خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکیا ہم فوج کے بغیر رہ سکتے ہیں؟
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

کیا ہم فوج کے بغیر رہ سکتے ہیں؟

از سائیٹ ایڈمن مئی 12, 2026
از سائیٹ ایڈمن مئی 12, 2026 0 تبصرے 45 مناظر
46

یہ سوال پاکستان جیسے ملک میں صرف ایک سوال نہیں بلکہ ایک بھنور ہے جس میں تاریخ، سیاست، خوف، طاقت اور حُب الوطنی سب ایک ساتھ گردش کرتے ہیں۔ پاکستان کی زمین جس جغرافیائی خطے میں واقع ہے وہاں ہوا بھی پُرسکون نہیں چلتی۔ مشرق میں بھارت جیسا طاقتور پڑوسی ہے۔ مغرب میں افغانستان کی غیر مستحکم صورتحال ہے۔ سرحدوں پر دہشت گردی کے سائے ہیں اور عالمی طاقتوں کے مفادات کسی شطرنج کی بساط کی طرح پورے خطے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ایسے میں فوج صرف بندوق اُٹھائے سپاہیوں کا نام نہیں بلکہ ریاست کی ایک مضبوط دیوار سمجھی جاتی ہے۔
پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پاک فوج نے ملک کے دفاع میں اہم کردار ادا کیا.1948,1965,1971 کی جنگ ہو یا دہشت گردی کے خلاف آپریشنز؛ پاک فوج نے ہر محاذ پر بے شمار قربانیاں دیں۔ شمالی علاقوں کی برفانی چوٹیاں ہوں یا بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑ؛بہادر سپاہی جان ہتھیلی پر رکھ کر فرض نبھاتے ہیں۔ جنرل راحیل شریف کے دور میں "ضربِ عضب” اور "رد الفساد” جیسے آپریشنز کو عالمی سطح پر بھی سراہا گیا۔ اقوام متحدہ کی مختلف رپورٹس میں پاکستان کی فوج کو دُنیا کی بڑی اور پیشہ ور افواج میں شمار کیا گیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں فوجیوں کی شہادت اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ اس ادارے نے اپنی جانوں کی قیمت پر ملک کو سنبھالا۔
اس کے برعکس تصویر کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ پاکستان میں فوج پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ اس نے سیاست میں بار بار مداخلت کی۔ جنرل ایوب خان سے لے کر جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف سے فیلڈ مارشل عاصم منیر تک سیاست کے دنگل میں فوج کا کردار ہمارے سامنے ہے۔ بعض ناقدین کہتے ہیں کہ جب بھی جمہوریت اپنے قدم جمانے لگتی ہے تو طاقت کے ایوانوں میں ہلچل شروع ہو جاتی ہے۔ سیاست دان اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اصل اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے پاس نہیں بلکہ کہیں اور موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں "خلائی مخلوق” اور "اسٹیبلشمنٹ” جیسے الفاظ عام ہوئے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ کمزور سیاسی نظام نے بھی فوج کو طاقتور بنایا۔ جب سیاست دان آپس میں دست و گریباں ہوں، کرپشن کے الزامات کی گونج ہو، ادارے کمزور کیے جائیں اور عوام مہنگائی و بے روزگاری کے ہاتھوں پِس جائیں تو ایسے میں لوگ ایک مضبوط ادارے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔ یوں فوج رفتہ رفتہ صرف دفاعی ادارہ نہیں رہی بلکہ ریاستی استحکام کی علامت بن چکی ہے۔ پاکستان میں اکثر لوگ یہ مثال دیتے ہیں کہ اگر فوج نہ ہوتی تو ملک شام یا لیبیا جیسی صورتحال کا شکار ہو جاتا۔ اس کے برعکس دوسرا طبقہ یہ کہتا ہے کہ اگر جمہوری نظام کو مکمل آزادی ملتی تو ملک زیادہ مضبوط ہوتا۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بھی فوج کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات ہوں،افغانستان کی جنگ ہو، چین کے ساتھ اسٹریٹیجک شراکت داری ہو یا بھارت کے ساتھ کشیدگی۔ ان اہم فیصلوں میں عسکری قیادت کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔امریکہ ایران جنگ میں سب نے فوج کی طاقت،مداخلت،حکمت اور طرزِ ثالثی کو دیکھ لیا ۔بعض ماہرین کے مطابق پاکستان کی جغرافیائی صورتحال ایسی ہے جہاں سویلین حکومت اکیلے دفاعی پالیسی نہیں چلا سکتی۔ جبکہ اس بیانیے کے مخالف ماہرین کا کہنا ہے کہ خارجہ پالیسی پر ضرورت سے زیادہ عسکری رسوخ جمہوری ارتقا کو کمزور کرتا ہے۔
سیاست دان عوام کو فوج کے خلاف کیوں بھڑکاتے ہیں؟ اس سوال کا جواب بھی سیدھا نہیں۔ بعض سیاست دان واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی حکومتوں کو غیر جمہوری قوتوں نے کمزور کیا۔ جبکہ کچھ رہنما اقتدار سے محرومی کے بعد فوج پر تنقید کو سیاسی ہتھیار بنا لیتے ہیں۔ یہ کھیل کسی رسہ کشی سے کم نہیں جہاں ایک طرف طاقتور ادارہ ہے اور دوسری طرف اقتدار کے بھوکے سیاسی قافلے۔ عوام اس کشمکش میں پِس جاتے ہیں۔ پاکستان کی یہ تاریخ رہی ہے کہ کبھی سیاست دان ہیرو بن جاتے ہیں اور کبھی فوج کو نجات دہندہ قرار دیا جاتا ہے۔
پاکستانی عوام کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس پیچیدہ صورتحال میں کس طرف کھڑے ہوں۔ اگر فوج کی حمایت کریں تو بعض لوگ انہیں اندھا "قوم پرست” کہتے ہیں اور تنقید کریں تو غداری کے فتوے سننے پڑتے ہیں۔ حب الوطنی کا مطلب کسی ایک ادارے یا شخصیت کی غیر مشروط حمایت نہیں بلکہ ملک کی بہتری کی خواہش ہے۔ ایک باشعور پاکستانی کو یہ سمجھنا ہوگا کہ فوج بھی ریاست کا ادارہ ہے اور سیاست دان بھی اسی نظام کا حصہ ہیں۔ دونوں کی غلطیوں پر سوال اُٹھانا اور دونوں کی قربانیوں کو تسلیم کرنا ہی متوازن رویہ ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ فوج کے جوان اسی مٹی کے بیٹے ہیں۔ وہ کسی دوسرے سیارے سے نہیں آتے۔ ان کے گھروں میں بھی مائیں روتی ہیں اور بچے انتظار کرتے ہیں۔ اسی طرح ہر سیاست دان بھی پوری طرح قصور وار نہیں ہوتا۔ اس نظام میں اچھے اور برے لوگ ہر جگہ موجود ہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب عوام کو نفرت کی چکی میں پیسا جانے لگتا ہے۔
پاکستان اس وقت ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ معیشت کمزور ہے، سیاسی عدم استحکام بڑھ رہا ہے اور نوجوان مایوسی کا شکار ہیں۔ ایسے میں فوج اور سیاست دانوں کی باہمی چپقلش جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ قومیں نفرت سے نہیں بلکہ اداروں کے توازن سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر فوج صرف دفاع تک محدود رہے اور سیاست دان دیانت داری سے حکومتی معاملات کی انجام دہی کو یقینی بنائیں تو شاید پاکستان ایک مضبوط جمہوری ریاست بن سکے۔
ایک عام پاکستانی کو چاہیے کہ وہ جذبات کے سیلاب میں بہنے کی بجائے شعور کی شمع جلائے۔ سوشل میڈیا کی افواہوں کو حرفِ آخر نہ سمجھے۔ ہر تنقید کو غداری اور ہر حمایت کو غلامی نہ کہے۔ وطن صرف نعروں سے نہیں بنتا بلکہ برداشت اور شعور سے بنتا ہے۔ حُب الوطنی کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے ملک کے اداروں کو مضبوط دیکھنے کی خواہش پالنے کے ساتھ انصاف اور جمہوریت کی آواز کو بھی توانا رکھیں۔
تاریخ کے اسباق سے یہ پتہ چلتا کہ جس قوم میں سوال مر جائیں وہاں اندھیرے جنم لیتے ہیں اور جہاں صرف نفرت بولے وہاں ریاستیں ریت کی دیوار بن جاتی ہیں۔

محسن خالد محسنؔ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کورونا کے ساتھ انگلینڈکرکٹ سیریز!
  • وقت سے پہلے ہوئی شام
  • رونے کی آواز
  • جامن کا پیڑ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا
پچھلی پوسٹ
‘مرغ جنگ’ اور معاشی استبداد کا نیا رخ

متعلقہ پوسٹس

خوشبو کی کوئی منزل نہیں

جون 15, 2020

مت کر خوشی کہ ہوگئے اغیار لاپتہ

دسمبر 8, 2025

حقیقی ہیرو

نومبر 24, 2020

عید مبارک

مارچ 21, 2026

شادی کی خوشیوں کا سفر

مارچ 28, 2026

ٹوٹتا خاندانی نظام اور ماں

اکتوبر 18, 2025

مشرقی عشق اور شاطر شرفا

دسمبر 7, 2020

مت رو سالگ رام

جنوری 6, 2020

چودہ تیس لفظی کہانیاں

دسمبر 23, 2021

یک طرفہ محبت

جنوری 5, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

آہ ! اے دوست

جنوری 3, 2020

تیری آنکھوں کی طرف

فروری 17, 2026

پراپرٹی ڈیلنگ

اکتوبر 12, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں