روبینہ فیصل ہے۔ روبینہ فیصل اپنے افسانوں کے نئے مجموعے”گم شدہ سائے” میں اپنے نسوانی کرداروں کے حوالے سے ہمیں بتاتی ہیں کہ ایک عورت اپنے دل کے نہاں خانوں میں کونسی خواہش۔۔کون سی آس،کون سی امید،کون سی آرزو،کون سا خواب اور کون سا آدرش چھپائے رکھتی ہے۔ وہ اپنے جذبات اور خیالات کا کھل کر اظہار کیوں نہیں کرتی اور اگر کسی مرد سے اس کا اظہار کرتی ہے تو اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔
روبینہ فیصل نے اپنے افسانوں میں عورتوں کی محبتوں اور اذیتوں’ خوشیوں اور غموں’ دکھوں اور سکھوں کی ایک کہکشاں پیش کی ہے۔ وہ اپنے قاری کو ایک نئی دنیا سے روشناس کراتی ہیں۔ روبینہ کے افسانوں کے نسوانی کردار جو کہانی سناتے ہیں ان کے بارے میں کہا جا سکتا ہے
؎ آرزو اور آرزو کے بعد خونِ آرزو
ایک مصرعہ میں ہے ساری داستانِ زندگی
روبینہ کے افسانوں کے نسوانی کردار محبت کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ان کے لیے محبت ایک سراب کی طرح ہے۔ وہ جتنا اس کے پیچھے بھاگتے ہیں وہ سراب اتنا ہی دور ہوتا جاتا ہے۔محبت کو نہ پانا اور پا کر کھو دینا ان کی ذات اور زندگی کا المیہ بن جاتے ہیں۔ میں اپنے موقف کی وضاحت کے لیے ان کے افسانے ۔۔۔محبت کی آخری کہانی۔۔۔۔کا ذکر کرنا چاہوں گا جو روبینہ فیصل کی افسانہ نگاری اور عورتوں کے مسائل کو سمجھنے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

اس افسانے کی ہیروئن ایک ایسی لڑکی ہے جو ایک شہزادے ایک ہیپی پرنس کی تلاش میں ہے اور جب اسے وہ شہزادہ مل جاتا ہے تو وہ اسے اپنے دل کے سارے راز اور سارے خواب بتا دیتی ہے اور پھر اس سے سوال پوچھتی ہے۔۔
‘ بس مجھے یہ پتہ ہے وہ جو سامنے جھاڑی میں اُگے پھول ہیں میں ان کو حاصل نہیں کر سکتی کیونکہ ان کے ساتھ اُگے ہوئے کانٹے میرے ہاتھوں کو لہولہان کر دیتے ہیں۔۔۔کیا دنیا میں کوئی ایسے پھول ہیں جن کو میں چھوؤں تو میرے ہاتھ زخمی نہ ہوں؟’
اور وہ مسافر شہزادہ وہ ہیپی پرنس اس لڑکی سے وعدہ کرتا ہے
‘ہاں کیوں نہیں اور میں تمہیں ایسے پھول لا کر دوں گا جن کے ساتھ کوئی کانٹے نہیں ہونگے اور انہیں تمہارے بالوں میں لگاؤں گا’
لڑکی جو ‘ساری عمر بے اعتباری کی ڈسی ہوئی تھی’ کہتی ہے کہ تم مسافر ہو ایک دن مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ گے مجھے داغِ مفارقت دے کر رخصت ہو جاؤ گے اور میں اکیلی رہ جاؤں گی ۔ یہ باتیں سن کر شہزادہ مسکراتا ہے اسے تسلی دیتا ہے اور وعدہ کرتا ہے
‘ میں مسافر ہوں نگر نگر گھومتا ہوں ۔ میرا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ہے مگر اب مجھے یہیں رکنا پڑے گا۔۔۔’
‘کیوں؟’ لڑکی نے حیرت سے پلکیں جھپکائیں
تم نے اتنے سارے کام جو بتا دیے ہیں ان کو پورا کرنے کے لیے ایک پوری عمر چاہیے اس لیے اب میں عمر بھر یہیں رہوں گا’
‘سچ؟’ لڑکی خوشی سے چلائی اور اس کے سینے سے چمٹ گئی’
لیکن پھر وہ لڑکی خواب سے بیدار ہو گئی وہ خواب جو سراب تھا۔ اسے احساس ہوا وہ مسافر وہ شہزادہ وہ ہیپی پرنس ایک سراب تھا۔

روبینہ فیصل لکھتی ہیں
‘ لڑکی کو مسافر کی تلاش میں حواس باختہ ادھر ادھر بھاگتے دوڑتے دیکھ کر ایک گوری بوڑھی عورت نے اس کے پاس رک کر اسے اپنے تجربے کے زور پر سمجھاتے ہوئے کہا
‘وہ مسافر تھا نا؟’
‘نہیں وہ ہیپی پرنس تھا ۔۔۔لڑکی نے جیسے اس بوڑھی کی بات سنی ہی نہ ہو’
‘ہجرتوں کے اس موسم میں سب مسافر ہی چلے جایا کرتے ہیں’۔ بوڑھی نے بھی جیسے لڑکی کی بات سنی ہی نہ ہو
‘نہیں وہ کبھی مسافر ہوا کرتا تھا مگر اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اب وہ سفرکا پہیہ روک دے گا اور یہیں میرے پاس رہے گا’ وہ بوڑھی کو تفصیل سے سمجھانے لگی
‘ مسافر کبھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتے ہیں’ بوڑھی عورت نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔ ان کے بغیر جینے کی عادت ڈالنی چاہیے۔
‘نہیں وہ سفر سے بہت تھک گیا تھا ۔وہ صرف میرے لیے زندہ ہوا تھا۔ اس میں چلنے کی سکت بھی نہیں تھی، وہ کیسے جا سکتا ہے۔۔۔اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مسافر نہیں رہے گا۔۔۔’
‘اس کے بغیر جینا سیکھ لو’۔۔۔انگریزی بوڑھی نے اپنے کتے کو پچکارتے ہوئے لڑکی کو سمجھایا۔۔۔لڑکی نے سہم کر بوڑھی کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہاں کسی کے لمبے انتظار کی قبر بڑی واضح کھدی ہوئی تھی۔ جس پر اسے اپنا کتبہ نظر آیا اور وہ خزاں کے پتے کی طرح کانپنے لگی’

اگر ہم روبینہ فیصل کے اس افسانے کے دو نسوانی کرداروں کا نفسیاتی تجزیہ کریں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ مشرقی لڑکی آج بھی اپنے خوابوں کے شہزادے کے انتظار میں ہے۔ اور اس انتظار میں وہ نجانے کتنے مردوں سے ملتی ہے جو اس سے جھوٹے وعدے کرتے ہیں اور وہ بے اعتباری اور بے اعتمادی سے کئی بار ڈسے جانے کے باوجود نئے شہزادے کے وعدوں پر اعتبار کرتی ہے جو ایک دن اسے چھوڑ کر چلا جاتا ہے اور وہ اپنے زخم چاٹتی رہ جاتی ہے۔ دکھی ہو جاتی ہے۔ اداس ہو جاتی ہے۔ ڈیپریشن کا شکار ہو جاتی ہے۔

ماہرین نفسیات جانتے ہیں کہ عورتیں مردوں سے تین گنا زیادہ ڈیپریشن کا شکار ہوتی ہیں اور وہ اس لیے کہ انہوں نے جن مردوں سے محبت کی تھی۔۔۔شادی کی تھی۔۔۔انہیں اپنے خوابوں میں سجایا تھا وہ انہیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں کسی اور حسینہ کی زُلف کے اسیر ہو جاتے ہیں۔ اور وہ تنہا رہ جاتی ہیں۔ احساسِ تنہائی ان کے لیے سوہانِ روح بن جاتا ہے۔

افسانے میں مشرقی عورت کو مغربی عورت اپنے تجربے کی بنیاد پر یہ بتانا چاہتی ہے کہ اگر اسے زندہ رہنا ہے خوش رہنا ہے اور عزت سے رہنا ہے تو اسے اکیلے رہنا سیکھنا ہوگا۔ لیکن مشرقی عورت جب اس مغربی عورت کی آنکھوں میں جھانکتی ہے تو اسے وہاں بھی دکھ کے سائے ہی نظر آتے ہیں۔

روبینہ فیصل یہ کہنا چاہتی ہیں کہ مغربی عورت نے اکیلے رہنا تو سیکھ لیا ہے لیکن اکیلے خوش رہنا نہیں سیکھا۔

روبینہ کے اس افسانے کی کوکھ سے عورتوں کی آزادی اور خود مختاری اور خوشحالی کے بہت سے سوال پیدا ہوتے ہیں۔
کیا عورت کی خوشحالی کے لیے اس کا کسی محبت بھرے رشتے میں ہونا ضروری ہے؟
کیا کوئی عورت اکیلے خوش نہیں رہ سکتی؟

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ایک روایتی عورت چاہے وہ مشرق کی ہو یا مغرب کی ایک محبت کرنے والےمرد کے بغیر خوش نہیں رہ سکتی لیکن بہت سی آزاد منش فیمنسٹ عورتوں کا موقف ہے کہ اگر عورتیں معاشی طور پر آزاد اور نفسیاتی طور پر خود مختار ہو جائیں اور مردوں کی دست نگر نہ رہیں تو وہ اپنے باپ۔۔۔بھائی۔۔۔شوہر۔۔۔بیٹے کی حاکمیت اور کنٹرول سے آزاد ہو جاتی ہیں۔ وہ نا صرف اکیلے رہ سکتی ہیں بلکہ خوش بھی رہ سکتی ہیں۔ پھر وہ صرف ایسے مردوں کے ساتھ رہتی ہیں جو ان کی عزت کرتے ہیں ان کا احترام کرتے ہیں ان سے محبت کرتےہیں اور اگر ایک دن وہ ان سے محبت کرنا، ان کی عزت کرنا چھوڑ دیتے ہیں تو وہ بھی انہیں چھوڑ دیتی ہیں ۔

‘محبت کی آخری کہانی’ کی طرح روبینہ فیصل کے کئی اور افسانوں کا موضوع بھی مرد عورت کی دوستی ’ رشتہ’ تعلق اور محبت ہے۔وہ محبت جو بہت سی آزمائشوں اور قربانیوں کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ بہت سے نفسیاتی مسائل اور سماجی الجھنوں کا شکار ہو جاتی ہے۔بہت سے دل ٹوٹ جاتے ہیں،
ذہن پریشان ہو جاتے ہیں
من بھاری ہو جاتے ہیں
انائیں زخمی ہو جاتی ہیں
روحیں لہو لہان ہو جاتی ہیں

مرد اور عورتیں ایک دوسرےکے قریب آتے ہیں پھر دور ہو جاتے ہیں پھر قریب آتے ہیں پھر دور ہو جاتے ہیں۔ کچھ گتھیاں الجھ جاتی ہیں اور کچھ گتھیاں سلجھ جاتی ہیں۔ قربتوں اور دوریوں ’ محبتوں اور اذیتوں کا یہ سفر ساری عمر جاری رہتا ہے۔

روبینہ فیصل کا افسانہ ‘ ایک ڈائری’ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جو بظاہر سکھی لیکن اندر سے دکھی ہے۔ وہ ساری عمر اپنے دل کا راز چھپائے رکھتی ہے جو اسے اندر سے دیمک کی طرح کھاتا رہتا ہے اور اسے جذباتی طور پر کھوکھلا کر دیتا ہے۔ وہ اپنا راز اپنی ڈائری سے شیئر کرتی ہے اور جب اس کے مرنے کے بعد اس کی سہیلی اس کی ڈائری پڑھتی ہے تو اس پر محبت کا راز افشا ہوتا ہے۔ وہ محبت جو ایک سراب اور ایک عذاب سے کم نہ تھی۔ روبینہ فیصل لکھتی ہیں۔۔
‘ شمسہ اور اس کا شوہر ایک عجیب سے رشتے میں بندھے ہوئے تھے جس میں رہ کر انہوں نے نہ ایک دوسرے کو چھوڑا تھا اور نہ ہی ایک دوسرے کے ساتھ تھے۔بس ندی کے دو کناروں کی طرح ساتھ ساتھ سینہ چوڑا کیے اپنی اپنی انا کی آگ دہکائے کھڑے تھے۔’

یہ کہانی ہمارے عہد کے نجانے کتنے جوڑوں کی کہانی ہے جس میں عورت اپنے دکھ ’اپنے غم اور اپنے سچ کا کسی سے اظہار نہیں کر سکتی اور اس کی منافقت بھری محبت پہلے اسے نفسیاتی مسائل کا شکار کرتی ہے اور پھر اسے خود کشی کے قریب لے جاتی ہے۔

روبینہ فیصل کا افسانہ ‘فینکس’ تین عورتوں کی محبتوں کے المیوں کی کہانی ہے۔
پہلی عورت کی محبت یک طرفہ ہے ۔‘ اسے بتانا ہی پڑے گا کہ یک طرفہ محبت کا غم ایسے ہی ہے جیسے پیٹ میں ہی بچہ مر جائے‘
دوسری عورت کو پتہ چلتا ہے کہ اس کی محبت جھوٹی محبت ہے اور وہ پہلی عورت سے کہتی ہے ‘ یک طرفہ محبت کا ماتم نہ کر جھوٹی محبت کے ڈسے انسان کی اذیت کا اندازہ کر۔۔۔’
تیسری عورت نے اپنی محبت سے شادی کر لی لیکن پھر اس کے محبت کے خواب شرمندہِ تعبیر ہونے کی بجائے چکنا چور ہو گئے۔ اس نے باقی دو عورتوں سے کہا ‘ چپ کرو کم بختو !۔۔۔تم دونوں ہی فضول کہانیاں ہو۔ ایک بدبخت اس محبوب کو بیٹھی رو رہی ہے جس نے اس سے محبت کی ہی نہیں اور دوسری اس دھوکے کو رو رہی ہے جو خود کھانے سے پہلے کسی اور کو دے چکی تھی۔یہ بھی کوئی دکھ ہیں ؟۔۔۔دکھ تو میرا ہے جو اتنا معتبر ہے کہ اس قلم سے نکلتا ہی نہیں۔ اس صفحے پر اترتا ہی نہیں۔۔۔۔تم لوگ اپنی روح اور جسم کی تباہی کو رو رہی ہو۔۔۔میرا تو سمجھو خود پر اعتماد’ میری پہلی محبت کا غرور’ اپنی پاکیزگی پر مان’ اپنی معصومیت پر فخر’ سب بکھر گیا تھا’ ٹوٹے ٹوٹے ہو گیا تھا اور جب یہ سوچتی ہوں کہ کسی کو پتہ چل جائے تو کیا ہوگا تو لگتا ہے بس میری موت ہی ہوگی اور باقی تو کچھ نہیں بچا ہونے والا۔’

روبینہ فیصل کے اس افسانے سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا کی ہر عورت اپنی محبت کی صلیب اٹھائے پھر رہی ہے جو وقت کے ساتھ بھاری ہوتی جا رہی ہے۔محبت مشرقی اور مغربی عورت کا المیہ بنتی جا رہی ہے۔

روبینہ فیصل اپنے افسانے ‘صلح نامے’ میں مرد عورت کے اس ازلی و ابدی امتحان ’اس آزمائش اور اس امتحان کی تشخیص ان الفاظ میں کرتی ہیں
‘ کیوں نہ ہم مان لیں کہ ہماری زندگیاں اسی سپائڈر نیٹ میں الجھ کر رہ گئی ہیں۔ وہ جالا کٹتا ہی نہیں۔۔نہ تمہاری جفا سے نہ میری وفا سے۔۔۔نہ تمہارے کسی جھوٹ سے نہ میرے کسی سچ سے۔۔۔نہ تمہاری عقل سے نہ میرے پاگل پن سے۔۔۔نہ میرے ‘کالے غصے’ سے نہ اسے برداشت کرنے والی تمہاری ‘ جناتی طاقت’ سے۔۔۔نہ تمہاری وقتی اکتاہٹ سے نہ میرے مستقل روٹھنے سے۔۔۔نہ محبت کی ہونے والی بار بار توہین سے نہ بار بار خود کو چھڑا کر بھاگ جانے کی کوششوں سے۔۔۔نہ زمانے کے ان رواجوں سے اور نہ مذہبی بندھنوں سے۔۔۔’
اور پھر روبینہ اس ازلی و ابدی مسئلے ۔۔امتحان۔۔۔آزمائش۔۔۔کا حل ان الفاظ میں تجویز کرتی ہیں
‘ تو آؤ ! ایک دوسرے کی پناہ میں آ کر خوشی خوشی یہ شکست مان لیں اور میدان میں رہ کر لڑنے یا میدان سے بھاگ جانے کے سب راستے بند کر دیں اور بس اناؤں ’مجبوریوں ’رسموں’زنجیروں اور ضرورتوں کے تمام ہتھیار پھینک دیں۔ ایک دوسرے کی ذات میں اپنی اپنی ذاتوں کا سرنڈر کر لیں اور ‘میثاقِ محبت’ کے نام سے کسی اساطیری داستان میں قسمت کے اس لکھے کو درج کروا کر ایک دوسرے کی ذات میں کچھ کہے سنے بغیر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پناہ گزین ہو جائیں۔ اور آنے والی نسلیں اس محبت کو حیرت سے پڑھیں گی جس میں اس کی موت ہو گئی تھی مگر اس کی حرمت کو بچا لیا گیا تھا۔

آؤ بغیر دستخط کے عمر بھر کا صلح نامہ کر لیں۔۔۔۔اور خاموشی اوڑھ کر اس شور میں دفن ہو جائیں جو ہم نے ایک دوسرے سے بچھڑ کر اپنے گرد اگا رکھا ہے۔’
اگر ہم مرد عورت کےرشتے کا نفسیاتی تجزیہ کرنا چاہیں تو ہمیں یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ ہم محبت کی کیا تعریف کرتے ہیں اور اسے کسی رشتے میں کیسے پہچانتے ہیں؟ امریکی ماہرِ نفسیات ہیری سٹاک سالیوان کا موقف ہے کہ کسی رشتے میں محبت اسی وقت موجود ہوتی ہے جب ایک انسان کے لیے دوسرے انسان کا دکھ اور سکھ ’خوشی اور غمی اپنے دکھ سکھ’ خوشی غمی کے برابر عزیز اور اہم ہو جائے۔ ایسے رشتے میں دوستی بھی ہوتی ہے احترام بھی۔ ایسے انسان اپنی عزت کا ہی نہیں دوسرے کی عزتِ نفس کا بھی خیال رکھتے ہیں اور اس کی رائے کا احترام کرتے ہیں۔
وہ محبت جس میں ایک دوسرے کی عزت نہ ہو’ رائے کا احترام نہ ہو زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی اور اگر قائم رہتی بھی ہے تو آقا اور کنیز کے رشتے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ایسے رشتے میں محبت کی عزت نہیں توہین ہوتی ہے۔تعلق قائم رہتا ہے محبت مر جاتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اکیسویں صدی کے مرد اور عورت نے ایک دوسرے سے دوستی کرنا ۔۔۔ایک دوسرے کی عزت کرنا۔۔۔ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنا ۔۔۔ایک دوسرے سے سچی محبت کرنا سیکھا ہے؟
یہ سوال ہم سب کے لیے ایک لمحہِ فکریہ ہے۔
روبینہ فیصل کے افسانے یہی سوال ہم سب سے پوچھتے ہیں۔

مغرب کی عورت اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ایک مرد کے ساتھ ساری عمر گزارنا اور اپنی ذات اور انا اور خود دادری کی قربانی دے کر اس رشتے کو نبھانا کوئی دانشمندی نہیں۔
اس کا مشورہ ہے کہ عورتوں کی خوشحالی کے لیے اس کی self respect بہت ضروری ہے۔اسے اپنا خیال رکھنا سیکھنا ہے اور ان مردوں اور عورتوں سے دوستی کرنی ہے جو اس کا احترام کریں۔ انہیں ان پیشوں اور مشغلوں’ ان آدرشوں اور خوابوں کو تلاش کرنا ہے جو ان کی شخصیت کی تکمیل کریں۔

روبینہ فیصل کے افسانوں پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ میں اس مضمون میں اپنی بات سمیٹتے ہوئے یہ کہوں گا کہ روبینہ فیصل کے افسانے ہمیں ہمارے عہد کی مشرقی‘ مغربی اور مہاجر عورتوں کے مسائل اور ان کے مردوں سے رشتوں کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

میں نے روبینہ فیصل کی افسانہ نگاری کو ایک ننھے منے پودے سے ایک گھنا درخت بنتے دیکھا ہے جو اب میٹھے میٹھے پھل بھی دے رہا ہے۔
میں روبینہ فیصل کو برسوں کی محنت ’ افسانہ نگاری کے فن پر مہارت اور فکر انگیز افسانے تخلیق کرنے کی ریاضت پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔مجھے امید ہے کہ وہ اپنا تخلیقی سفر جاری رکھیں گی کیونکہ وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں ادب کا خوب سے خوب تر کا سفر’ محبت کے سفر کی طرح ایک میراتھون ریس marathon raceہے سو میٹر کی سپرنٹ100 meter sprint نہیں ہے۔

روبینہ فیصل کی کتاب” گمشدہ سائے” کی تقریب رونمائی میں پڑھا گیا۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ملاقاتی
  • کہانی ایک رات کی
  • خواجہ غلام فرید
  • خود سے لڑنا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سرکنڈوں کے پیچھے
پچھلی پوسٹ
کڑوی مسری

متعلقہ پوسٹس

سقوطِ ڈھاکہ کا مقدمہ

دسمبر 16, 2019

تعصب

دسمبر 4, 2019

اشعار کی صحت کے متعلق چوتھا کالم

اگست 20, 2020

محترمہ دعا کی جدوجہد اور قربانی

مارچ 15, 2025

انٹرنیٹ کی سست رفتار

اگست 31, 2024

ماحول دوست رویے اور نوجوانوں کی ذمہ داریاں

مارچ 14, 2026

ہر دن ماں کا دن

مئی 13, 2021

آکسفورڈ میں جنگ اور بادشاہ کی مداخلت

فروری 6, 2023

شوق

جنوری 8, 2025

اچھوں کی تلاش

جون 28, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جڑیں

دسمبر 10, 2019

بچوں پر حقیقی انویسٹمنٹ

نومبر 9, 2024

مسز گل

جنوری 16, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں