خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرموجد شاعری شاہ شمس ولی اللہ
اردو تحاریرمحمد حسین آزادمقالات و مضامین

موجد شاعری شاہ شمس ولی اللہ

از سائیٹ ایڈمن جنوری 16, 2026
از سائیٹ ایڈمن جنوری 16, 2026 0 تبصرے 30 مناظر
31

یہ مضمون بھی رسالہ انجمن شمارہ اگست ۱۸۶۷ء سے نقل کیا گیا ہے۔ اسے مولوی صاحب نے اپنے قلم سے دوبارہ درست کیا ہے۔ جن الفاظ کا بعدمیں اضافہ ہوا ہے انہیں خطوط وجدانی میں لکھ دیا ہے۔ ذرا آب حیات کھول کر ولی کا حال نکالئے اور اس تقریر کااس کے ساتھ مقابلہ کیجئے۔ معلوم ہو جائےگا کہ مشق اور تقاضائے وقت سے مولوی صاحب نے کیا کیا تبدیلیاں کیں تھیں۔ اس مضمون کا آخری فقرہ پہلے یہ تھا۔ ’’بعضے اشعاراس کے جو زبان مروجہ حال کے مطابق ہیں لکھے جاتے ہیں، جس سے تصدیق میرے کلام کی ہوتی ہے کہ باوجود یکہ زبان اس وقت کی کس قدر خراب تھی مگر اس نے اپنے محاورہ کو کتنا صاف کیا تھا۔ دیوان اس کا پارس (پیرس) دارالخلافہ فرانس میں اور ولایت لندن میں بھی چھپا ہے۔‘‘ نظرثانی میں یہ فقرہ فقط اتنا رہ گیا۔ ’’بعض غزلیں لکھی جاتی ہیں۔ زبان اس وقت کی کیا تھی اور اس نے اپنے محاورہ کو کتنا صاف کیا تھا۔‘‘
زمان سابق میں شاعری اردو کی کبت اور دوہرے وغیرہ میں ختم ہو جاتی تھی۔ جلسہ گزشتہ میں ذکر ہوا ہے کہ امیرخسرو نے اول زبان ہندی کو بحورمختصہ فارسی میں داخل کیا ورنہ مسلمان ہندوستانی بھی اپنی موزونی طبع کو دوہرہ وغیرہ میں صرف کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ملک محمد جائسی کے دوہرے اور کبت ہندی میں بہت مشہور ہیں اور کچھ کچھ زبان اردومیں بھی اشعار لکھے ہیں۔ ڈاکٹر گلکرسٹ صاحب اپنی تصنیفات میں ان کا ذکر بہت لاتے ہیں۔ ایک پدماوت بھی اس نے لکھی ہے۔ پدماوت راجہ لنکا کی بیٹی تھی۔ اس کی شادی رتن سنگھ چتوڑ کے راجہ سے ہوئی تھی۔ جب سلطان علاء الدین ۱۳۰۳ء میں اس شہر میں فتح یاب ہوا تو وہ زنِ مردانہ خیال تیرہ ہزار عورتوں کے ساتھ آگ میں جل کر خاک سیاہ ہو گئی کہ دشمن کے ہاتھ پڑنے سے مرنا (بہتر ہے۔)

(ایک) جلد اس کتاب کی باتصویر دہلی کے کتب خانہ میں موجود تھی۔ پارس دارالخلافت (فرانس) میں بھی پہنچی ہے اور اب چند سال گزرے کہ زبان اردو میں بھی منظوم ہوئی ہے۔ مگر یاد رہے کہ جس (چتوڑ) کو اکبر بادشاہ نے ۱۵۰۹ء میں فتح کیا وہ اور چتوڑ ہے۔ ملک محمد مذکور نے اکثر چیزیں راگ میں بھی تصنیف کی ہیں۔ اس کے علاوہ نواز نام شاعر بھی مسلمان تھا۔ جس نے برج بھاشا میں سکنتلا کا ترجمہ فرخ سیر بادشاہ کے حکم سے کیا تھا۔ سیوا ایک مصنف ہے جس نے زبان دکھنی میں روضۃ الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت میں لکھی ہے اور مرثیہ اس کے وہاں کے امام باڑوں میں اب تک پڑھے جاتے ہیں۔ احمد گجراتی جسے علی ابن ابراہیم اپنے تذکرہ میں لکھتا ہے کہ یہ شخص برج بھاشا اور سنسکرت میں خوب واقف تھا اور بموجب رواج عہد کے ریختہ بھی کہتا تھا، تین شعر اس کے جلسہ گزشتہ میں پڑھے گئے۔
با یزید انصاری جو فقرائے جلالی کا فرقہ کا بانی ہے، دبستان مذاہب میں لکھا ہے کہ ۱۵۲۴ء میں جالندھر میں گزارا ہے۔ اس کی تصنیفات عربی و فارسی و پشتو و بھاشا وغیرہ میں ہیں۔ خیر البیان ایک کتاب ایسی لکھی ہے کہ معتقد اسے کتاب آسمانی سمجھتے ہیں۔ ڈاکٹر لیڈن صاحب وغیرہ مصنفین انگلش اور فرانس نے بھی اس کے احوالات عجیب اپنی تصنیفات میں لکھے ہیں۔

سعدی جو ولی سے پہلے گزارا ہے چند شعر اس کے جلسہ سابق میں پڑھے گئے۔ بعضے تذکروں میں سعدی پر شیخ سعدی شیرازی کا دھوکہ کھایا ہے اور اشعار اس کے بنام شیخ ممدوح لکھے ہیں۔ مگر یہ غلط ہے وہ ایسا برخود غلط تھا کہ کہتا تھا جو مرتبہ مجھے اپنی زبان میں حاصل ہے شیخ سعدی کو فارسی میں نہ تھا۔ اس کے عہد کو قریب چارسو برس کے گزرے ہیں۔ چنانچہ اشعار حامد باری کے اوراس کے بھی جلسہ گزشتہ میں پڑھے گئے۔ اگرچہ اس زمانہ میں شعراء اردو شعر بھی کہتے تھے مگر ولی 1 کے سوائے کوئی صاحب دیوان نہیں گزرا۔ اس شخص کا وطن گجرات دکھن تھا۔ شاہ وجیہہ الدین گجراتی کے خاندان مشہور سے تھا۔ ابوالمعالی کے ساتھ دہلی میں آیا۔ شاہ سعداللہ گلشن سے ملاقات کرکے مرید ہوا اور انہیں کی فرمائش سے اپنی نظم کی ترتیب وتدوین کی۔ کہتے ہیں اس کا شاگرد بھی ہے۔ تخمیناً تین سوبرس اس کے زمانہ کو گزرے۔ عالمگیر کا دور بھی اس نے پایا ہے۔ اس کے کلام سے اس وقت کی زبان کا بڑا پختہ سراغ ملتا ہے۔
سون اور سین بجائے سے اور منے بجائے میں اور الفاظ جمع ہندی باقاعدہ فارسی مثل بھواں وپدکاں اور پی اور پیتم اور پریجن بمعنی معشوق اس کا روزمرہ ہے۔ چونکہ اصل دکنی تھا اس واسطے الفاظ دکنی ہی اس کے کلام میں پائے جاتے ہیں۔ دیوان اس کا تمام وکمال موجود ہے۔ اور پیرس دارالخلافہ فرانس اور خاص لندن میں چھپ گیا ہے۔ غزل رباعی قطعہ وغیرہ بعض قسم کے کلام اور مضامین اس کے دیوان میں جمع ہیں۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ قصیدہ کے دستور نے اس وقت تک رواج نہ پایا تھا یا۔ وہ خواجہ درد کی طرح کہ آزادانہ مزاج رکھتا تھا اور خوشامد کو پسند نہ کرتا تھا کیونکہ قصائد وغیرہ تعریف سلاطین اور امراء میں جیسا کہ بعض شعراء زمانہ کا دستور ہے، اس کے دیوان میں نہیں۔ ایک مثنوی شہر سورت کی تعریف میں بزبان سلیس لکھی ہے۔ مضامین بہت عالی نہیں لیتا۔

آج کی زبان سے قطع نظر کرکے اور زمانہ کے حالات کا تصور کرکے جب دیکھا جاتا ہے تو اس کا کلام نہایت حیرت انگیز ہے اور اس میں شک نہیں کہ وہ تمام ہندوستانی شاعروں کا ہادی اور رہنما تھا۔ افسوس ہے کہ ہماری زبان کے تذکروں میں اس سے زیادہ اس کا نشان نہیں دے سکتے تاکہ سن ولادت و وفات سیاحی یا گوشہ نشینی یا اور عادات واطوار اس کے لکھے جاتے۔ لاچار اسی پر قناعت کی گئی۔ بعض غزلیں لکھی جاتی ہیں۔ زبان اس وقت کی کیا تھی اوراس نے اپنے محاورے کو کتنا صاف کیا تھا۔
تجھ حسن عالم تاب کا جو عاشق و شیدا ہوا

ہر خوبرو کے حسن کے جلوہ سے بے پروا ہوا
وہ صنم جب سے بسادیدہ حیران میں آ

آتش عشق پڑی عقل کے سامان میں آ
طاقت نہیں کسی کو کہ ایک حرف سن سکے

احوال گر کہوں میں دل بے قرار کا
آئے ولی ہماری طرف تیغ ناز سے

اس شوخ کو خیال اگر ہے شکارکا
مسند گل منزل شبنم ہوئی

دیکھ رتبہ دیدہ بیدار کا
جنون عشق ہوا اس قدر زمیں کو محیط

کہ پارسا کو ہوئی موج بو ریا زنجیر
دورنگی سے تری اے سرو رعنا

کبھی راضی کبھی بیزار ہیں ہم
خط کے آنے نے خبردار کیا گلرو کو

نشہ ہوش ہے اس بادہ ریحانی میں
ایک دل نہیں آرزو سے خالی

ہر جا ہے محال اگر خلا ہے
مرا دل مجھ سے کرکے بیوفائی

پسندِ خاطرِ خویاں ہوا ہے
ترک کر اے رقیب فرعونی

آہ میری عصائے موسیٰ ہے
اے ولی گلبدن کو باغ میں دیکھ

ولیِ صد پارہ باغ باغ ہوا
اے ولی سر و قد کو دیکھوں گا

وقت آیا ہے سرفرازی کا
حاشیہ

(۱) ۸ شعر کی غزل اور غزل کو ردیف سے انہوں نے آراستہ کیا۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جنسی ہراسمنٹ پر گالیاں، تھپڑ اور ویڈیو
  • منہ پھیکا کرا دیں گے
  • کچھ بدلا ؟
  • موت، مشرف اور انصاف
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
فیلا لوجیا
پچھلی پوسٹ
شبِ معراج

متعلقہ پوسٹس

کچے مکانات، کچے وعدے

ستمبر 7, 2025

جو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں

نومبر 30, 2024

آنکھوں کے راز اور خول

مارچ 24, 2026

روحانیت اور جدید زندگی

نومبر 5, 2025

ٹھنڈا گوشت

اکتوبر 25, 2019

نجات

جنوری 2, 2022

ذائقے جو روپوش ہو گئے

دسمبر 4, 2019

طارق فتح کیسے پیدا ہوتا ہے ؟

مارچ 27, 2019

چنبیلی

دسمبر 23, 2021

ساسان پنجم

جون 15, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

انسانیت اور برداشت کا زوال

مارچ 8, 2026

خاموش قربانی کا پہرہ

مارچ 6, 2026

پارسائی اور تقویٰ

جنوری 5, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں