خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکراچی کا جلتا ہوا سوال
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

کراچی کا جلتا ہوا سوال

از سائیٹ ایڈمن جنوری 21, 2026
از سائیٹ ایڈمن جنوری 21, 2026 0 تبصرے 88 مناظر
89

کراچی ایک بار پھر آگ کے شعلوں میں گھرا ہوا ہے۔ گل پلازہ کا سانحہ محض ایک تجارتی عمارت میں لگنے والی آگ نہیں بلکہ یہ اس پورے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جو برسوں سے حادثات کے بعد صرف بیانات تک محدود رہتا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آخر کب تک کراچی کے شہری، تاجر اور محنت کش اپنی جان، سرمایہ اور مستقبل اسی طرح داؤ پر لگاتے رہیں گے۔

گل پلازہ شہر کے قلب میں واقع ایک مصروف تجارتی مرکز تھا۔ یہاں سینکڑوں دکانیں تھیں، ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ تھا اور روزانہ لاکھوں روپے کی تجارت ہوتی تھی۔ رات کے وقت بھڑکنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ شعلے اتنے شدید تھے کہ کئی گھنٹوں تک ان پر قابو نہ پایا جا سکا۔ اس دوران قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، متعدد افراد لاپتہ ہوئے اور سینکڑوں خاندان زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو گئے۔

سانحے کے بعد سب سے نمایاں پہلو انتظامی نااہلی کا سامنے آیا۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ فائربریگیڈ تاخیر سے پہنچی، فائر ٹینڈرز کی تعداد ناکافی تھی اور پانیkarachi burning کی کمی نے ریسکیو آپریشن کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ اگر بروقت اور مؤثر کارروائی کی جاتی تو شاید نقصان اس حد تک نہ پہنچتا۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ایک بڑے میٹروپولیٹن شہر میں آج بھی فائر سیفٹی کا نظام اتنا کمزور کیوں ہے۔

آل کراچی تاجر اتحاد کی جانب سے یوم سوگ کا اعلان دراصل اس اجتماعی دکھ اور غصے کا اظہار ہے جو تاجر برادری کے دلوں میں موجود ہے۔ اتحاد کے چیئرمین عتیق میر کے مطابق گل پلازہ کی بحالی کے لیے تین سے پانچ ارب روپے درکار ہوں گے۔ یہ محض ایک مالی تخمینہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے وہ ہزاروں گھرانے ہیں جن کا روزگار ایک ہی رات میں ختم ہو گیا۔ دکان دار ہوں یا سیلز مین، کاریگر ہوں یا مزدور، سب اس سانحے کے بعد بے یقینی اور اضطراب کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔

یہاں یہ سوال بھی انتہائی اہم ہے کہ کیا کراچی کی تجارتی عمارتوں میں حفاظتی انتظامات صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہیں؟ شہر کے بیشتر پلازے اور مارکیٹس نہ تو مکمل فائر الارم سسٹم سے آراستہ ہیں اور نہ ہی ایمرجنسی اخراج کے راستے قابل استعمال حالت میں ہیں۔ تنگ راہداریاں، غیر قانونی تعمیرات اور گودام نما دکانیں کسی بڑے حادثے کو دعوت دیتی دکھائی دیتی ہیں، مگر متعلقہ ادارے اکثر ان خامیوں پر خاموش رہتے ہیں۔

گل پلازہ کا سانحہ ہمیں احتساب کے کمزور نظام کی بھی یاد دہانی کراتا ہے۔ ہر بڑے حادثے کے بعد انکوائری کمیٹیاں بنتی ہیں، بیانات دیے جاتے ہیں اور رپورٹس تیار ہوتی ہیں، مگر عملی نتائج سامنے نہیں آتے۔ نہ ذمہ داروں کا واضح تعین ہوتا ہے اور نہ ہی مستقبل کے لیے مؤثر اصلاحات کی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سانحہ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرہ تاجروں اور خاندانوں کو محض دلاسوں تک محدود نہ رکھے۔ فوری مالی امداد، شفاف بحالی پیکیج، بلاسود قرضے اور ٹیکس میں رعایت جیسے اقدامات اب ناگزیر ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شہر بھر کی تجارتی عمارتوں کا جامع فائر سیفٹی آڈٹ اور قوانین پر سختی سے عملدرآمد وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ کراچی پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر اس شہر کے تجارتی مراکز غیر محفوظ رہیں گے تو اس کے اثرات صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری قومی معیشت کو متاثر کریں گے۔ گل پلازہ کا نقصان چند تاجروں کا نقصان نہیں بلکہ ایک اجتماعی معاشی صدمہ ہے۔

سانحہ گل پلازہ ہمیں ایک بار پھر یہ پیغام دیتا ہے کہ انسانی جان کی قدر سرمایہ سے کہیں زیادہ ہے۔ اگر ہم نے اب بھی سبق نہ سیکھا، اگر حفاظتی نظام کو سنجیدگی سے نہ لیا اور اگر ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں نہ لایا گیا تو یہ آگ دوبارہ کسی اور نام اور کسی اور جگہ پر بھڑک سکتی ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ یوم سوگ کو محض ایک علامتی عمل نہ رہنے دیا جائے بلکہ اسے اصلاح اور احتساب کا نقطہ آغاز بنایا جائے۔ کراچی کے شہری مزید لاشیں، مزید راکھ اور مزید وعدے برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اسے کہنا
  • خواتین کا عالمی دن
  • آدم بو
  • قوم کی توقعات کو قومی توقعات سمجھیں؟
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
برطانیہ – بچوں کے تحفظ کا اصل سوال
پچھلی پوسٹ
دریچے درد کے جب وا ہوئے

متعلقہ پوسٹس

گہرے پانیوں والی آنکھیں !

مئی 9, 2020

ایک عہد ساز شاعر – سید عدید

فروری 11, 2022

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

حضرت محمد ﷺ کی محبت

اگست 15, 2025

پھوجا حرام دا

جنوری 25, 2020

جمالیاتی اظہار کی روح

دسمبر 7, 2024

پہلے انڈا آیا ۔ یا مرغی

جنوری 13, 2020

یادوں میں تمہاری رہتا ہوں

فروری 14, 2026

رقصِ زر کا خمار

دسمبر 2, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تبلیغی جماعت کا جائزہ (زمینی حالات)

جنوری 14, 2026

پنجاب کا دوپٹہ

نومبر 14, 2021

رمضان المبارک کا مہینہ

اپریل 14, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں