447
موت کبھی بھی مل سکتی ہے لیکن جیون کل نہ ملے گا
مرنے والے سوچ سمجھ لے پھر تجھ کو یہ پل نہ ملے گا
کون سا ایسا دل ہے جہاں میں جس کو غم کا روگ نہیں
کون سا ایسا گھر ہے جس میں سکھ ہی سکھ ہے سوگ نہیں
جو حل دنیا بھر کو ملا ہے کیوں تجھ کو وہ حل نہ ملے گا
مرنے والے سوچ سمجھ لے پھر تجھ کو یہ پل نہ ملے گا
اس جیون میں کتنے ہی دکھ ہوں لیکن سکھ کی آس تو ہے
دل میں کوئی ارمان بسا ہے آنکھ میں کوئی پیاس تو ہے
جیون نے یہ پھل تو دیا ہے موت سے یہ بھی پھل نہ ملے گا
مرنے والے سوچ سمجھ لے پھر تجھ کو یہ پل نہ ملے گا
ساحر لدھیانوی
