خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےٹُوٹُو
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

ٹُوٹُو

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 12, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 12, 2020 0 تبصرے 315 مناظر
316

ٹُوٹُو

میں سوچ رہا تھا۔

دنیا کی سب سے پہلی عورت جب ماں بنی تو کائنات کا رد عمل کیا تھا؟

دنیا کے سب سے پہلے مرد نے کیا آسمانوں کی طرف تمتماتی آنکھوں سے دیکھ کر دنیا کی سب سے پہلی زبان میں بڑے فخر کے ساتھ یہ نہیں کہا تھا۔ ’’میں بھی خالق ہوں۔‘‘

ٹیلی فون کی گھنٹی بجنا شروع ہوئی۔ میرے آوارہ خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ بالکنی سے اٹھ کر میں اندر کمرے میں آیا۔ ٹیلی فون ضدی بچے کی طرح چلائے جا رہا تھا۔

ٹیلی فون بڑی مفید چیز ہے، مگر مجھے اس سے نفرت ہے۔ اس لیے کہ یہ وقت بے وقت بجے لگنا ہے۔۔۔ چنانچہ بہت ہی بد دلی سے میں نے ریسیور اٹھایا اور نمبر بتایا ’’فور فور فائیو سیون۔‘‘

دوسرے سرے سے ہیلو ہیلو شروع ہوئی۔ میں جھنجھلا گیا۔ ’’کون ہے‘‘

جواب ملا۔ ’’آیا۔‘‘

میں نے آیاؤں کے طرز گفتگو میں پوچھا۔ ’’کس کو مانگتا ہے؟‘‘

’’میم صاحب ہے۔‘‘

’’ہے۔۔۔ ٹھہرو۔‘‘

ٹیلی فون کا ریسیور ایک طرف رکھ کر میں نے اپنی بیوی کو جو غالباً اندر سو رہی تھی، آواز دی ’’میم صاحب۔۔۔ میم صاحب۔‘‘

آواز سن کر میری بیوی اٹھی اور جمائیاں لیتی ہوئی آئی۔ ’’یہ کیا مذاق ہے۔۔۔ میم صاحب، میم صاحب!‘‘

میں نے مسکرا کہا۔ ’’میم صاحب ٹھیک ہے۔۔۔ یاد ہے، تم نے اپنی پہلی آیا سے کہا تھا کہ مجھے میم صاحب کے بدلے بیگم صاحبہ کہا کرو تو اس نے بیگم صاحبہ کو بینگن صاحبہ بنا دیا تھا!‘‘

ایک مسکراتی ہوئی جمائی لے کر میری بیوی نے پوچھا۔ ’’کون ہے۔‘‘

’’دریافت کر لو۔‘‘

میری بیوی نے ٹیلی فون اٹھایا اور ہیلو ہیلو شروع کر دیا۔۔۔ میں باہر بالکنی میں چلا گیا۔۔۔ عورتیں ٹیلی فون کے معاملے میں بہت لمبی ہوتی ہیں۔ چنانچہ پندرہ بیس منٹ تک ہیلو ہیلو ہوتا رہا۔

میں سوچ رہا تھا۔

ٹیلی فون ہر دو تین الفاظ کے بعد ہیلو کیوں کہا جاتا ہے؟

کیا اس ہلو ہلو کے عقب میں احساس کمتری تو نہیں؟۔۔۔ بار بار ہلو صرف اسے کرنی چاہیے جسے اس بات کا اندیشہ ہو کہ اس کی مہمل گفتگو سے تنگ آ کر سننے والا ٹیلی فون چھوڑ دے گا۔۔۔ یا ہو سکتا ہے یہ محض عادت ہو۔

دفعتاً میری بیوی گھبرائی ہوئی آئی۔ ’’سعادت صاحب، اس دفعہ معاملہ بہت ہی سیریس معلوم ہوتا ہے۔‘‘

’’کون سا معاملہ۔‘‘

معاملے کی نوعیت بتائے بغیر میری بیوی نے کہنا شروع کر دیا۔ ’’بات بڑھتے بڑھتے طلاق تک پہنچ گئی ہے۔۔۔ پاگل پن کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔۔۔ میں شرط لگانے کے لیے تیار ہوں کہ بات کچھ بھی نہیں ہو گی۔ بس پھُسری کا بھگندر بنا ہو گا۔۔۔ دونوں سر پھرے ہیں۔‘‘

’’اجی حضرت کون؟‘‘

’’میں نے بتایا نہیں آپ کو؟۔۔۔ اوہ۔۔۔ ٹیلی فون، طاہرہ کا تھا!‘‘

’’طاہرہ۔۔۔ کون طاہرہ؟‘‘

’’مسز یزدانی۔‘‘

’’اوہ!‘‘ میں سارا معاملہ سمجھ گیا ’’کوئی نیا جھگڑا ہوا ہے؟‘‘

’’نیا اور بہت بڑا۔۔۔ جائیے یزدانی آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔

’’مجھ سے کیا بات کرنا چاہتا ہے؟‘‘

’’معلوم نہیں۔۔۔ طاہرہ سے ٹیلی فون چھین کر مجھ سے فقط یہ کہا۔ بھابی جان، ذرا منٹو صاحب کو بلائیے!‘‘

’’خواہ مخواہ میرا مغز چاٹے گا‘‘۔ یہ کہہ کر میں اٹھا اور ٹیلی فون پر یزدانی سے مخاطب ہوا۔

اس نے صرف اتنا کہا ’’معاملہ بے حد نازک ہو گیا ہے۔۔۔ تم اور بھابی جان ٹیکسی میں فوراً یہاں آ جاؤ۔‘‘

میں اور میری بیوی جلدی کپڑے تبدیل کر کے یزدانی کی طرف روانہ ہو گئے۔۔۔ راستے میں ہم دونوں نے یزدانی اور طاہرہ کے متعلق بے شمار باتیں کیں۔

طاہرہ ایک مشہور عشق پیشہ موسیقار کی خوبصورت لڑکی تھی۔ عطا یزدانی ایک پٹھان آڑھتی کا لڑکا تھا۔ پہلے شاعری شروع کی، پھر ڈرامہ نگاری، اس کے بعد آہستہ آہستہ فلمی کہانیاں لکھنے لگا۔۔۔ طاہرہ کا باپ اپنے آٹھویں عشق میں مشغول تھا اور عطا یزدانی علامہ مشرقی کی خاکسار تحریک کے لیے ’’بیچلہ‘‘ نامی ڈرامہ لکھنے میں۔۔۔

ایک شام پریڈ کرتے ہوئے عطا یزدانی کی آنکھیں طاہرہ کی آنکھوں سے چار ہوئیں۔ ساری رات جاگ کر اس نے ایک خط لکھا اور طاہرہ تک پہنچا دیا۔۔۔ چند ماہ تک دونوں میں نامہ و پیام جاری رہا اور آخر کار دونوں کی شادی بغیر کسی حیل حجت ہو گئی۔ عطا یزدانی کو اس بات کا افسوس تھا کہ ان کا عشق ڈرامے سے محروم رہا۔

طاہرہ بھی طبعاً ڈرامہ پسند تھی۔۔۔ عشق اور شادی سے پہلے سہیلیوں کے ساتھ باہر شوپنگ کو جاتی تو ان کے لیے مصیبت بن جاتی۔۔۔ گنجے آدمی کو دیکھتے ہی اس کے ہاتھوں میں کھجلی شروع ہو جاتی ’’میں اس کے سر پر ایک دھول تو ضرور جماؤں گی، چاہے تم کچھ ہی کرو۔‘‘

ذہین تھی۔۔۔ ایک دفعہ اس کے پاس کوئی پیٹی کوٹ نہیں تھا۔ اس نے کمر کے گرد ازار بند باندھا اور اس میں ساڑھی اڑس کر سہیلیوں کے ساتھ چل دی۔

کیا طاہرہ واقعی عطا یزدانی کے عشق میں مبتلا ہوئی تھی؟ اس کے متعلق وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا۔ یزدانی کا پہلا عشقیہ خط ملنے پر اس کا رد عمل غالباً یہ تھا کہ کھیل دلچسپ ہے کیا ہرج ہے، کھیل لیا جائے۔ شادی پر بھی اس کا رد عمل کچھ اسی قسم کا تھا۔ یوں تو مضبوط کردار کی لڑکی تھی، یعنی جہاں تک با عصمت ہونے کا تعلق ہے، لیکن تھی کھلنڈری۔ اور یہ جو آئے دن اس کا اپنے شوہر کے ساتھ لڑائی جھگڑا ہوتا تھا، میں سمجھتا ہوں ایک کھیل ہی تھا۔ لیکن جب ہم وہاں پہنچے اور حالات دیکھے تو معلوم ہوا کہ یہ کھیل بڑی خطرناک صورت اختیار کر گیا تھا۔

ہمارے داخل ہوتے ہی وہ شور برپا ہوا کہ کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ طاہرہ اور یزدانی دونوں اونچے اونچے سروں میں بولنے لگے۔ گلے، شکوے، طعنے مہنے ۔۔۔ پرانے مردوں پر نئی لاشیں، نئی لاشوں پر پرانے مردے۔۔۔ جب دونوں تھک گئے تو آہستہ آہستہ لڑائی کی نوک پلک نکلنے لگی۔

طاہرہ کو شکایت تھی کہ عطا اسٹوڈیو کی ایک واہیات ایکٹرس کو ٹیکسیوں میں لیے لیے پھرتا ہے۔

یزدانی کا بیان تھا کہ یہ سراسر بہتان ہے۔

طاہرہ قرآن اٹھانے کے لیے تیار تھی عطا کا اس ایکٹرس سے ناجائز تعلق ہے۔ جب وہ صاف انکاری ہوا تو طاہرہ نے بڑی تیزی کے ساتھ کہا۔ ’’کتنے پارسا بنتے ہو۔۔۔ یہ آیا جو کھڑی ہے۔ کیا تم نے اسے چومنے کی کوشش نہیں کی تھی۔۔۔ وہ تو میں اوپر سے آ گئی۔۔۔ ‘‘

یزدانی گرجا ’’بکواس بند کرو۔‘‘

اس کے بعد پھر وہی شور برپا ہو گیا۔

میں نے سمجھایا۔ میری بیوی نے سمجھایا مگر کوئی اثر نہ ہوا۔ عطا کو تومیں نے ڈانٹا بھی ’’زیادتی سراسر تمہاری ہے۔۔۔ معافی مانگو اور یہ قصہ ختم کرو۔‘‘

عطا نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ میری طرف دیکھا ’’سعادت، یہ قصہ یوں ختم نہیں ہو گا۔۔۔ میرے متعلق یہ عورت بہت کچھ کہہ چکی ہے، لیکن میں نے اس کے متعلق ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالا۔۔۔ عنایت کو جانتے ہو تم؟‘‘

’’عنایت؟‘‘

’’پلے بیک سنگر۔۔۔ اس کے باپ کا شاگرد!‘‘

’’ہاں ہاں‘‘

’’اول درجے کا چھٹا ہوا بدمعاش ہے۔۔۔ مگر یہ عورت ہر روز اسے یہاں بلاتی ہے۔۔۔ بہانہ یہ ہے کہ۔۔۔‘‘

طاہرہ نے اس کی بات کاٹ دی۔ ’’بہانہ وہانہ کچھ نہیں۔۔۔ بولو، تم کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘

عطا نے انتہائی نفرت کے ساتھ کہا۔ ’’کچھ نہیں۔‘‘

طاہرہ نے اپنے ماتھے پر بالوں کی جھالر ایک طرف ہٹائی۔ ’’عنایت میرا چاہنے والا ہے۔۔۔ بس!‘‘

عطا نے گالی دی۔۔۔ عنایت کو موٹی اور طاہرہ کو چھوٹی۔۔۔ پھر شور برپا ہو گیا۔

ایک بار پھر وہی کچھ دہرایا گیا۔ جو پہلے کئی بار کہا جا چکا تھا۔۔۔ میں نے اور میری بیوی نے بہت ثالثی کی مگر نتیجہ وہی صفر۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے عطا اور طاہرہ دونوں اپنے جھگڑے سے مطمئن نہیں۔ لڑائی کے شعلے ایک دم بھڑکتے تھے اور کوئی مرئی نتیجہ کیے بغیر ٹھنڈے ہو جاتے تھے۔ پھر بھڑکائے جاتے تھے، لیکن ہوتا ہواتا کچھ نہیں تھا۔

میں بہت دیر تک سوچتا رہا کہ عطا اور طاہرہ چاہتے کیا ہیں مگر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔۔۔ مجھے بڑی الجھن ہو رہی تھی۔ دو گھنٹے سے بک بک اور جھک جھک جاری تھی۔ لیکن انجام خدا معلوم کہاں بھٹک رہا تھا۔ تنگ آ کر میں نے کہا ’’بھئی، اگر تم دونوں کی آپس میں نہیں نبھ سکتی تو بہتر یہی ہے کہ علیحدہ ہو جاؤ۔‘‘

طاہرہ خاموش رہی، لیکن عطا نے چند لمحات غور کرنے کے بعد کہا۔ ’’علیحدگی نہیں۔۔۔ طلاق!‘‘

طاہرہ چلائی ’’طلاق، طلاق، طلاق۔۔۔ دیتے کیوں نہیں طلاق۔۔۔ میں کب تمہارے پاؤں پڑی ہوں کہ طلاق نہ دو۔‘‘

عطا نے بڑی مضبوط لہجے میں کہا۔ ’’دے دوں گا اور بہت جلد۔‘‘

طاہرہ نے اپنے ماتھے پر سے بالوں کی جھالر ایک طرف ہٹائی۔ ’’آج ہی دو۔‘‘

عطا اٹھ کر ٹیلی فون کی طرف بڑھا۔ ’’میں قاضی سے بات کرتا ہوں۔‘‘

جب میں نے دیکھا کہ معاملہ بگڑ رہا ہے تو اٹھ کر عطا کو روکا ’’بے وقوف نہ بنو۔۔۔ بیٹھو آرام سے!‘‘

طاہرہ نے کہا۔ ’’نہیں بھائی جان، آپ مت روکیے۔‘‘

میری بیوی نے طاہرہ کو ڈانٹا۔ ’’بکواس بند کرو۔‘‘

’’یہ بکواس صرف طلاق ہی سے بند ہو گی۔‘‘ یہ کہہ کر طاہرہ ٹانگ ہلانے لگی۔

’’سن لیا تم نے‘‘ عطا مجھ سے مخاطب ہو کر پھر ٹیلی فون کی طرف بڑھا، لیکن میں درمیان میں کھڑا ہو گیا۔

طاہرہ میری بیوی سے مخاطب ہوئی ’’مجھے طلاق دے کر اس چڈد ایکٹرس سے بیاہ رچائے گا۔‘‘

عطا نے طاہرہ سے پوچھا۔ ’’اور تو؟‘‘

طاہرہ نے ماتھے پر بالوں کے پسینے میں بھیگی ہوئی جھالر ہاتھ سے اوپر کی۔ ’’میں۔۔۔ تمہارے اس یوسفِ ثانی عنایت خان سے!‘‘

’’بس اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔۔۔ حد ہو گئی ہے۔۔۔ تم ہٹ جاؤ ایک طرف‘‘ عطا نے ڈائرکٹری اٹھائی اور نمبر دیکھنے لگا۔ جب وہ ٹیلی فون کرنے لگا تو میں نے اسے روکنا مناسب نہ سمجھا۔ اس نے ایک دو مرتبہ ڈائل کیا۔ لیکن نمبر نہ ملا۔ مجھے موقعہ ملا تو میں نے اسے پر زور الفاظ میں کہا کہ اپنے ارادے سے باز رہے۔ میری بیوی نے بھی اس سے درخواست کی مگر وہ نہ مانا۔ اس پر طاہرہ نے کہا۔ ’’صفیہ۔ تم کچھ نہ کہو۔۔۔ اس آدمی کے پہلو میں دل نہیں پتھر ہے۔۔۔ میں تمہیں وہ خط دکھاؤں گی جو شادی سے پہلے اس نے مجھے لکھے تھے۔۔۔ اس وقت میں اس کے دل کا فرار اس کی آنکھوں کا نور تھی۔ میری زبان سے نکلا ہوا صرف ایک لفظ اس کے تِن مردہ میں جان ڈالنے کے لیے کافی تھا۔۔۔ میرے چہرے کی صرف ایک جھلک دیکھ کر یہ بخوشی مرنے کے لیے تیار تھا۔۔۔ لیکن آج اسے میری ذرہ برابر پروا نہیں۔‘‘

عطا نے ایک بار پھر نمبر ملانے کی کوشش کی۔

طاہرہ بولتی رہی ’’میرے باپ کی موسیقی سے بھی اسے عشق تھا۔۔۔ اس کو فخر تھا کہ اتنا بڑا آرٹسٹ مجھے اپنی دامادی میں قبول کر رہا ہے۔۔۔ شادی کی منظوری حاصل کرنے کے لیے اس نے ان کے پاؤں تک دابے، پر آج اسے ان کا کوئی خیال نہیں۔‘‘

عطا ڈائل گھماتا رہا۔

طاہرہ مجھ سے مخاطب ہو۔ ’’آپ کو یہ بھائی کہتا ہے، آپ کی عزت کرتا ہے۔۔۔ کہتا تھا جو کچھ بھائی جان کہیں گے میں مانوں گا۔۔۔ لیکن آپ دیکھ ہی رہے ہیں۔۔۔ ٹیلی فون کر رہا ہے قاضی کو۔۔۔ مجھے طلاق دینے کے لیے۔‘‘

میں نے ٹیلی فون ایک طرف ہٹا دیا۔ ’’عطا، اب چھوڑو بھی۔‘‘

’’نہیں‘‘ یہ کہہ کر اس نے ٹیلی فون اپنی طرف گھسیٹ لیا۔

طاہرہ بولی ’’جانے دیجیے بھائی جان۔۔۔ اس کے دل میں میرا کیا، ٹُوٹُو کا بھی کچھ خیال نہیں!‘‘

عطا تیزی سے پلٹا۔ ’’نام نہ لو ٹُوٹُو کا!‘‘

طاہرہ نے نتھنے پھلا کرکہا۔ ’’کیوں نام نہ لوں اس کا۔‘‘

عطا نے ریسیور رکھ دیا۔ ’’وہ میرا ہے!‘‘

طاہرہ اٹھی کھڑی ہوئی۔ ’’جب میں تمہاری نہیں ہوں تو وہ کیسے تمہارا ہو سکتا ہے۔۔۔ تم تو اس کا نام بھی نہیں لے سکتے۔‘‘

عطا نے کچھ دیر سوچا۔ ’’میں سب بندوبست کر لوں گا۔‘‘

طاہرہ کے چہرے پر ایک دم زردی چھا گئی۔ ’’ٹُوٹُو کو چھین لو گے مجھ سے؟‘‘

عطا نے بڑے مضبوط لہجے میں جواب دیا۔ ’’ہاں۔‘‘

’’ظالم۔‘‘

طاہرہ کے منہ سے ایک چیخ نکلی۔ بے ہوش کر گرنے والی ہی تھی کہ میری بیوی نے اسے تھام لیا۔۔۔ عطا پریشان ہو گیا۔ پانی کے چھینٹے۔ یوڈی کلون۔ سملنگ سالٹ۔ ڈاکٹروں کو ٹیلی فون۔۔۔ اپنے بال نوچ ڈالے، قمیض پھاڑ ڈالی۔۔۔ طاہرہ ہوش میں آئی تو وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر تھپکنے لگا۔ ’’جانم ٹوٹو تمہارا ہے۔۔۔ ٹوٹو تمہارا ہے۔‘‘

طاہرہ نے رونا شروع کر دیا۔ ’’نہیں وہ تمہارا ہے۔‘‘

عطا نے طاہرہ کی آنسوؤں بھری آنکھوں کو چومنا شروع کر دیا۔ ’’میں تمہارا ہوں۔ تم میری ہو۔۔۔ ٹوٹو تمہارا بھی ہے، میرا بھی ہے!‘‘

میں نے اپنی بیوی سے اشارہ کیا۔ وہ باہر نکلی تو میں بھی تھوڑی دیر کے بعد چل دیا۔۔۔ ٹیکسی کھڑی تھی، ہم دونوں بیٹھ گئے۔ میری بیوی مسکرا رہی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا ’’یہ ٹوٹو کون ہے؟‘‘

میری بیوی کھکھلا کر ہنس پڑی۔ ’’ان کا لڑکا‘‘

میں نے حیرت سے پوچھا۔ ’’لڑکا؟‘‘

میری بیوی نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

میں نے اور زیادہ حیرت سے پوچھا ’’کب پیدا ہوا تھا۔۔۔ میرا مطلب ہے۔۔۔

’’ابھی پیدا نہیں ہوا۔۔۔ چوتھے مہینے میں ہے۔‘‘

چوتھے مہینے، یعنی اس واقعے کے چار مہینے بعد، میں باہر بالکنی میں بالکل خالی الذہن بیٹھا تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجنا شروع ہوئی۔ بڑی بے دلی سے اٹھنے والا تھا کہ آواز بند ہو گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد میری بیوی آئی۔ میں نے اس سے پوچھا۔ ’’کون تھا۔‘‘

’’یزدانی صاحب۔‘‘

’’کوئی نئی لڑائی تھی؟‘‘

’’نہیں۔۔۔ طاہرہ کے لڑکی ہوئی ہے۔۔۔ مری ہوئی‘‘ یہ کہہ کر وہ روتی ہوئی اندر چلی گئی۔

میں سوچنے لگا۔ ’’اگر اب طاہرہ اور عطا کا جھگڑا ہوا تو اسے کون ٹُوٹُو چکائے گا۔؟‘‘

٭٭٭

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مونا لیزا
  • مسلح افواج کے سربراہ
  • ریشم کی مہک
  • مکافات عمل
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خالی بوتلیں خالی ڈبے
پچھلی پوسٹ
دو قومیں

متعلقہ پوسٹس

کشمیر – عہد بہ عہد!

مئی 5, 2023

ایمیزون کی بازگشت

دسمبر 19, 2024

رشتوں کی حقیقت

مارچ 25, 2026

سرگزرِ عدم کی سرحد پر

دسمبر 25, 2024

میرا اور اس کا انتقام

جنوری 15, 2020

جہنم سے زیادہ تکلیف دہ بستیاں!

جولائی 18, 2023

الفاظ ایک قیمتی خزانہ

نومبر 27, 2024

زخم

جنوری 24, 2020

تہذیبِ تنہائی

جنوری 8, 2025

میرا نام رادھا ہے

جنوری 15, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

گیارہویں شریف کا مبارک مہینہ

اکتوبر 14, 2024

پاکستان کا دوٹوک موقف

اکتوبر 14, 2025

مہر و وفا کا پیکر: کریم...

مئی 5, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں