خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکیا ہم بے وقوف ہیں؟
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

از سائیٹ ایڈمن مئی 16, 2026
از سائیٹ ایڈمن مئی 16, 2026 0 تبصرے 4 مناظر
5

یہ سوال صرف طنز نہیں بلکہ ایک قومی آئینہ ہے۔ ایک ایسا آئینہ جس میں پاکستانی قوم اپنی اجتماعی نفسیات، اپنی عادتوں، اپنے ردعمل اور اپنی ترجیحات کو دیکھ سکتی ہے۔ دُنیا کی ہر قوم اپنی تاریخ اپنے دُکھوں اور اپنی کامیابیوں سے بنتی ہے۔ پاکستانی قوم بھی انہی پیچیدہ عوامل کا نتیجہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم بہ حیثیتِ قوم ہمیشہ جذبات میں فیصلے کرتے ہیں اور عقل کو وقتی مفاد کے تابع بنا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی ہم کسی کو نجات دہندہ بنا دیتے ہیں اور چند سال بعد اسی کو غدار کہنے لگتے ہیں۔ ہم نعروں پر جلد یقین کرتے ہیں اور سوال پوچھنے سے گھبراتے ہیں۔ یہی تضاد اس قوم کی سب سے بڑی نفسیاتی کمزوری بن چکا ہے۔
قیام پاکستان کے وقت یہی قوم بے مثال قربانیوں کا استعارہ تھی۔ لاکھوں لوگ ہجرت کر کے آئے، اپنے گھر، اپنی زمینیں اور اپنے رشتے چھوڑ دیے۔ یہ بے وقوفی نہیں تھی بلکہ ایک نظریے پر یقین تھا۔ یہی قوم تھی جس نے 1965 کی جنگ میں اجتماعی جذبہ دکھایا۔ 1970 کی دہائی میں صنعت کاری کے خواب دیکھے۔ ایٹمی پروگرام کے لیے بھوک برداشت کی۔ زلزلوں سیلابوں اور دہشت گردی کے دوران ایک دوسرے کی مدد کی۔ دُنیا کے کئی معاشروں میں اتنی بڑی سماجی امداد کا جذبہ کم نظر آتا ہے۔ پاکستانی معاشرہ ابھی بھی خاندان، پڑوسی اور رشتوں کے تصور سے وابستہ ہے۔ یہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر قوم اتنی صلاحیت رکھتی ہے تو پھر بار بار بحران کیوں پیدا ہوتے ہیں؟ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پاکستانی قوم کو مسلسل جذباتی سیاست کی گئی۔ یہاں تعلیم سے زیادہ شخصیت پرستی کو فروغ ملا۔ عوام کو اداروں کی بجائے چہروں سے محبت کرنا سکھایا گیا۔ کبھی فوج کو مکمل نجات دہندہ بتایا گیا۔ کبھی سیاست دانوں کو مسیحا بنا دیا گیا۔ کبھی مذہب کو سیاسی ہتھیار بنایا گیا۔ اس عمل نے عوام کے اندر تنقیدی شعور کو کمزور کیا۔ لوگ سوال پوچھنے کی بجائے گروہوں میں تقسیم ہوتے گئے۔
معروف مؤرخ ابن خلدون نے لکھا تھا:” قومیں اس وقت زوال کا شکار ہوتی ہیں جب ان میں اجتماعی شعور کمزور ہو جائے اور ذاتی مفاد قومی مفاد پر غالب آ جائے”۔ پاکستان میں یہی صورتحال کئی دہائیوں سے دیکھی جا سکتی ہے۔ ہر طبقہ دوسرے کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے مگر خود احتسابی سے بچتا ہے۔ سیاست دان فوج کو الزام دیتے ہیں, فوج سیاست دانوں کو نااہل کہتی ہے۔ عوام دونوں سے ناراض ہوتے ہیں مگر انہی چہروں کو دوبارہ منتخب یا قبول کر لیتے ہیں۔
کارل مارکس نے معاشی حالات کو انسانی شعور کی بنیاد قرار دیا تھا۔ اگر اس نظریے سے پاکستان کو دیکھا جائے تو مہنگائی, بے روزگاری اور طبقاتی فرق نے عوام کی سوچ کو شدید متاثر کیا ہے۔ جب ایک نوجوان ڈگری لینے کے بعد بھی نوکری نہ پا سکے تو وہ مایوس ہو کر دولت حاصل کرنے کے راستے ڈھونڈتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں شارٹ کٹ کلچر بڑھا۔ لوگ محنت کی بجائے تعلق، سفارش اور دُھوکے کو کامیابی کا ذریعہ سمجھنے لگے۔ اس ذہنیت نے اجتماعی اخلاقیات کو نقصان پہنچایا۔
فوج، عدلیہ اور انتظامیہ نے بھی عوامی ذہن سازی میں بڑا کردار ادا کیا۔ کئی دہائیوں تک ریاستی بیانیے نے عوام کو یہ سکھایا کہ قومی سلامتی ہر سوال سے زیادہ اہم ہے۔ اختلاف رائے کو اکثر خطرہ سمجھا گیا۔ نصاب میں بھی تنقیدی فکر کی بجائے جذباتی حُب الوطنی کو زیادہ جگہ ملی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ سیاسی شعور کی بجائے نعروں سے متاثر ہونے لگے۔ عدلیہ نے بعض طاقتور قوتوں کا ساتھ دیا اور بعض اوقات مزاحمت بھی کی۔ اس تضاد نے عوام کے اندر انصاف کے تصور کو غیر یقینی بنا دیا۔ انتظامیہ نے عوام کو اکثر رعایا سمجھا شہری نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عام آدمی آج بھی تھانے، کچہری اور سرکاری دفتر سے خوفزدہ رہتا ہے۔
پاکستانی قوم کی شخصیت میں ایک عجیب تضاد موجود ہے۔ یہ قوم مذہبی بھی ہے مگر بدعنوانی بھی کرتی ہے۔ مہمان نواز بھی ہے مگر قانون شکنی بھی کرتی ہے۔ جذباتی بھی ہے اور بے حس بھی ہو جاتی ہے۔ سوشل میڈیا نے اس تضاد کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اب لوگ حقیقت سے زیادہ تاثر کے غلام بنتے جا رہے ہیں۔ فیشن اور دکھاوے نے متوسط طبقے کو شدید نفسیاتی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ لوگ اپنی اصل آمدنی سے زیادہ امیر نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا کی نمائش نے زندگی کو مقابلے میں بدل دیا ہے۔
سگمنڈ فرائیڈ کے مطابق” دباؤ میں رہنے والا انسان اکثر اجتماعی غصے اور خوف کا شکار ہوتا ہے”۔ پاکستان میں دہشت گردی نے یہی کیفیت پیدا کی۔ دو دہائیوں تک بم دھماکوں اور خوف کے ماحول نے عوام کے ذہنوں میں عدم تحفظ پیدا کیا۔ لوگ زیادہ محتاط، زیادہ شکی اور زیادہ خود غرض ہوتے گئے۔ جب معاشرے میں خوف بڑھتا ہے تو لوگ اجتماعی مفاد کی بجائے ذاتی بقا کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں اعتماد کمزور ہوا۔
اس کے باوجود یہ کہنا غلط ہوگا کہ پوری قوم بے وقوف ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ قوم مسلسل انتشار اور دباؤ میں رہی، تعلیم کمزور رہی، سیاسی استحکام نہ آیا۔ معاشی انصاف نہ مل سکا۔ جب کسی معاشرے کو دہائیوں تک غیر یقینی حالات میں رکھا جائے تو اس کی اجتماعی نفسیات بھی غیر متوازن ہو جاتی ہے۔ جاپان، جرمنی اور جنوبی کوریا جیسے ممالک نے بھی تب ترقی کی جب وہاں ادارے مضبوط ہوئے اور عوام کو مستقل سمت ملی۔
2026 میں پاکستانی قوم ایک عجیب دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف نوجوان نسل دُنیا سے وابستہ ہے۔ انہیں ٹیکنالوجی، کاروبار اور عالمی شعور تک رسائی حاصل ہے۔ پاکستانی نوجوان دُنیا بھر میں اپنی صلاحیت ثابت کر رہے ہیں۔ فنون، موسیقی، فلم سازی اور ڈیجیٹل میڈیا میں نئی تخلیقی لہریں پیدا ہو رہی ہیں۔ دوسری طرف مذہبی انتہا پسندی، عدم برداشت اور جھوٹا قومی غرور بھی موجود ہے۔ اخلاقیات کمزور ہوئی ہیں۔ سچ بولنے والا اکثر نقصان اٹھاتا ہے جبکہ طاقتور شخص قانون سے بچ نکلتا ہے۔ یہی احساس عوام کو مایوسی دیتا ہے۔
پاکستانی کلچر بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ دیہاتی سادگی کم ہو رہی ہے اور شہری مصنوعیت بڑھ رہی ہے۔ زبان بدل رہی ہے۔ رشتوں کی نوعیت بدل رہی ہے۔ اب خاندان کی بجائے فرد زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے۔ فنون لطیفہ ابھی بھی زندہ ہیں لیکن ان پر مارکیٹ کا دباؤ بڑھ چکا ہے۔ ادب اور کتاب سے دوری بڑھی ہے اور مطالعہ کم ہوا ہے۔ سوشل میڈیا نے سوچ کو مختصر اور فوری بنا دیا ہے۔ لوگ گہرائی کی بجائے سنسنی زیادہ پسند کرتے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ ترقی صرف دولت کا نام نہیں بلکہ انسانی شعور اور آزادی کا نام ہے۔ پاکستان میں سب سے بڑی کمی اسی کی رہی۔ ہم نے سڑکیں تو بنائیں مگر انسان کم بنائے۔ ہم نے جذبات پیدا کیے مگر شعور کم پیدا کیا۔ ہم نے حُب الوطنی سکھائی مگر تنقیدی سوچ کم سکھائی۔
یہ قوم بے وقوف نہیں بلکہ الجھی ہوئی قوم ہے۔ ایک ایسی قوم جو مسلسل بحران، امیدوں، نعروں اور دُھوکوں کے درمیان زندہ رہی۔ اس قوم میں صلاحیت بھی ہے اور کمزوریاں بھی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اجتماعی طور پر سچ کا سامنا کم کیا۔ جب تک پاکستانی قوم اپنے اندر خود احتسابی، تنقیدی فکر، قانون کی بالادستی اور اجتماعی اخلاقیات پیدا نہیں کرے گی تب تک ترقی کا خواب ادھورا رہے گا۔ہمیں یہ سمجھ آجانی چاہیے کہ قومیں صرف جذبات سے نہیں بلکہ شعور سے مضبوط ہوتی ہیں۔

محسن خالد محسنؔ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کنگ پوش
  • کس قدر مشکلات سے گزرا
  • موبائل فون اور ہمارے بچے
  • چکن کا رشتہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
موبائل سے بڑھ کر کون
پچھلی پوسٹ
کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

متعلقہ پوسٹس

آدمی مجبور ہے اور کس قدر مجبور ہے

مئی 3, 2020

تعلیم اور روزگار کا ربط

ستمبر 20, 2025

اللہ دتا

مارچ 21, 2018

اے محبت تو مجھے جینے کی آشا دیتی

مئی 1, 2026

سعادت حسن منٹو کا اپنی شادی کے متعلق بیان

دسمبر 4, 2019

میرا لاشہ پڑا ہے صحرا میں

دسمبر 8, 2025

پہلے انڈا آیا ۔ یا مرغی

جنوری 13, 2020

تقسیم ہند اور کشمیر

اگست 27, 2020

مرثیہٴ حسین اور انقلاب

دسمبر 4, 2019

رزم آرائی کی غزل

جولائی 5, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دو مناظر

جنوری 29, 2020

رگوں سے یاد کا نیلا لہو...

مارچ 1, 2026

جشن آزادی اور شریعت

اگست 9, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں