438
اب ہیں وہ نا مرادیاں عشق کی تاب بھی نہیں
صدیوں سے سو رہے ہیں اور آنکھوں میں خواب بھی نہیں
دشت وفا میں پیاس کے خیمے کہاں لگائیں ہم
پانی تو بات دور کی کوئی سراب بھی نہیں
عشق نہیں نبھا سکا ہجر نبھا رہا ہوں میں
یعنی خراب ہوں مگر پورا خراب بھی نہیں
یوں میں ہوا ہوں رائیگاں عمر گزر گئی مگر
کوئی گناہ بھی نہیں کوئی ثواب بھی نہیں
مل کے ہیں بیٹھتے کہیں خوب نبھے گی دوستی
میں بھی ہوں بدحساب اور تیرا حساب بھی نہیں
