خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرجیسا بیج ویسا پھل
اردو تحاریراردو کالمزروبینہ فیصل

جیسا بیج ویسا پھل

ایک اردو کالم از روبینہ فیصل

از سائیٹ ایڈمن فروری 14, 2020
از سائیٹ ایڈمن فروری 14, 2020 0 تبصرے 476 مناظر
477

جیسا بیج ویسا پھل

درخت کاٹ کر کاغذ بنا کر جب اس پر لکھا جاتا ہے کہ درختوں کی حفاظت کریں تو کیسا لگتا ہے؟ بالکل ویسا ہی نا جیسے بچوں کو مادیت پرستی، جھوٹ، بغض، مقابلے بازی اور کینہ سکھا کر معاشرے سے بھلائی کی امید رکھی جاتی ہے۔نہ میں ماہر نفسیات ہوں نہ کوئی استاد مگر ایک ماں اور ایک بینا انسان ہوں اور اسی ناطے سے جو نظر آرہا ہے اسے کہہ دینا ضروری ہے۔ ایک صاحب نے کہا اور بجا کہا کہ سیاست کی کیا بات کرنا ہر کوئی کر رہا ہے اور اپنا حق سمجھ کے کر رہا ہے، مگر اخلاق اور سماج کی کوئی بات نہیں کر رہا، ایک گھر کی کوئی بات نہیں کر رہا جس کی چار دیواری کے اندر انسانوں کی وہ کھیپ تیار ہو رہی ہے جو وہاں سے نکل کر مختلف شعبہ ٗ ہائے زندگی میں پھیل جاتے ہیں، اور انہی میں سے ایک شعبہ سیاست بھی ہے تو جو بنیادی تربیت بچے گھروں سے لے کر نکلتے ہیں اسی کا عکس معاشرے میں دکھاتے پھرتے ہیں، گالی صرف سیاست دان کے حصے میں آتی ہے،حالانکہ آج کل اس گالی کا حق دار ہر کوئی ہے۔۔۔ ہر کوئی۔۔۔
کینڈا کے سکولز میں بچوں کو سوک سینس بھی سکھائی جاتی ہے اور اخلاقیات پر بات بھی ہو تی ہے۔ اپنے حقوق کی بات بھی ہو تی ہے اور ہر وہ چیز جو انہیں ایک انسان کی بہتری کے لئے درست لگتی ہے، اپنی سمجھ بوجھ اور تقاضوں کے مطابق، وہ اسے بچوں کو سکول میں ہی سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسر رہ جائے تو والدین گھر میں سبق دہراتے رہتے ہیں کہ کوئی آپ کے کام آئے تو شکریہ بولو،آپ سے کسی کا نقصان ہو جائے، یا کو ئی چھوٹی بڑی غلطی سر ذد ہو جائے تو فورا معافی مانگ لو، ماں باپ بچوں سے بھی معافی مانگ لیتے ہیں کہ یہ حکم تو ہمارے نبی کا بھی ہے کہ جس کام کی تعلیم دو اس کا عملی نمونہ بھی دکھاؤ کہ بچے سنتے نہیں بلکہ دیکھتے ہیں۔
یہاں سڑک پر چلنے کے قوانین، انسانوں کو ہی نہیں دوسری گاڑیوں کو بھی راستہ اور عزت دینا سکھاتے ہیں۔ یہاں تربیت اور نظام نہ ہو تو گورے، ہم دیسیوں سے ذیادہ جنگلی بن سکتے تھے۔ بات سکولوں میں دی جانے والی تعلیم اور ایک مستحکم نظام کی ہے جس کی وجہ سے ہم کینڈا کو مہذب ملک اور پاکستان کو تھرڈ ورلڈ کا ملک کہتے ہیں۔ اور کہتے رہیں گے جب تک ایک بچے کی تربیت ٹھیک خطوط پر نہیں ہو گی۔
مقام ِ حیرت ہے کہ اسلامی ممالک میں اخلاقیات کا فقدان ہے۔ پاکستان بھی اسلام اسلام کرتا پیدا ہو ا تھا، لا اللہ کا نعرہ ہر طرف تھا اور بعد میں بھی جس نے بھی تاجِ حکمرانی سر پر رکھا ساتھ ہی نعرہ تکبیر بھی بلند کردیا اورلوگوں میں اسلام اسلام کا شور ڈلوا دیا ۔ آج بھی نمازیوں کے نہ سجدے کم ہو ئے ہیں اور نہ ماتھوں پر پڑنے والی محرابیں ۔ مگر جسم میں سے روح نکل چکی ہے۔ سکول،اسلام کی اصل روح سے دور ہیں، سرکاری سکول بچوں کو تعلیم نہیں بلکہ صرف ڈگریاں دے رہے ہیں۔ ذور ہے تو جسم پر، روح کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں، مدرسوں میں نہ تعلیم ہے نہ ڈگریاں، انگلش میڈیم سکولز گدھوں پر دھاریاں بنا کر زیبرے بنا رہے ہیں اور ماں باپ۔۔۔۔۔ماں باپ بچوں کو منافقت،حرص اور حسد کا سبق ذور شور سے رٹوا رہے ہیں۔
پاکستانیوں کو ایک بات پر بہت ناز ہوا کرتا تھا کہ ہم اعلی اخلاقیات کے علمبردار، کوئی چاند سے اتری مخلوق ہیں جن میں احساس اور محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہو ئی ہے اور گوروں کو سائنسی اور ہر قسم کی ترقی کرتے دیکھ کر جل کڑھ کر خود کو تسلی دیا کرتے تھے یا شائد ڈھٹائی سے اب بھی دیا کرتے ہیں کہ لو دیکھو ذرا کیسے سور کھا کھا کے، بن روح کے جسم جو جذبوں سے خالی ہیں اور یہ مطلبی قسم کے لوگ ہیں جو بغیر غرض کے کسی کی طرف منہ کر کے تھوکتے بھی نہیں۔خود غرض، بے حس اور نہ جانے کونسے کونسے فتوے ان مغربی لوگوں کے لئے ہوا کرتے تھے۔ مگر افسوس کے ساتھ آج کی تاریخ میں یہ اعلان کرنا پڑتا ہے کہ نہ اِدھر کے نہ اُدھر کے ہم جو آدھے تیتر آدھے بٹیر ہیں ہم کون ہیں؟ نہ ہم نے کوئی دنیاوی ترقی کی اور اخلاقی جس کا جھنڈا اٹھائے پھرتے تھے، محبت، رواداری، برداشت، صبر اور نہ جانے قران پاک کی کن کن آیتوں سے کون کون سا عطر نکال کر اپنے مردے پر چھڑکا کرتے تھے کہ پھول تمھارے تو کیا وہا خوشبو تو ہماری ہے۔۔
مگر سوچیں۔۔ رک کر سوچیں اور بار بار سوچیں۔۔ ہم کہاں کھڑے ہیں اور کیوں کھڑے ہیں۔۔
میرا مشاہدہ یہ ہے کہ ہم،مطلب ایک پاکستانی، ایک مسلمان کی حیثیت سے، اس زندگی میں علم اور اخلاق کی کوئی درجہ بندی ہو تو ہم سب سے آخر ی سیڑھی پر کھڑے ہیں اور شائد سیڑھی پر تو ہیں ہی نہیں زمین یا زیر ِ زمین ہیں۔۔۔ محبت، برداشت،اعلی ظرفی،صبر اور خلوص یہ اثاثہ تھا جس کا ہم دعوی کیا کرتے تھے۔۔کیا اب بچے یہ سبق گھروں سے لے کر نکل رہے ہیں؟ کیا سکولز انہیں یہ تربیت دے رہے ہیں؟
میرا مشاہدہ یہ ہے اس سے اگر کوئی اختلاف کرے تو مجھے دلی خوشی ہو گی کہ کچھ سچ ایسے ہو تے ہیں جن کے لئے دل سے یہ دعا نکلتی ہے کہ کاش یہ جھوٹ ہی ہوں۔۔ مجھے اس معاملے میں اگر کوئی جھوٹا قرار دے دے تو میں خوشی سے جھوم اٹھوں گی۔۔۔۔۔
والدین بچوں کو خود یہ سبق سکھا رہے ہیں کہ صرف کامیاب ہو جاو طریقہ کوئی بھی اختیار کرو۔۔ ایسا ہے کہ نہیں؟
بچوں کو کہا جا رہا ہے کہ خبردار کبھی کسی کے سامنے سچ مت بولنا۔۔ جھوٹ بولو گے، اعلی سرکاری عہدے داروں یا امیروں سے دوستی کرو گے، ان کے تلوے بھی چاٹنے پڑیں تو چاٹو گے، دل میں جتنا بھی بغض ہو ماتھے پر ایک بھی شکن نہ آنے پائے، دل گالیوں سے بھرا ہو، منہ سے پھول ہی اگلنے پڑیں گے۔۔۔ ایسا ہے کہ نہیں؟
جس سے ضرورت ہو صرف اس سے ملو، بغیر پیسے، یا بغیر عہدے کے لوگوں کو منہ لگانے کی ضرورت نہیں، ان کے پیار یا خلوص کو چاٹنا ہے کیا؟ ایسا کہا جا رہا ہے یا نہیں؟
جو کام کا بندہ ہو، مطلب جس سے کوئی بھی کام نکل سکتا ہو، وہ کردار کو کتنا بھی کمزور کیوں نہ ہو، شراب پیتا ہو، جوا کھیلتا ہو، رنڈی بازی کرتا ہو، جھوٹ بولتا ہو، قبضہ گروپ ہو، کوئی مافیا ہو، کوئی بھی شیطان ہو۔۔ میرے بچے تمھارا اس سے کوئی تعلق نہیں تم نے اسے بے تحاشا عزت دینی ہے اپنے گھر کھانے پر بلانا ہے جیسے بھی، تمھارے فنکشن میں ایسا بااثر بندہ آجائے تو کیا ہی کہنے۔ کیا ایسا نہیں کہا جا رہا؟
کیا کسی ماں باپ نے آجکل بچوں کو یہ کہا کہ انسانوں میں برتری کا معیار تقوی ہے؟
کوئی تم سے لاکھ محبت کرتا ہو، لاکھ مخلص ہو، اگر اس سے کام نکل آیا اور وہ آگے تمھارے کسی کام کا نہیں تو اس پر وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں، کامیابی کی کنجی کہ استعمال کرو اور آگے بڑھو۔۔۔ کیا میں جھوٹ لکھ رہی ہوں، کیا ایسی باتیں دانشمندی کی باتوں میں شمار نہیں ہو رہیں؟
تمھیں کسی کی کوئی بات کتنی بھی بری لگی ہو، پیچھے پیچھے سے کر لو اس کو منہ پر بتانے کی ضرورت نہیں، منہ پر بس ہر ایک کو خوش دلی سے ملو، لیکن اگر کوئی بندہ کام کا نہیں تو اس کی رکھ کے بے عزتی کر دو، اس نے کچھ غلط کیا ہو یا نہیں ۔۔ کیا یہ تربیت کا حصہ بن رہا ہے یا نہیں؟
اپنا کام نکلوانے کے لئے اپنے ہی بچے کھا جاؤ۔۔جو تمھاری ترقی کی راہ میں آئے اسے نگل جاؤ اور ڈکار بھی نہ لو۔۔ ترقی کر و آگے بڑھو۔۔ ایسا ہے کہ نہیں، خوشی کے یہ نئے مطلب نکلے ہیں یا نہیں؟
اپنی کسی غرض کے بغیر کسی دوسرے کی مدد کرنے والے کو احمق اور جذباتی نہیں کہا جا تا؟ کسی کی موت کا سوگ منانے والے کو ہا ہا حد سے جذباتی نہیں کہا جا تا۔۔؟
کسی کے دکھ میں دل سے شامل ہو نے والے کو کیا یہ نہیں کہا جا تا کہ پاگل ہے اپنی ہمت سے ذیادہ بغیر کسی لالچ کے مدد کر رہا ہے اس کا انجام برا ہونے والا ہے اور کیا اس کا انجام واقعی برا نہیں ہو تا؟صبر اور اللہ پر توکل اور اللہ سے صلہ ملنے کی امید دلانے والے سائے بھی ساتھ نہیں چھوڑ جا تے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو مجھے بتائیں میں سننا چاہتی ہوں کہ میں یہ سب جھوٹ لکھ رہی ہوں۔۔۔
کیا ماں باپ دوسروں سے مقابلے بازیوں اور ضد بازیوں میں بچوں کو اپنا آپ بیچنے، کیش کروانے، اور بولی لگوانے کے طریقے خود نہیں بتا رہے؟
کیا آج گھروں میں بیٹھ کر یہ بات کی جاتی ہے کہ اس بندے نے نیکی کی، اپنی حد سے باہر جا کر کسی کی مدد کی، کسی غریب یتیم کے سر پر ہاتھ رکھا، ان کی مدد کی، کسی بیٹی کی شادی کروا دی، کسی کو سڑک پار کرا دی، کسی کو منزل دکھا دی، کسی کا منزل تک پہنچنے کا وسیلہ بن گیا، تو چلو مل کر اسے شاباش دیں تاکہ کل کو اس کی تقلید میں ایک پو ری بٹالین تیار ہو، اس کے برعکس اس نیکی کرنے والے کا ٹھٹھہ لگایا جا تا ہے، جس کے ساتھ اس نے نیکی کی ہو تی ہے اس کے ہاتھوں درگت بنتے دیکھ کر سب ہنستے ہیں، پیٹھ پیچھے کہتے ہیں بڑا آیا تھا جنت کمانے والا اور وہ خود بھی اور اس کو دیکھنے والے بھی آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی یہ بتانا چاہتے ہیں کہ دیکھو نیکی کرنے والے احمقوں کا یہ انجام ہو تا ہے۔۔۔
خبردار!! جو کبھی بھولے سے بھی کسی کے کام آئے۔کیا ماں باپ بچوں کو آپسی احترام، برداشت، مساوات اور انصاف سکھا رہے ہیں؟کیا ماں باپ بچوں کو سچ بات کہنے کی تلقین کررہے ہیں؟ شکر گذاری اور قناعت اور صبر کی تعلیم دے رہے ہیں؟ نفسا نفسی کے اس دور میں دوسروں کا خیال رکھنے کی بات کرتے ہیں؟ نہیں بالکل بھی نہیں۔۔کوئی کر رہا ہے تو آئے اورمجھے چیلنج کرے۔
اس کے بعد مزاحیہ ترین بات یہ ہے کہ سب بیٹھ کر دوستوں میں، رشتوں داروں میں، فیس بک پر، وٹس ایپ پر گروپس میں اس بات پر افسوس کرتے نظر آتے ہیں کہ نجانے اب لوگ اتنے خود غرض، حاسد اور کینہ پرور کیوں ہو تے جا رہے ہیں۔ نہ جانے کیوں معاشرے سے دردمندی اور احسان مندی ختم ہو رہی ہے۔ وفا، محبت اور خلوص کہاں گیا۔بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں رہا۔ نہ جانے وہ بھلے وقت کیا ہوئے جب انسان انسان کے کام آیا کرتا تھا، جب سچ کی جیت اور جھوٹ شرمسار ہو کر منہ چھپایا کرتا تھا، دھوکہ دینے والے کا منہ کالا اور ایماندار کے سر پر سونے کا تاج ہو ا کرتا تھا۔
یہ نادان نہیں جانتے کہ یہ سب اپنے ہی بوئے ہوئے بیج ہیں جن کا پھل بالکل وہی ہے جیسا بیج بویا گیا تھا۔
اب تو فوٹو شاپ نے منافقت اور بناوٹ کے سب ریکارڈ توڑ دئیے ہیں، انسان کا اصل تو کہیں کھو ہی گیا ہے۔ اصلی انسان غائب اور ہر طرف نقل ہی نقل چھائی ہو ئی ہے۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا حادثہ
  • بندگی و الوہیت
  • آشفتہ خوابِ آشپزخانه
  • تاریخ کے وارث – آخری قسط
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بحرِ بے کنار تُو
پچھلی پوسٹ
التجا

متعلقہ پوسٹس

اُمّ الغذا کلونجی: ہر بیماری کے علاج میں معاون

اپریل 24, 2022

شادی کی بریانی

مئی 9, 2020

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات

نومبر 9, 2025

کس کی نظر لگی آشیانے کومیرے

جون 19, 2018

برمی لڑکی

اپریل 21, 2019

تین میں، نہ تیرہ میں

جنوری 13, 2020

نازو

فروری 13, 2022

نقوشِ وجود

دسمبر 11, 2024

افشائے راز

نومبر 15, 2019

غریب اور عید

اپریل 26, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بُرقعے

ستمبر 24, 2013

محترمہ زیب النساء زیبی، نام ہے...

اگست 11, 2020

سچائی کے پردے

جنوری 8, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں