خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکیا جوڑے آسمان پر بنتے ہیں؟
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

کیا جوڑے آسمان پر بنتے ہیں؟

از سائیٹ ایڈمن اپریل 22, 2026
از سائیٹ ایڈمن اپریل 22, 2026 0 تبصرے 2 مناظر
3

یہ سوال صدیوں سے انسانی ذہن کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔برصغیر کے معاشرے میں یہ ایک مقبولِ خیال یا مِتھ کے طور پر رائج ہے کہ ہر انسان کا جیون ساتھی پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے اور یہ فیصلہ زمین پر نہیں بلکہ آسمان پر ہو چکا ہوتا ہے۔ اس تصور میں ایک طرح کا سکون بھی ہے اور ایک طرح کی بے بسی بھی کیونکہ اگر سب کچھ پہلے سے طے ہے تو انسان کی اپنی کوشش اور انتخاب کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔
یہ متھ کسی ایک فرد کی تخلیق نہیں بلکہ صدیوں پر پھیلی ہوئی تہذیبی روایت کا نتیجہ ہے۔ برصغیر میں صوفیانہ فکر اور داستانی ادب نے اس خیال کو بہت تقویت دی۔ صوفیاء کرام نے تقدیر اور رضا کے تصور کو عام کیا جس میں یہ خیال شامل تھا کہ انسان کی زندگی کے اہم فیصلے پہلے سے لکھے جا چکے ہیں۔ دوسری طرف لوک داستانوں اور قصوں میں بھی محبوب اور محبوبہ کی تقدیر کو آسمانی فیصلے سے جوڑا گیا جیسے ہیر رانجھا، سسی پنوں اور لیلیٰ مجنوں کی کہانیاں۔ ان قصوں نے عوامی ذہن میں یہ بات بٹھا دی کہ محبت اور شادی محض انسانی انتخاب نہیں بلکہ ایک مقدر ہے جس سے فرار ممکن نہیں۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ شادی ایک سماجی معاہدہ ہے، جس میں انسانی شعور، فیصلہ سازی اور ذمہ داری بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگرچہ مذہب تقدیر پر ایمان کی تعلیم دیتا ہے مگر وہ انسان کو اختیار اور عقل کے استعمال کا بھی حکم دیتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ حالات اور مواقع انسان کے سامنے آتے ہیں مگر فیصلہ وہ خود کرتا ہے۔
شادی کے لیے بہترین انتخاب کا معیار صرف ایک پہلو پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک جامع عمل ہے۔ سب سے پہلے کردار اور اخلاق کو دیکھا جانا چاہیے، ایک ایسا فرد جو سچائی، امانت داری اور احترام کا قائل ہو وہ ایک مضبوط رشتہ قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے بعد ذہنی ہم آہنگی اہم ہے،دونوں افراد کے خیالات، زندگی کے مقاصد اور ترجیحات میں کسی حد تک مطابقت ہونی چاہیے۔
تعلیم کا کردار بھی اہم ہے مگر صرف ڈگری نہیں بلکہ شعور اور سمجھ بوجھ زیادہ اہم ہے۔
اچھا رشتہ وہ ہے جس میں اعتماد،عزت اور برداشت موجود ہو جہاں دونوں فریق ایک دوسرے کی کمزوریوں کو سمجھیں اور انہیں قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ جہاں اختلاف ہو مگر مخالفت کا پہلو نہ ہو اور جہاں محبت صرف الفاظ تک محدود نہ ہو بلکہ عمل میں نظر آئے۔
پاکستانی سماج میں اچھے رشتے نہ ملنے کی شکایت عام ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ غیر حقیقی توقعات ہیں۔ لوگ اپنی حیثیت سے بڑھ کر معیار قائم کر لیتے ہیں اور پھر مایوس ہوتے ہیں۔ دوسری وجہ معاشی دباؤ ہے۔ آج کے دور میں شادی کو ایک مہنگا منصوبہ بنا دیا گیا ہے، جس میں جہیز اور نمود و نمائش نے مسائل کو بڑھا دیا ہے۔
دولت کا اس معاملے میں خاصا اثر ہے۔ اکثر خاندان مالی حیثیت کو سب سے پہلے دیکھتے ہیں جس کی وجہ سے اچھے کردار کے حامل افراد نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ معاشی استحکام ضروری ہے مگر اسے واحد معیار بنا دینا رشتوں کو سطحی بنا دیتا ہے۔
مذہب اس معاملے میں واضح راہنمائی دیتا ہے۔ اسلام میں نکاح کو آسان بنانے کی تلقین کی گئی ہے اور معیار کے طور پر دین اور اخلاق کو اہم قرار دیا گیا ہے۔
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ "جب تمہارے پاس ایسا شخص آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم راضی ہو تو اس کا نکاح کر دو” اس فرمان میں واضح پیغام ہے کہ اصل اہمیت کردار کی ہے نہ کہ دولت یا ظاہری حیثیت کی۔
معاشرے کے رسم و رواج اس معاملے میں گہرا اثر رکھتے ہیں۔ بہت سی رسومات ایسی ہیں جو دین کا حصہ نہیں مگر انہیں لازمی سمجھ لیا گیا ہے۔ جیسے مہنگے جہیز کی روایت یا شادی کی تقریبات میں غیر ضروری اخراجات۔ یہ سب چیزیں نہ صرف مالی بوجھ بڑھاتی ہیں بلکہ اچھے رشتوں میں رکاوٹ بھی بنتی ہیں۔
رشتوں کی ناکامی کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔سب سے اہم وجہ توقعات کا غیر متوازن ہونا ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے سے غیر حقیقی اُمیدیں وابستہ کرتے ہیں تو مایوسی جنم لیتی ہے۔ دوسری وجہ بات چیت کی کمی ہے، جب مسائل کو دبایا جاتا ہے تو وہ بڑھ جاتے ہیں۔ تیسری وجہ برداشت کا فقدان ہے۔ آج کل لوگ جلدی ہار مان لیتے ہیں اور رشتہ نبھانے کے بجائے اسے ختم کرنا آسان سمجھتے ہیں۔
رشتہ کرتے وقت کئی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ سب سے پہلے خاندان کے ماحول کو دیکھیں کہ وہاں احترام اور سکون ہے یا نہیں پھر فرد کی عادات اور مزاج کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ جلد بازی سے بچیں اور تحقیق کریں اس کے دوستوں اور سماجی دائرے کو دیکھیں کیونکہ انسان اپنے ماحول کا عکس ہوتا ہے۔
بچوں کی عمر اور تعلیم بھی اہم ہے۔ عمر میں مناسب فرق ہونا چاہیے تاکہ ذہنی ہم آہنگی قائم رہے۔ تعلیم ایسی ہو جو شعور اور سمجھ بوجھ پیدا کرے نہ کہ صرف ظاہری حیثیت بڑھائے۔ گھریلو ماحول میں اگر لڑائی جھگڑا یا عدم استحکام ہو تو اس کا اثر فرد کی شخصیت پر بھی پڑتا ہے۔
ذات پات، رنگ اور نسل کو ہمارے معاشرے میں غیر ضروری اہمیت دی جاتی ہے۔ حالانکہ یہ سب چیزیں انسانی قدر کا معیار نہیں ہیں۔ ایک انسان کی اصل پہچان اس کا کردار اور عمل ہے۔ اگرچہ ثقافتی ہم آہنگی بعض اوقات آسانی پیدا کرتی ہے مگر اسے حتمی شرط بنا دینا درست نہیں۔
برادری سسٹم بھی ایک اہم عُنصر ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ خاندان ایک دوسرے سے واقف ہوتے ہیں مگر اس کا نقصان یہ ہے کہ یہ دائرہ محدود کر دیتا ہے اور بہت سے اچھے رشتے صرف اس وجہ سے نظر انداز ہو جاتے ہیں کہ وہ برادری سے باہر ہوتے ہیں۔
مختصر یہ کہ جوڑے آسمان پر نہیں بلکہ زمین پر انسانوں کے فیصلوں سے بنتے ہیں۔ تقدیر کا اپنا مقام ہے مگر عقل اور اختیار بھی اہم ہیں۔ اگر ہم اپنے معیار کو حقیقت پسندانہ بنائیں، دین کی تعلیمات کو اپنائیں اور معاشرتی دباؤ سے آزاد ہو کر فیصلہ کریں تو نہ صرف اچھے رشتے مل سکتے ہیں اور برسوں کامیابی سے چل سکتے ہیں۔

محسن خالد محسنؔ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • صرف دعا فرما دیں
  • پروفیسر گوہر نوید کے تنقیدی نظریات کا جائزہ
  • ہمالیہ کی چوٹی
  • جذبات کے اظہار
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اللہ کی محبت کے رنگ
پچھلی پوسٹ
کیا تاریخ خود کو دُہراتی ہے؟

متعلقہ پوسٹس

23 مارچ : قراردادِ پاکستان سے آج تک کا سفر

مارچ 23, 2026

گیارہویں شریف کا مبارک مہینہ

اکتوبر 15, 2024

14فروری: عالمی یوم ِ محبت!

فروری 13, 2021

اشرافیہ کی ضد، اُردو زبان کی قربانی

ستمبر 8, 2025

سرسوں دوا بھی شفا بھی

مئی 1, 2022

امریکی سپاہی اور یخ پارہ افغان لڑکی

جون 27, 2023

خوشبو کی کوئی منزل نہیں

جون 15, 2020

زندگی

اکتوبر 14, 2025

والد صاحب

فروری 15, 2020

عزت صحت اور محبت

جنوری 25, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دولت کا غیر منصفانہ بٹوارہ

نومبر 2, 2025

ہماری غلامی اور اقبال کی تنبیہ

مارچ 30, 2025

ٹیری سیاس، یونانی ادب کا ایک...

فروری 4, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں