خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرجوتا مارو سالوں کو
اردو تحاریراردو کالمزروبینہ فیصل

جوتا مارو سالوں کو

روبینہ فیصل کا ایک اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 20, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 20, 2019 0 تبصرے 336 مناظر
337

جوتا مارو سالوں کو

یہ میرے الفاظ نہیں ہیں یہ وہ نعرے ہیں جو ایک علم کی طالبہ جا معیہ ملیہ اسلامیہ کے باہر اپنے ساتھی طالبعلموں کو پولیس کے ہاتھوں پٹتے، خون میں لت پت ہو تے دیکھ کر لگا رہی تھی، پورا نعرہ پڑھئیے؛
بی جے پی کے دلالوں کو
جوتا مارو سالوں کو
اور وہ صرف یہ نعرہ نہیں لگا رہی تھی بلکہ جنہیں وہ دلال کہہ رہی تھی یعنی دہلی پو لیس، ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرکسی چٹان کی طرح کھڑی بھی تھی۔دوسری تین چار طالبات اپنے ساتھی طالبعلم کو جسے پولیس ڈنڈوں سے ایسے پیٹ رہی تھی جیسے وہ کوئی انتہائی خطرناک دہشت گرد ہو۔۔ بچوں کی بے بسی کا یہ منظر مجھ سے دیکھا نہیں گیا۔۔۔مگر۔۔۔۔۔۔۔
اگرانڈیا میں رہنے والے یہ مسلمان بچے اس وقت خاموش نہ رہتے جب جموں کشمیر میں بھارت ایک ناقابل ِ شکست غنڈہ بنا مجبور اور بے کس کشمیریوں کو محصورکئے ہو ئے تھاور ان کی خود مختار آئینی حیثیت کو پاؤں تلے روند کر انہیں بھارت کا شہری نہیں بلکہ غلامی کے درجے پر پہنچا چکا تھا (میں نے تب بھی لکھا تھا کہ یہ بات اب یہاں پر رکے گی نہیں اگر جن شرائط پر کشمیر پر سودے بازی کی گئی وہ شرائط ہی ختم کر نے کی جرات کر سکتا ہے تو مودی کا نیا بھارت کچھ بھی کر سکتا ہے)،تو شائد اسی سال کے اندر اندر کم از کم مودی سرکار ایک اور اتنا بڑا قانون بنانے کی ہمت نہ کر پا تی۔اور اس کے بعد جب سب مسلمان مصلحت کی چادر اوڑھ کر بابری مسجد کے فیصلے پر سر تسلیم خم کر گئے توآپ نے ظلم اور نا انصافی کے ہاتھ اور مضبوط کر دئیے۔۔حکومت، جب دوسرے گھر جلانے میں مصروف تھی تو مزاحمت کے نام پر بالٹی بھر پانی ادھر ڈال دیا جاتا تو شائد۔۔۔۔۔
مگر اب شہریت ترمیمی بل جو 12دسمبر کو پارلیمنٹ میں بی جے پی کی اکثریت ہونے کی وجہ سے باآسانی قانون کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ جس کے مطابق، افغانستان،پاکستان اور بنگلہ دیش سے آئے ہندو، عیسائی،سکھ،بدھ،جین اور پارسی،ان سب کو بھارتی شہریت باآسانی مل جائے گی کیونکہ ان مسلمان ممالک میں غیر مسلمانوں پر بہت ظلم ہو رہا ہے۔۔ یہاں تک بات سمجھ میں آبھی جائے تو جب 1971 سے آکر ادھر بس جانے والے مسلمان، ان کا کیا۔۔ اس زمانے میں پاکستان کو نیچا دکھانے کے لئے بھارت نے بڑی فر اخ دلی سے اپنی سرحدیں کھول دی تھیں۔۔ مکتی باہنی کی تربیت، بنگالیوں کو پناہ دینا اور اپنی ائیر سپیس افواج(پاکستان) کے لئے بند کر دینا یہ 1971کے ہمسائے کے وہ تحفے ہیں جن کی وجہ سے بنگلہ دیش کا وجود ممکن ہو سکاتھا۔ اور اس نئے قانون کے بننے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان پناہ گزینوں میں جب ۱۱ لاکھ ہندو مہاجروں کی تعداد مسلمانوں سے زیادہ نکلی جو کہ ۸ لاکھ تھے، تو پھر بل کو ترمیم کر کے منظور کروا لیا گیا جس کی وجہ سے، آسام (جو مقبوضہ کشمیر کے بعدمسلمان آبادی والا دوسرا بڑا صوبہ ہے) میں ۱۱ لاکھ غیر مسلم مہاجروں کو خود بخود شہریت مل جائے گی اور صرف مسلمان اپنی شہریت ثا بت کر نے کے لئے در بدر ہو تے پھریں گے اور کیمپوں میں رہیں گے۔ یہ بلاشبہ کالے دلوں کے ساتھ کالا قانون بنایا گیا ہے اور مسلمانوں سے ہندوستان پر ہزار سال تک حکومت کر نے کا بدلہ بڑی بھونڈی سی ادا کے ساتھ لیا جا رہا ہے
۔ اور دوسری بات جو پارلیمنٹ میں وزیر ِ داخلہ امیت شاہ نے کی کہ” مسلمانوں کی آبادی ہندوؤں سے ذیادہ ہو رہی ہے، تو کیا بھارت کو مسلمان ملک بنا دیں؟ ”
امرتا پریتم نے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے وارث شاہ کو قبر سے بلا یا تھا اور ایک آفاقی نظم تخلیق ہو گئی تھی کہ وہ صوفی اور شاعر لو گ تھے ۔۔ لیکن میں کیا کروں میرا دل اندرا گاندھی کو اسی طرح قبر سے بلا کر پو چھنے کو کر رہا ہے مگر امرتا کی طرح نہیں اس جامعیہ ملیہ کی بے باک طالبہ کی طرح کہ اب بول!!۔قبر سے اٹھ کر آاوردیکھ کہ تاریخ کا پہیہ الٹا گھومے تو منہ پر کیسا تھپڑ پڑتا ہے۔
یہ سخت دل، خود پرست لوگ جو اپنی انا سے آگے سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور جو وطن پرستی اور دشمن کونیچا دکھانے کے نام پر انسانیت کے خلاف کیسے کیسے گھناؤنے جرائم، سازشیں اور پر وپگینڈا کرتے ہیں ان مرے ہو وئں کو بھی آواز دیں تو کیسے دیں۔
کاش!! آج اندرا گاندھی قبر سے اٹھ کر بس ایک دفعہ آئیں اور دیکھیں کہ بنگلہ دیش بنوا کر انہوں نے اپنے تئیں جس دو قومی نظریہ کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا تھا وہ ڈوبا نہیں تھا اور دیکھیں آج کسی سانپ کی طرح پھن پھیلائے آپ ہی کے ملک میں کھڑا ہے۔آج آپ کے ملک میں رہ جانے والے مسلمان، جو سالوں سے یہی کہتے جا رہے تھے کہ” ہم ٹھیک ہیں ہم ٹھیک ہیں ” آج مودی کی صورت،چہروں سے نقاب اترے تو بھارت کی سیکولرزم کا جھلسا ہوا چہرہ سب کو نظر آگیااور وہ کتنے ٹھیک ہیں یہ بھی نظر آگیا۔
بھارت والے، ملک کو جمہوری اور آئین کو سیکولر کر کے بہت سال ان عفریتوں سے بچے رہے،جن کے پنجے، پاکستان میں اندر تک گھستے جا رہے تھے۔۔ آج پاکستان، آئین میں مذہب کی آمیزش کے باوجود، سالوں مارشل لاء اور نیم مارشل لاٗ حالتوں میں رہنے کے باوجود بھارت سے بہتر شکل کا لگ رہا ہے۔
۶۱ دسمبر ۱۷۹۱کو سقوط ِ ڈھاکہ ہوا تو جانئے ۲۱ دسمبر ۹۱۰۲کو بھارت کی نقاب کشائی ہو گئی۔۔ اصلی چہرہ سامنے آگیا۔۔یہ ایکسپوز ہو نے کا سلسلہ مقبوضہ کشمیر کی خود مختار حیثیت کو منسوخ کر نے سے شروع ہوا، بابری مسجدکے ملبے پر رام مندر کی تعمیر کا فیصلہ، گائے کا گوشت کھانے، پکانے والوں کے قتل و غارت، اور اب یہ شہریت کاکالا قانون اور اس پر ختم ہو نے والا نہیں، بوتل میں سے جن باہر تو تھا اب نظر آنے سے بھی شرماتا نہیں ہے۔
جیسے اسرائیل نے ساری دنیا سے یہودی اسرائیل آباد کر نے کا کام کیا تھا یہی حرکتیں ہندو توا کے نام پر مودی سرکار کر رہی ہے۔ہندوستان میں مسلمانوں کے مقابلے میں ہندو وں کی آبادی بڑھانے کا کیا مردانہ طریقہ ہے کہ مسلمانوں کو ملک بدر ہی کر نا شروع کر دیا جائے۔۔نہ رہے گا بانس اور نہ ہی بجے گی بانسری۔واہ۔۔۔۔۔۔
میں تو کئی سالوں سے اپنے ہی ملک کے دانش وروں کی باتیں سن سن کر پک چکی تھی جن میں ہر دوسری بات میں مولانا ابوالکلام آزاد کی پیشن گوئیوں کا ذکر ہو تا تھا۔ جو انسان کانگریس میں تھا اور جس نے وہی کہنا تھا جو کانگریس کے دوسرے لیڈر صاحبان جیسے کہ پنڈت نہرو، گاندھی جی اور پاٹیل وغیرہ نے کہنا تھا مگر نہیں ان کی ہر بات دہرا کر انہیں ولی کے درجکے پر بٹھانا، دانشوری بس اسی کا نام رہ گیا تھا اوریہ پیشن گوئی کہ پاکستان بننا ہی نہیں چاہیئے تھا، اس پر تو جب سب عالم فاضل مل کر سر دھنتے تھے تو بس۔۔۔۔تو اب ٹھنڈ پڑ گئی؟
اگر ۰۰۲ ملین مسلمان، ایک دن کسی بھی قانون سے کھڑے کھڑے اپنے پاؤں کے نیچے زمین سے محروم ہو سکتے ہیں تو اس سے ڈبل ٹرپل بھی ہو تے تو کیا ہو تا۔۔ کیا ہندو اپنی آبادی مسلمان سے ذیادہ رکھنے کے لئے ان کی زبردستی نس بندی (سنجے گاندھی نے اندرا کی ایمرجنسی کے زمانے میں یہ بھی کیا) نہ شروع کر دیتے۔”ہندوستان ہندوؤں کا ہے۔۔” یہ سوچ اگر اس وقت قائد اعظم کو نظر نہ آتی تو ہندو مسلم اتحاد کے ایمبیسیڈر کہلائے جانے والے کیوں پاکستان بنانے کی سر دردی مول لیتے۔۔ اندرا گاندھی کے ساتھ اگر ابو الکلا م آزاد بھی دو منٹ کے لئے اپنی قبر سے اٹھ کر تشریف لائیں تو دیکھ لیں کہ آج کی صدی کے ہندوستانی مسلمانوں نے آپ ہی کی طرح کی مصالحت پسندی کی سیاست کر کے کیا حاصل کیا ہے؟
ہم سے کل تک یہ سوال کر نے والے کہ تم لوگوں نے پاکستان لے کر کیا حاصل کیا ہے آج اسی کٹہرے میں کھڑے ہیں اور ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان لے کر ہم نے کم از کم آزادی کی سانس تو لی ہے۔ اور اگر اس چھوٹے سے کٹے پھٹے پاکستان کو پہلے دن سے بقا کی جنگ میں الجھا نہ لیا جا تا تو شائد ایک پر امن اور انصاف بھرا معاشرہ ہمیں مل ہی جا تا۔
دیر سے کھڑے ہو ئے مگر جس جرات مندی سے جامعیہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ یو نیورسٹی اور جواہر نہرو یو نیورسٹی کے طالبعلم خاص کر کے لڑکیاں، تمام مسلمانوں کی آواز بنے نا انصافی کے خلاف سینہ سپر ہیں، بھارت کے مسلمان علما اور سیاستدانوں کے لئے قابل ِ تقلید ہیں کہ قوم اگر آپ پر اعتماد کرتی ہے تو ان کی سودے بازی کرتے ہو ئے تھوڑا سا رک جایا کریں کہ یہ معاملات نسلوں تک جاتے ہیں۔
۔۔ ہمیں اب بس انسانیت کی ضرورت ہے اور اگر مذاہب کی ڈوری بھی تھامنا ہے تو ان کے وہ پاٹ پڑھیں جو پیار، محبت اور امن کا درس دیتے ہیں۔اور یہ 2019کی جاتی بہاروں کا پیغام اس پو رے خطے کے نام ہے کہ آنے والے سب بچے امن سے،سر اٹھا کر برابری کی سطح پر جی پائیں۔۔۔۔۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • یہاں کچھ پھول رکھے ہیں
  • سفید خون
  • مرثیے اور قصیدے کی مشترک جہتوں کا جائزہ
  • بھٹو کی وراثت اور بلاول
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
موت، مشرف اور انصاف
پچھلی پوسٹ
اے چمن والو! متاعِ رنگ و بُو جلنے لگی

متعلقہ پوسٹس

نا مکمل تحریر

جنوری 15, 2020

پتوکی از مستنصر تارڑ

ستمبر 29, 2019

غلط فہمی کا نتیجہ

اپریل 1, 2023

عشق کینہ ور کی آگ

جنوری 12, 2020

ممدبھائی

جنوری 16, 2020

کرنل حبیب ظاہر کا غیاب

اگست 15, 2025

امریکی سپاہی اور یخ پارہ افغان لڑکی

جون 27, 2023

ہالی ووڈ کا فریب – چوتھی قسط

جنوری 19, 2025

شہزاد نیر ایک آفاقی شاعر

جنوری 21, 2020

بس اسٹینڈ

جنوری 24, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

منبعِ وجود

مئی 27, 2025

سوچ کی لہریں

فروری 3, 2020

ایک باپ بکاؤ ہے

مارچ 29, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں