خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلام‘مرغ جنگ’ اور معاشی استبداد کا نیا رخ
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاکرم ثاقب

‘مرغ جنگ’ اور معاشی استبداد کا نیا رخ

از سائیٹ ایڈمن مئی 12, 2026
از سائیٹ ایڈمن مئی 12, 2026 0 تبصرے 2 مناظر
3

مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ بساط پر نظر دوڑائیں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ یہاں "ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور” والا معاملہ درپیش ہے۔ یہ خطہ اس وقت ایک ایسے عالمی اکھاڑے کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں افق پر بلند ہوتے شعلے محض ایک بصری دھوکہ (Optical Illusion) ہیں، جبکہ پسِ پردہ اصل کہانی تباہی کی نہیں بلکہ "معاشی تسلط” کی نوآبادیاتی حکمتِ عملی ہے۔ امریکہ، ایران اور اسرائیل کی مثلث میں جاری حالیہ کشیدگی اب کسی روایتی عسکری تصادم کے بجائے ایک نپی تلی "مرغ جنگ” (Managed Conflict) میں بدل چکی ہے۔ اس کھیل میں فریقین ایک دوسرے کی چونچ پکڑ کر محض اکھاڑے میں گرد اڑا رہے ہیں، مگر کوئی بھی حتمی وار کر کے اس کھیل کو ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اس مصنوعی طوالت کا اصل ہدف عالمی توانائی کے نقشے کو بدلنا اور عرب ممالک کی معاشی خود مختاری کو گروی رکھنا ہے۔ بظاہر شعلے بلند ہیں اور طبلِ جنگ بج رہا ہے، لیکن پسِ پردہ یہ سارا تماشہ "بغل میں چھری منہ میں رام رام” کے مترادف ہے، جہاں ان تینوں کھلاڑیوں نے ایک ایسا مایا جال بن رکھا ہے جس کا مقصد صرف اور صرف معاشی لوٹ کھسوٹ ہے۔

اس پوری بساط کا سب سے حساس مہرہ "آبنائے ہرمز” ہے، جو محض ایک جغرافیائی گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی وہ شہ رگ ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل گزرتا ہے۔ یہاں ایک گہرا "تزویراتی تضاد” تخلیق کیا گیا ہے؛ جب بھی اس خطے میں جنگ کے بادل منڈلاتے ہیں، خلیجی تیل کی سپلائی لائن غیر محفوظ تصور ہونے لگتی ہے۔ یہیں سے امریکہ کا معاشی مفاد جنم لیتا ہے۔ امریکہ، جو اب دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے، اپنے "شیل آئل” (US Shale Oil) کے لیے عالمی منڈی میں اجارہ داری چاہتا ہے۔ خلیج میں عدم استحکام کی فضا عالمی سرمایہ کاروں اور خریداروں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ توانائی کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے بجائے واشنگٹن کی دہلیز پر دستک دیں۔ یوں، جنگ کی طوالت دراصل خلیجی تیل کی ساکھ کو مجروح کر کے امریکی توانائی کے تسلط کا جواز فراہم کرتی ہے۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ "بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی”، یعنی خلیجی تیل کو اس قدر مشکوک بنا دیا جائے کہ دنیا "ڈوبتے کو تنکے کا سہارا” سمجھ کر امریکی تیل کی پناہ لینے پر مجبور ہو جائے۔

بظاہر ایران اور اسرائیل ایک دوسرے کے وجودی دشمن نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت پسندی سے جائزہ لیا جائے تو یہ تناؤ دونوں کے لیے سیاسی و تزویراتی "آکسیجن” کا کام کر رہا ہے۔ تہران اس جنگ کو طول دے کر خود کو اسلامی دنیا کا واحد مزاحمتی مرکز ثابت کرنا چاہتا ہے تاکہ عرب ممالک کی معیشت پر دباؤ ڈال کر انہیں اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کر سکے۔ دوسری جانب تل ابیب اس کشیدگی کو اپنے "معاشی و دفاعی برانڈ” کی تشہیر کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اسرائیل یہ تاثر دینے میں کامیاب رہا ہے کہ ایران کے خطرے سے بچنے کے لیے عرب ممالک کی معاشی اور سیکیورٹی بقا صرف اسرائیل سے "رابطہ کاری” اور اس کی تکنیکی برتری کو تسلیم کرنے میں ہی مضمر ہے۔ ایران اور اسرائیل کی دشمنی "دور کے ڈھول سہانے” جیسی ہے، جہاں دونوں ایک دوسرے کو موقع فراہم کر رہے ہیں تاکہ "سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے”۔

یہ ایک ایسا تضاد ہے جہاں "خوف” کو بطور کرنسی استعمال کیا جا رہا ہے۔ عرب ممالک کو ایک طرف ایران کے میزائلوں کے ہیولے سے ڈرایا جاتا ہے اور دوسری طرف اسرائیل کے ساتھ معاشی اتحاد کو واحد جائے پناہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں "ایک پنتھ دو کاج” والا معاملہ ہے؛ ایک طرف توانائی کی منڈیوں پر قبضہ جمایا جا رہا ہے اور دوسری طرف عرب دنیا کو اس نہج پر لا کھڑا کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کی چوکھٹ پر دستک دینے کو ہی واحد راستہ سمجھیں۔ عالمی سطح پر میڈیا یہ تاثر پھیلاتا ہے کہ گویا دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے، لیکن میدانِ عمل میں تمام فریقین ایک دوسرے کو حقیقی "تکلیف” پہنچائے بغیر صرف "مصروف” رکھے ہوئے ہیں۔ ایران کے ڈرون حملے ہوں یا اسرائیل کی جوابی کارروائیاں، ان میں ایک غیر مرئی لیکن انتہائی سخت "ریڈ لائن” (Red Line) کا احترام ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے۔ یہ محض گرد اڑانے کی وہ مشق ہے تاکہ عالمی برادری پریشان رہے اور اصل کھلاڑی پردے کے پیچھے اپنے معاشی ایجنڈے خاموشی سے مکمل کرتے رہیں۔ یہ فریقین ایک دوسرے کو خراش تک نہیں آنے دیتے لیکن تماشائیوں کو "خدا لگتی” دکھا کر لرزنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

حقیقت میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ کھیل محض نظریاتی یا مذہبی جنگ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی معاشی جارحیت ہے، جس کا حتمی مقصد عرب معیشتوں کے وسائل کو داخلی عدم استحکام کے خوف میں الجھا کر انہیں عالمی طاقتوں اور اسرائیل کی معاشی چھتری تلے لانا ہے۔ اصل میں یہ "میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو” کی وہ پالیسی ہے جس کے تحت معصوموں کا لہو بیچ کر تجوریاں بھری جا رہی ہیں۔ جب تک خطے کے ممالک "اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت” والی نوبت آنے سے پہلے اس مکر و فریب کو نہیں سمجھیں گے، وہ اسی طرح "آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا” کے مصداق معاشی غلامی کے بھنور میں پھنسے رہیں گے۔ یہ جنگ نہیں، بلکہ معاشی غلامی کا ایک جدید ترین نسخہ ہے جس کی قیمت معصوم انسانی جانوں کے ضیاع اور خطے کے روشن مستقبل کی بربادی سے چکائی جا رہی ہے۔ یہ تو ایک منظم "بندر بانٹ” ہے جس میں بندر کی بلا طویلے کے سر تھوپ دی گئی ہے۔

پروفیسر اکرم ثاقب

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کتنے پل صراط
  • سوچ کی غلامی
  • مارچ میں مارچ
  • ٹیکنالوجی کی مدد سے اردو ادب کی تدریس
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کیا ہم فوج کے بغیر رہ سکتے ہیں؟
پچھلی پوسٹ
کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟

متعلقہ پوسٹس

وہ صبح ہم ہی سے آئے گی

جنوری 11, 2020

حالی اور اردو

ستمبر 24, 2025

نہال حسن بہت کم سمے کا ساتھی تھا

فروری 22, 2026

بلوچستان: واپسی کا سفر شروع

اکتوبر 24, 2021

جو سایوں کی وادی میں چلے

نومبر 3, 2019

صاحبِ دل والوں کی دلی یا۔۔؟

مارچ 10, 2020

عید کا ریشم یا جہنم کی تپش؟

مارچ 21, 2026

توبۃ النصوح – فصل پنجم

اکتوبر 30, 2020

رب نہیں روٹھتا!

اکتوبر 9, 2022

دل نہیں کرتا

اکتوبر 16, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تاریخ کے وارث – تیسری قسط

جنوری 17, 2025

یہ سال بھی آخر بیت گیا

دسمبر 29, 2019

خواجہ غلام فرید

نومبر 25, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں