خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکیا محبت اور جنگ میں سب جائز ہے ؟
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

کیا محبت اور جنگ میں سب جائز ہے ؟

از سائیٹ ایڈمن اپریل 19, 2026
از سائیٹ ایڈمن اپریل 19, 2026 0 تبصرے 0 مناظر
1

محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔ ایک ایسا جملہ ہے جو بظاہر سادہ مگر اپنے اندر گہری تہذیبی، نفسیاتی اور اخلاقی پیچیدگیاں رکھتا ہے۔ پاکستانی سماج سمیت دنیا کے کئی معاشروں میں یہ فقرہ ایک مُسلمہ سچائی کے طور پر دُہرایا جاتا ہے حالانکہ حقیقت میں یہ ایک متھ ہے یعنی ایسا بیانیہ جسے بار بار دہرانے سے سچ کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اس متھ کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے محبت اور جنگ کے تصورات کو واضح کیا جائے پھر یہ دیکھا جائے کہ کن حدود تک انسان خود کو جائز قرار دیتا ہے اور اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
محبت ایک گہرا انسانی جذبہ ہے جو ایثار، قربانی اور تعلق کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ صوفیانہ روایت میں محبت کو خدا تک پہنچنے کا ذریعہ کہا گیا ہے۔ مولانا رومی فرماتے ہیں کہ محبت وہ آگ ہے جو ہر غیر کو جلا دیتی ہے۔ اسی طرح اُردو شاعری میں محبت کو پاکیزگی اور سچائی کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ میر تقی میر کہتے ہیں۔

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اُسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

یہ تصور واضح کرتا ہے کہ محبت میں شدت تو ہے مگر یہ شدت اخلاقی حدود سے باہر نہیں جاتی۔ اس کے برعکس جنگ ایک ایسا عمل ہے جس میں طاقت اور بقا کا سوال ہوتا ہے۔ جنگ کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ریاستیں اپنی حفاظت یا توسیع کے لیے لڑتی ہیں۔ کارل فان کلازویٹز نے اپنی کتاب On War میں لکھا کہ "جنگ سیاست کا تسلسل ہے مگر دوسرے ذرائع سے”۔ اس تعریف میں بھی ایک نظم اور اصول کی بات کی گئی ہے نہ کہ مکمل آزادی کی۔
اب سوال یہ ہے کہ پھر یہ متھ کیوں پیدا ہوئی کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے؟
انسان جب شدید جذبات یا خطرے کی کیفیت میں ہوتا ہے تو وہ اپنے اعمال کو جائز ثابت کرنے کے لیے ایسے جملے گھڑتا ہے۔ محبت میں دُھوکا ، جھوٹ یا کسی کو حاصل کرنے کے لیے حدیں پار کرنا اس متھ کے تحت جائز سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح جنگ میں دُشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنا بھی اسی سوچ کا نتیجہ ہے۔
پاکستانی سماج میں یہ متھ کئی سطحوں پر نظر آتی ہے۔ فلموں، ڈراموں اور کہانیوں میں عاشق کو ہیرو بنا کر دکھایا جاتا ہے چاہے وہ کسی کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کرے یا سماجی اُصول توڑے۔ اسی طرح جنگی بیانیے میں دُشمن کو مکمل برائی کا استعارہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے جس سے ہر اقدام درست محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہ بیانیہ جذبات کو اُبھارتا ہے اور سوچنے کی صلاحیت کو محدود کر دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ نہ محبت میں سب جائز ہے اور نہ جنگ میں۔ اخلاقیات ہر حالت میں ایک حد قائم کرتی ہیں۔ محبت اگر کسی کی آزادیِ عزت یا رضامندی کو نظر انداز کرے تو وہ محبت نہیں بلکہ خود غرضی ہے۔ اسی طرح جنگ کے بھی اُصول ہوتے ہیں جنہیں بین الاقوامی قوانین میں واضح کیا گیا ہے جیسے جنیوا کنونشن جس میں شہریوں کے تحفظ اور قیدیوں کے حقوق کی بات کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ میں بھی سب کچھ جائز نہیں۔
اس متھ کے کچھ وقتی فائدے ضرور ہوتے ہیں۔ یہ افراد کو اپنے عمل کا جواز فراہم کرتی ہے اور مشکل حالات میں فیصلہ کرنا آسان بناتی ہے۔ محبت میں یہ جملہ عاشق کو ہمت دیتا ہے اور جنگ میں سپاہی کو حوصلہ دیتا ہے۔ اس مثبت رُجحان کے برعکس اس کے نقصانات کہیں زیادہ ہیں۔ یہ اخلاقی زوال کا باعث بنتی ہے کیونکہ جب ہر چیز جائز قرار دے دی جائے تو پھر درست اور غلط کا فرق مٹ جاتا ہے۔ اس سے معاشرے میں بد اعتمادی اور انتشار بڑھتا ہے۔
اُردو ادب میں بھی اس متھ کی نفی کی گئی ہے۔ فیض احمد فیض نے محبت کو ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کا نام دیا نہ کہ ظلم کرنے کا۔ وہ کہتے ہیں۔

اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

اس مفصل تمہید کا مطلب یہ ہے کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہونے کا تصور دراصل انسانی کمزوریوں کا جواز ہے نہ کہ کوئی ابدی سچائی۔ محبت اگر سچ ہے تو وہ احترام، رضامندی اور ذمہ داری سے منسلک ہوتی ہے نہ کہ دُھوکے، جبر اور خود غرضی سے۔
اسی طرح جنگ اگر ناگزیر بھی ہو تو اس کے اندر بھی اخلاقی حدود اور انسانی قدریں برقرار رہتی ہیں۔
تاریخ اور ادب دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہی معاشرے پائیدار ثابت ہوتے ہیں جو اُصولوں کو بحران کے وقت بھی نہیں چھوڑتے۔
یہ متھ وقتی طور پر جذبات کو سہارا تو دیتی ہے مگر طویل مدتی عمل میں فرد اور معاشرے دونوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
یہ درست اور غلط کے درمیان حد کو دُھندلا دیتی ہے اور انسان کو اپنی خواہشات کا غلام بنا دیتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایسے بیانیوں کو بغیر سوچے سمجھے قبول کرنے کے بجائے ان پر تنقیدی نظر ڈالیں۔
محبت کو پاکیزگی اور ذمہ داری کے ساتھ اور جنگ کو اُصول و انصاف کے دائرے میں سمجھنا ہی ایک مہذب اور متوازن معاشرے کی بنیاد ہے۔

محسن خالد محسن

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ماہِ رجب
  • سفید پوش طبقہ اور نوجوان نسل کے مسائل
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟
  • بڑے میاں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شہاب نامہ ۔ قدرت اللہ شہاب
پچھلی پوسٹ
مائنوازم کیا ہے ؟

متعلقہ پوسٹس

جنرل اسمبلی میں پاکستان کی آواز

ستمبر 28, 2025

ڈیجیٹل دُنیا میں ہمارا کاغذی قافلہ

اگست 18, 2025

آپا

جنوری 15, 2020

اب اور تب

جنوری 25, 2020

چھوٹے گھر بڑے لوگ

جون 13, 2020

دوست کے نام

جنوری 25, 2020

نیل یکشنی

جون 15, 2020

ہندوستانی فلموں کے سو سال

مئی 25, 2024

تقریب تقسیم انعامات

جنوری 4, 2022

نیا سال اور نیا عزم

دسمبر 29, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اردو غزل کی روایت اور اقبال

مئی 27, 2024

گہرے پانیوں والی آنکھیں !

مئی 9, 2020

جگر میں، آنکھ میں، خُوں میں

دسمبر 10, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں