خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابااشرافیہ کی ضد، اُردو زبان کی قربانی
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

اشرافیہ کی ضد، اُردو زبان کی قربانی

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 8, 2025
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 8, 2025 0 تبصرے 83 مناظر
84

8 ستمبر 2015ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک ایسا تاریخی فیصلہ دیا جسے عوام کے لیے اُمید کی کِرن سمجھا گیا۔ عدالت نے واضح حکم دیا کہ آئین کے آرٹیکل 251 کے تحت قومی زبان اُردو کو بطور دفتری زبان نافذ کیا جائے اور تین ماہ کے اندر تمام قوانین اور سرکاری دستاویزات کو اُردو میں منتقل کرنے کا انتظام کیا جائے۔ یہ فیصلہ محض کاغذ پر نہیں رہا بلکہ اُس وقت چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے خود یہ فیصلہ اُردو میں پڑھ کر سنایا تاکہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ قومی زبان کو عملاً اپنانا اب ناگزیر ہے۔ لیکن افسوس کہ ایک دہائی بیت گئی، حکومتیں بدلتی رہیں، وعدے اور اعلانات ہوتے رہے مگر اُردو کو آج تک دفتری زبان کا درجہ نہیں دیا جا سکا۔

یہ سوال بار بار ذہن میں آتا ہے کہ آخر وہ کون سی طاقت ہے جو اُردو کے راستے میں دیوار بن کر کھڑی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس زبان کی سب سے بڑی دشمن وہ اشرافیہ ہے جو انگریزی کو اپنی طاقت اور امتیاز کا ہتھیار بنائے بیٹھی ہے۔ انگریزی فائلوں، قوانین اور پالیسیوں کے ذریعے عوام اور ریاست کے درمیان ایک ایسی زبان کی رکاوٹ کھڑی کر دی گئی ہے جس نے عام آدمی کو اپنے ہی ملک میں اجنبی بنا دیا ہے۔ ایک کسان یا مزدور جب عدالت یا کسی سرکاری دفتر میں جاتا ہے تو اُسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ انگریزی میں لکھی ہوئی تحریروں میں اُس کے بارے میں کیا لکھا ہے۔ انصاف کا دروازہ کھلا ہوتا ہے مگر زبان کی کُنجی اُس کے ہاتھ میں نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ عوام محرومی اور بے بسی کے اندھیروں میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اس حوالے سے نہایت واضح مؤقف رکھتے تھے۔ اُنھوں نے 24 مارچ 1948ء کو ڈھاکہ میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ:
"اُردو پاکستان کی قومی زبان ہوگی اور صرف یہی ہماری قومی زبان ہو سکتی ہے۔ جو لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں وہ تنگ نظری کا شکار ہیں۔”

قائداعظم نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ اُردو ہی وہ زبان ہے جو پورے پاکستان کو ایک لڑی میں پرو سکتی ہے۔ لیکن آج دیکھ لیجیے کہ ہم نے اپنے ہی رہنما کی نصیحت کو پسِ پشت ڈال دیا اور ایک اجنبی زبان کو اپنے سروں پر مسلط کر کے رکھا ہوا ہے۔

اُردو محض ایک زبان نہیں بلکہ ہماری شناخت ہے۔ اس کی وُسعت اور دائرہ اتنا بڑا ہے کہ دنیا کے کروڑوں لوگ اُسے سمجھتے اور بولتے ہیں۔ اُردو شاعری میں گہرائی ہے، نثر میں دلکشی ہے، مذہبی اور فلسفیانہ مباحث میں یہ زبان اپنی مثال آپ ہے۔ اس میں اتنی گنجائش ہے کہ سائنسی علوم اور جدید ٹیکنالوجی کے تصورات بھی منتقل کیے جا سکیں۔ اگر ہماری یونیورسٹیاں اور تحقیقی ادارے اپنی تخلیقات اُردو میں شائع کریں تو علم و آگاہی کا دائرہ ہر گھر تک پہنچ سکتا ہے۔

لیکن یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیوں ہماری اشرافیہ اُردو کو نافذ نہیں ہونے دیتی؟ وجہ بالکل صاف ہے۔ انگریزی نے حکمران طبقے کو عوام سے ممتاز بنا دیا ہے۔ یہ طبقہ جان بوجھ کر زبان کی وہ دیوار برقرار رکھنا چاہتا ہے جو اُنھیں عام لوگوں سے الگ کر کے ایک خاص مرتبہ عطا کرتی ہے۔ سرکاری ملازمتیں ہوں یا عدالت کے فیصلے، ہر جگہ انگریزی کے ذریعے یہ نظام محدود طبقے تک قید رہتا ہے۔ غریب عوام تو بھوک، مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں پہلے ہی پسے ہوئے ہیں، اور زبان کی رکاوٹ نے اُنھیں ریاستی نظام سے مزید باہر کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں بالکل درست کہا تھا کہ قانون ایسی زبان میں ہونا چاہیے جسے عوام سمجھ سکیں۔ لیکن آج بھی حکومت کے اشتہارات، تعلیمی پالیسیاں اور عدالتوں کے فیصلے انگریزی میں آتے ہیں۔ گویا سپریم کورٹ کے حکم کو نظر انداز کر کے اشرافیہ نے اپنے مفادات کی حفاظت کی اور عوام کو محروم رکھا۔ یہ رویہ دراصل انصاف اور مساوات کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

اُردو کو دفتری زبان کے طور پر نافذ کرنے سے عوامی شمولیت بڑھے گی۔ ہر شخص کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ اپنی زبان میں ریاست سے مکالمہ کرے۔ عدالتوں کے فیصلے اگر اُردو میں آئیں تو انصاف کی فراہمی واقعی ممکن ہوگی۔ تعلیمی نظام میں اُردو کو بنیاد بنایا جائے تو علم زیادہ تیزی سے عام ہوگا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اُردو پورے ملک کے لیے یکجہتی کا ذریعہ ہے، وہ زبان جو کراچی سے خیبر اور بلوچستان سے کشمیر تک ہر دل میں جگہ رکھتی ہے۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ترقی یافتہ قومیں اپنی زبانوں کے ذریعے ہی آگے بڑھی ہیں۔ جرمنی نے جرمن میں، جاپان نے جاپانی میں، چین نے چینی میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو آگے بڑھایا۔ ہم کیوں اپنی قومی زبان کے ساتھ یہ ناانصافی کر رہے ہیں کہ اُسے صرف تقریروں اور شعروں تک محدود کر رکھا ہے؟ اگر ہم نے اب بھی اپنی زبان کو وہ مقام نہ دیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

اُردو کو سرکاری سطح پر نافذ کرنا محض ایک لسانی مطالبہ نہیں بلکہ یہ انصاف، مساوات اور عوامی حق کی جنگ ہے۔ 8 ستمبر 2015ء کا سپریم کورٹ کا فیصلہ ہمارے سامنے ہے مگر حکومتیں اس پر عمل درآمد سے انکار کر رہی ہیں۔ قائداعظم کا خواب ابھی ادھورا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم انگریزی کی غلامی سے نکلیں اور اپنی زبان کو فخر کے ساتھ اپنائیں۔ یہی عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے کو ختم کرنے کا واحد راستہ ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو اُردو صرف کتابوں میں رہ جائے گی اور عوام اپنی ہی ریاست میں بیگانہ محسوس کرتے رہیں گے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تیرے قدموں پہ دل وارنے کے لئے
  • شبِ معراج
  • کوئی منصب نہ خزانہ نہ جزا چاہتی ہے
  • وعدہ بھی اُس نے سوچ کے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
قومی حکمت عملی کی کمی
پچھلی پوسٹ
نیشنل کونسل فار طب کا اقدام

متعلقہ پوسٹس

سجدوں کی لذت

مئی 26, 2024

ڈھیر اُچیری ہو جاواں گی

نومبر 27, 2022

کوکھ جلی

مارچ 29, 2020

پہلے انڈا آیا ۔ یا مرغی

جنوری 13, 2020

صمود فلوٹیلا

جون 5, 2026

ہماری ابتدا ہونے سے پہلے

اکتوبر 25, 2025

رشتوں کی خاموش زبان – بھائی بہن کا پیار

مارچ 30, 2026

نسوانیت کا استحصال

مئی 18, 2024

کوئی بھی اپنوں جیسی بات اب کرتا نہیں ہے

مارچ 10, 2020

سمندر چُپ نہیں رہتے

نومبر 6, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

عید کا چاند اور دل کی...

مارچ 20, 2026

محبت اگر ان پہ مائل نہ...

ستمبر 20, 2025

نشانِ سجدہ پہ اتنا گمان اچھّا...

ستمبر 6, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں