خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےمقدس ناتا
اردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

مقدس ناتا

ڈاکٹر محمد زاہد کی اردو تحریر

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 29, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 29, 2019 0 تبصرے 416 مناظر
417

مقدس ناتا

اب سفید بالوں نے کنپٹیوں پرہنسنا شروع کر دیا تھا۔ برف کے ان گالوں نے چہرے پر چھائے سال ہا سال کے آلام کو ٹھنڈا ٹھار کر دیا۔ موسم خضاب شروع ہوچکا تھا لیکن مریم جیسی عورتوں کی زندگی میں کبھی کوئی رنگ نہیں چڑھتا۔

جوانی کا ذائقہ چکھا ہی تھا کہ اس کے ارمان سڑک پر کار کے اندر ہی کچلے گئے اور وہ سفید چادر اوڑھے کوکھ میں چار ماہ کاحمل لئے ماں کے گھر واپس آگئی تھی۔ ربع صدی گزر چکی لیکن وہ کچھ بھی بھول نہ پائی تھی۔ بڑی بھابھی نے اس کی ماں کوراضی کرلیا تھا کہ یہ حمل گرا دینا چاہیے کیونکہ بچے والی بیوہ کو کوئی بیاہنے نہیں آئے گا۔

اس کی زندگی مفادات اور جھوٹی انائیت کی بھینٹ چڑھا دی گئی۔ خاندان میں کوئی ہم پلہ نہیں تھا۔ سسرال والے قریبی رشتہ دارتھے۔ وہ کہتے تھے، ”اب مریم ہماری بھی عزت ہے، ہماری مرضی کے بغیر بیاہی نہیں جا سکتی۔ “ قدیم زمانے کے وحشی انسان کی طرح وہ اس پر اپنی مہر لگا چکے تھے۔
پھولوں کا موسم آتا تھا۔ پھل لگتے، پک کربیج بن جاتے۔ بیج پودے اور پودے پھرپیڑ بن کر پھول دینا شروع کر دیتے لیکن اس کے دل کے آنگن میں کبھی بہار نہ آئی۔ وہ انہیں پودوں میں الجھی رہتی۔ حویلی کے پائیں باغ کو اس نے اپنی زندگی کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا۔ بہت سی مرغیاں، مختلف قسم کی بطخیں، طوطے، مینا، راج ہنس، مور، فاختائیں، خرگوش، بکریاں، بلیاں اور دوسرے جانور پال لئے۔ بگلے، کستوری، کئی طرح کی بلبلیں، ہد ہد، ابابیلیں اور دیگر اقسام کی چڑیاں خود بخود کھنچی چلی آتیں۔
نرم و نازک سے ہاتھوں کا گھونگا اپنے منہ پر رکھ کر جب وہ کک کک کی آوازیں نکالتی تو اونچے بوڑھے درختوں کی کھوہ میں چھپی خوراک ڈھونڈتے ہد ہد بھی اپنا کام بھول جاتے اوراس کے ساتھ آوازملا کر گانا شرع کر دیتے۔ پھرباقی پرندے بھی اپنی صدا ان میں شامل کر لیتے۔ یہ آوازیں فضا میں تحلیل ہو کر پورے ماحول کوسحر زدہ کردیتیں۔
اس کی زندگی کی کتاب کے پنوں پر صرف یہی خو شیاں لکھی ہوئی تھیں۔ پورے چاند کی روشنی جب پیپل کے چکنے پتّوں پر راس رچاتی تووہ ساری ساری رات برآمدے میں بیٹھی پرندوں کے چہکنے کا انتظار کرتی رہتی۔ دن بھر وہ ان کے ساتھ دل بہلاتی رہتی اور جب سورج ڈھلتے ہی ٹہنیوں پر بالغ اور نابالغ پرندے رین بسیرا کرتے تو وہ پھر ایک اور رات جاگ کر گزارنے کوتیار ہو چکی ہوتی تھی۔

ہر روز چاند سے لے کرسورج تک کا سفریونہی روکھا پھیکا گزرتا جا رہا تھا۔ اپنوں کی بے مروتی اور پرایوں کا نفور اس کی قسمت میں لکھا جا چکا تھا۔ اور کوئی تھا نہیں جس سے وہ اپنے دل کی باتیں کرتی بس پودے، جانور اور خاندان کے بچے اس کے ساتھی تھے۔ لیکن بچے بھی ایک خاص عمر تک۔ وہ بیوہ کیا ہوئی لوگوں نے تو اسے اچھوت سمجھ لیا تھا۔ اس کی ہر حرکت اور کام میں کیڑے ڈھونڈے جاتے۔ اگر جانوروں سے پیار کرتی تو کانا پھوسی شروع ہو جاتی کہ ان کو جفتی کرتے ہوئے دیکھ کرجنسی حظ اٹھاتی ہے۔
ایک مرتبہ بلند فشار خون کی وجہ سے اس کی نکسیر پھوٹ پڑی تو عورتوں نے کہنا شروع کر دیا، ”گرمی چڑھی ہوئی ہے۔ “ اس کا اپنے بھتیجے سے بہت پیار تھا۔ پیدا ہوتے ہی اس نے اسے اپنابیٹا بنا لیا تھا۔ وہ بھی اکثراسکے ساتھ ہی سوتاتھا۔ جب دس گیارہ سال کا ہوا تو مریم نے بھابھی کو بھائی کے ساتھ لڑتے ہوئے سن لیا کہ اب بیٹے کووہ علیحدہ کمرے میں سلائے گی۔ بھائی نے پوچھا کہ کیوں؟ تو وہ کہنے لگی، ”تمہیں پتا نہیں اب ہمارا بیٹا جوان ہو رہا ہے۔ وہ تمہاری اس بہن کے ساتھ نہیں سو سکتا۔ “ ایسی باتیں سن کر اس پر کیا بیتتی، کوئی سوچتا ہی نہیں تھا۔ خدا کو چاہیے کہ جوان بیواؤں کے اجسام سے دل نکال دے۔ وہ اپنی یہ عطا اجرام کو بخش دے تو زیادہ بہترہے کیونکہ ان بے جان چاند سورج ستاروں میں جا کرشاید وہ دھڑکنا بھول جائے۔
زندگی جیسے تیسے گزر رہی تھی۔ وہ اپنے آپ کو چھپا چھپا کر رکھتی تھی۔
بھابھی کا ایک بھائی امریکہ میں رہتا تھا۔ وہاں کسی امریکی لڑکی کے دامن سے ایسا وابستہ ہواتھاکہ مڑ کر اپنے لوگوں کا منہ نہ دیکھا۔ اس کے دو بچے تھے۔ لڑکی تیرہ چودہ سال کی اور لڑکا دس سال کا۔ اب ان کی ماں سب کو چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ عمیر اب پاکستان میں شادی کرنا چاہتا تھا۔ بیٹے کووہ ساتھ لایا تھا۔ وہ ایسی پختہ عمر کی خاتون تلاش کر رہا تھاجواس کے خاندان کو سینت سنبھال کر رکھ سکے۔

عمیر بہت ہینڈسم، خوش گفتاراورباذوق انسان تھا۔ بھابھی نے مریم سے بات کی۔ اس کے لئے یہ حیران کن اور خوفزدہ کر دینے والی بات تھی۔ اس نے تو عرصہ ہوا شادی کے بارے میں سوچنا بھی چھوڑ دیا تھا۔ شادی تو اس کے لئے ایک ہولناک خواب تھی۔ بیاہ کا خیال بدترین خوف کی طرح اس کے لا شعور میں تہہ در تہہ براجمان تھا۔ اس کی ہر حرکت کو ہمیشہ جنسی خواہش کے ساتھ جوڑ کر اس پر طعنہ زنی کی جاتی رہی تھی۔ اب وہ اپنے آپ کو کیسے راضی کرلیتی۔

لیکن رشتہ داروں کی طعن و تشنیع کے سیاہ عفریت اس کو ڈرا رہے تھے۔ اندیشوں کے باسک ناگ اس کے چاروں طرف پھنکار رہے تھے۔ وہ شش و پنج میں مبتلا تھی۔ انکار کی صورت میں باقی زندگی پہلے سے بھی زیادہ مشکل ہونی تھی۔ ان حالات میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت سلب ہو جاتی ہے۔ اس نے بھائی اور بھابھی کے دباؤ کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔

خاندان میں ایک جشن کا ساماں بندھ گیا۔ بھائی صاحب اور بھابھی جان بے حد خوش نظر آتے تھے۔ بھائی اس کے لئے کچھ خاص کرنے کی خواہش رکھتا تھا۔ شایداحساس جرم، بیگم کا دباؤیا واقعی ہی دلی آسودگی؟
گلے دو ہفتے کام ہی کام تھا۔
گھرکی مرمت، رنگ و روغن، زیورات اور کپڑے۔ مصروفیات ہی مصروفیات۔
پھر شادی کے دن آگئے۔ چار دن کا مسلسل ہنگامہ۔ ٹینٹ، قناتیں، مہمان، کھانے، ڈھولک کی تال پر بے سُرے گیت جن کا کوئی سر تھا نہ پیر۔ اس کو سب کچھ عجیب سا لگ رہا تھا۔ سارے ہنگامے، ساری چہل پہل، ساری دھوم دھام اس کے لئے بے معنی تھی۔

شادی کی رات بہت لمبی اور بھاری تھی۔ سر شام ہی مہمان آنا شروع ہو گئے۔ دیر تک سردی میں پنڈال میں بیٹھے رہے۔ رات ایک بجے تک رسمیں چلتی رہیں۔ کمرے میں آتے آتے بہت دیر ہو گئی۔ وہ دلہن بنی سرخ گلابوں کی سیج پر سمٹی سمٹائی بیٹھی تھی۔ عمیر تھکن سے چور بدن کو گھسیٹتا ہوا اس کے پاس آکر ڈھیر ہو گیا۔ اس نے اپنا سر مریم کی گود میں رکھ لیا اور کہنے لگا، ”میں شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ میری بیٹی اس کے خلاف تھی۔ اسی لئے وہ میرے ساتھ نہیں آئی۔ اسے اپنی ماں سے سخت نفرت ہے۔ آج بھی اس کے مسلسل فون آ رہے ہیں۔ “ فون ملا کربولا، ”تم بھی اس سے بات کر لو۔ اس کے دل میں اپنے لئے محبت پیدا کرنا اب تمہارا کام ہے۔ “ لیکن جب اس نے فون پکڑا تو وہ بند ہو چکا تھا۔ پھر بار بار ملانے کے باوجود وہ لائن پر نہ آئی۔

پانچ منٹ بعدوہ اس کی گود میں سر رکھے سو رہا تھا۔

اگلے دن بھی ایسے ہی تھے۔ عمیرزیادہ وقت بیٹے کے ساتھ گزارتا۔ رات دیر گئے بیوی کے پاس آتا۔ وہ سوچتا تھا کہ مشرقی عورتیں جنسی تعلقات میں دیرآشنا ہوتی ہیں اور ادھیڑ عمر میں تو عادات مزید پختہ ہو جاتی ہیں۔ عمیر اس کے ساتھ باتیں کرتا رہتا۔ وہ حرف مدعا بیان کرنے کی کوشش کرتا لیکن مریم کی رغبت حاصل نہ کرپاتا۔ وہ اس کا سر دباتی، مالش کرتی، مخروطی انگلیوں سے کنگھی کر کے جب وہ اس کے بالوں کے خم نکالتی تو اس کے ساتھ ہی عمیر کی رگ رگ سے کھنچ کر دم بھی نکل جاتا۔ عمیرکے ہاتھوں کی حرارت سے برفاب جسم بھی پگھل جاتے تھے لیکن مریم نہ جانے کس پتھر کی بنی ہوئی تھی کہ مجال ہے اس کے جسم میں کوئی تحریک پیدا ہوتی۔ وہ نربل نراس ہو کر سو جاتا۔

صبح اٹھ کرعمیر دیکھتا تو بستر کی چادر پر دوسری طرف کوئی سلوٹ بھی نہ پڑی ہوتی۔ وہ حیران تھا کہ اس کے بارے میں سنی ہوئی باتیں کیا ہوئیں؟ عمیرامریکی معاشرہ کا پروردہ تھا۔ اس کے دل میں انجانے خیالات منڈلانا شروع ہو گئے۔

پھر ایک رات عمیر کروٹ بدل کر سونے کا بہانا کرتا رہا۔ کافی دیر وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی رہی۔ ساتھ ہی ساتھ وہ ہلکا ہلکا گنگنا بھی رہی تھی۔ آدھی رات کے بعد وہ اٹھ کر کمرے سے باہر چلی گئی۔ کچھ دیر کے بعد عمیر بھی اٹھ گیا اور اس کو تلاش کرتے ہوئے پائیں باغ میں چلا گیا۔ وہ پودوں کے نیچے پڑے پرندوں اور جانوروں کے پنجروں کے درمیان گھوم رہی تھی۔ پھر وہ گنگناتی ہوئی حویلی کی طرف چل پڑی۔ واپس آ کر وہ اس کے بیٹے کے کمرے میں چلی گئی۔ کھڑکی کھلی تھی۔ اس نے پردے کو آہستہ سے ایک طرف ہٹا کر دیکھا تو مریم اس کے سوئے ہوئے بیٹے کو سینے سے لگائے مخروطی انگلیوں سے اس کے سر میں مساج کررہی تھی اور وہ ننھامناگل گوتھنا سا بنا، مریم کی گرم آغوش میں سمٹا، نرم ہاتھوں کی تھپکیوں اور خواب آگیں لوری کے کیف میں مست نیند کے ہلکورے لے رہا تھا۔

اس کی دھیمی، مدھ بھری، دلنشین نغمگی میں لپٹی لوری پکار پکارکر بتا رہی تھی کہ پودوں، جانوروں، پرندوں، بچوں اور انسانوں، سب کے ساتھ اس کاصرف ایک ہی ناتا تھا۔ بے غرض مقدس ناتا۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جنرل (ر) فیض حمید کی سزا
  • آخری جلسہ
  • بھرپور پیداوار حاصل کرنے کے رہنما اصول
  • ماتمی جلسہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کوئلہ بھئی نہ راکھ
پچھلی پوسٹ
رضائی

متعلقہ پوسٹس

جنتی بیوی

نومبر 25, 2025

کچے مکانات، کچے وعدے

ستمبر 7, 2025

مولانا جلال الدین رومی علیہ الرحمہ

دسمبر 22, 2024

بغیر آلات مفت آپریشن

اپریل 23, 2021

پاکستان کی خوشحالی کا راستہ

اکتوبر 29, 2025

پہاڑی کھیت میں!

مئی 20, 2020

جیسا بیج ویسا پھل

فروری 14, 2020

چودہ تیس لفظی کہانیاں

دسمبر 23, 2021

قرةالعین حیدر – احوال وکوائف

جنوری 5, 2017

تنقید نگاری سے توبہ

دسمبر 15, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سرائے کے باہر

مئی 23, 2023

اللہ کے مبارک نام

دسمبر 7, 2022

کچی خلقت اور دھگڑ باز عاشق

مئی 31, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں