خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرموجد شاعری شاہ شمس ولی اللہ
اردو تحاریرمحمد حسین آزادمقالات و مضامین

موجد شاعری شاہ شمس ولی اللہ

از سائیٹ ایڈمن جنوری 16, 2026
از سائیٹ ایڈمن جنوری 16, 2026 0 تبصرے 70 مناظر
71

یہ مضمون بھی رسالہ انجمن شمارہ اگست ۱۸۶۷ء سے نقل کیا گیا ہے۔ اسے مولوی صاحب نے اپنے قلم سے دوبارہ درست کیا ہے۔ جن الفاظ کا بعدمیں اضافہ ہوا ہے انہیں خطوط وجدانی میں لکھ دیا ہے۔ ذرا آب حیات کھول کر ولی کا حال نکالئے اور اس تقریر کااس کے ساتھ مقابلہ کیجئے۔ معلوم ہو جائےگا کہ مشق اور تقاضائے وقت سے مولوی صاحب نے کیا کیا تبدیلیاں کیں تھیں۔ اس مضمون کا آخری فقرہ پہلے یہ تھا۔ ’’بعضے اشعاراس کے جو زبان مروجہ حال کے مطابق ہیں لکھے جاتے ہیں، جس سے تصدیق میرے کلام کی ہوتی ہے کہ باوجود یکہ زبان اس وقت کی کس قدر خراب تھی مگر اس نے اپنے محاورہ کو کتنا صاف کیا تھا۔ دیوان اس کا پارس (پیرس) دارالخلافہ فرانس میں اور ولایت لندن میں بھی چھپا ہے۔‘‘ نظرثانی میں یہ فقرہ فقط اتنا رہ گیا۔ ’’بعض غزلیں لکھی جاتی ہیں۔ زبان اس وقت کی کیا تھی اور اس نے اپنے محاورہ کو کتنا صاف کیا تھا۔‘‘
زمان سابق میں شاعری اردو کی کبت اور دوہرے وغیرہ میں ختم ہو جاتی تھی۔ جلسہ گزشتہ میں ذکر ہوا ہے کہ امیرخسرو نے اول زبان ہندی کو بحورمختصہ فارسی میں داخل کیا ورنہ مسلمان ہندوستانی بھی اپنی موزونی طبع کو دوہرہ وغیرہ میں صرف کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ملک محمد جائسی کے دوہرے اور کبت ہندی میں بہت مشہور ہیں اور کچھ کچھ زبان اردومیں بھی اشعار لکھے ہیں۔ ڈاکٹر گلکرسٹ صاحب اپنی تصنیفات میں ان کا ذکر بہت لاتے ہیں۔ ایک پدماوت بھی اس نے لکھی ہے۔ پدماوت راجہ لنکا کی بیٹی تھی۔ اس کی شادی رتن سنگھ چتوڑ کے راجہ سے ہوئی تھی۔ جب سلطان علاء الدین ۱۳۰۳ء میں اس شہر میں فتح یاب ہوا تو وہ زنِ مردانہ خیال تیرہ ہزار عورتوں کے ساتھ آگ میں جل کر خاک سیاہ ہو گئی کہ دشمن کے ہاتھ پڑنے سے مرنا (بہتر ہے۔)

(ایک) جلد اس کتاب کی باتصویر دہلی کے کتب خانہ میں موجود تھی۔ پارس دارالخلافت (فرانس) میں بھی پہنچی ہے اور اب چند سال گزرے کہ زبان اردو میں بھی منظوم ہوئی ہے۔ مگر یاد رہے کہ جس (چتوڑ) کو اکبر بادشاہ نے ۱۵۰۹ء میں فتح کیا وہ اور چتوڑ ہے۔ ملک محمد مذکور نے اکثر چیزیں راگ میں بھی تصنیف کی ہیں۔ اس کے علاوہ نواز نام شاعر بھی مسلمان تھا۔ جس نے برج بھاشا میں سکنتلا کا ترجمہ فرخ سیر بادشاہ کے حکم سے کیا تھا۔ سیوا ایک مصنف ہے جس نے زبان دکھنی میں روضۃ الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت میں لکھی ہے اور مرثیہ اس کے وہاں کے امام باڑوں میں اب تک پڑھے جاتے ہیں۔ احمد گجراتی جسے علی ابن ابراہیم اپنے تذکرہ میں لکھتا ہے کہ یہ شخص برج بھاشا اور سنسکرت میں خوب واقف تھا اور بموجب رواج عہد کے ریختہ بھی کہتا تھا، تین شعر اس کے جلسہ گزشتہ میں پڑھے گئے۔
با یزید انصاری جو فقرائے جلالی کا فرقہ کا بانی ہے، دبستان مذاہب میں لکھا ہے کہ ۱۵۲۴ء میں جالندھر میں گزارا ہے۔ اس کی تصنیفات عربی و فارسی و پشتو و بھاشا وغیرہ میں ہیں۔ خیر البیان ایک کتاب ایسی لکھی ہے کہ معتقد اسے کتاب آسمانی سمجھتے ہیں۔ ڈاکٹر لیڈن صاحب وغیرہ مصنفین انگلش اور فرانس نے بھی اس کے احوالات عجیب اپنی تصنیفات میں لکھے ہیں۔

سعدی جو ولی سے پہلے گزارا ہے چند شعر اس کے جلسہ سابق میں پڑھے گئے۔ بعضے تذکروں میں سعدی پر شیخ سعدی شیرازی کا دھوکہ کھایا ہے اور اشعار اس کے بنام شیخ ممدوح لکھے ہیں۔ مگر یہ غلط ہے وہ ایسا برخود غلط تھا کہ کہتا تھا جو مرتبہ مجھے اپنی زبان میں حاصل ہے شیخ سعدی کو فارسی میں نہ تھا۔ اس کے عہد کو قریب چارسو برس کے گزرے ہیں۔ چنانچہ اشعار حامد باری کے اوراس کے بھی جلسہ گزشتہ میں پڑھے گئے۔ اگرچہ اس زمانہ میں شعراء اردو شعر بھی کہتے تھے مگر ولی 1 کے سوائے کوئی صاحب دیوان نہیں گزرا۔ اس شخص کا وطن گجرات دکھن تھا۔ شاہ وجیہہ الدین گجراتی کے خاندان مشہور سے تھا۔ ابوالمعالی کے ساتھ دہلی میں آیا۔ شاہ سعداللہ گلشن سے ملاقات کرکے مرید ہوا اور انہیں کی فرمائش سے اپنی نظم کی ترتیب وتدوین کی۔ کہتے ہیں اس کا شاگرد بھی ہے۔ تخمیناً تین سوبرس اس کے زمانہ کو گزرے۔ عالمگیر کا دور بھی اس نے پایا ہے۔ اس کے کلام سے اس وقت کی زبان کا بڑا پختہ سراغ ملتا ہے۔
سون اور سین بجائے سے اور منے بجائے میں اور الفاظ جمع ہندی باقاعدہ فارسی مثل بھواں وپدکاں اور پی اور پیتم اور پریجن بمعنی معشوق اس کا روزمرہ ہے۔ چونکہ اصل دکنی تھا اس واسطے الفاظ دکنی ہی اس کے کلام میں پائے جاتے ہیں۔ دیوان اس کا تمام وکمال موجود ہے۔ اور پیرس دارالخلافہ فرانس اور خاص لندن میں چھپ گیا ہے۔ غزل رباعی قطعہ وغیرہ بعض قسم کے کلام اور مضامین اس کے دیوان میں جمع ہیں۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ قصیدہ کے دستور نے اس وقت تک رواج نہ پایا تھا یا۔ وہ خواجہ درد کی طرح کہ آزادانہ مزاج رکھتا تھا اور خوشامد کو پسند نہ کرتا تھا کیونکہ قصائد وغیرہ تعریف سلاطین اور امراء میں جیسا کہ بعض شعراء زمانہ کا دستور ہے، اس کے دیوان میں نہیں۔ ایک مثنوی شہر سورت کی تعریف میں بزبان سلیس لکھی ہے۔ مضامین بہت عالی نہیں لیتا۔

آج کی زبان سے قطع نظر کرکے اور زمانہ کے حالات کا تصور کرکے جب دیکھا جاتا ہے تو اس کا کلام نہایت حیرت انگیز ہے اور اس میں شک نہیں کہ وہ تمام ہندوستانی شاعروں کا ہادی اور رہنما تھا۔ افسوس ہے کہ ہماری زبان کے تذکروں میں اس سے زیادہ اس کا نشان نہیں دے سکتے تاکہ سن ولادت و وفات سیاحی یا گوشہ نشینی یا اور عادات واطوار اس کے لکھے جاتے۔ لاچار اسی پر قناعت کی گئی۔ بعض غزلیں لکھی جاتی ہیں۔ زبان اس وقت کی کیا تھی اوراس نے اپنے محاورے کو کتنا صاف کیا تھا۔
تجھ حسن عالم تاب کا جو عاشق و شیدا ہوا

ہر خوبرو کے حسن کے جلوہ سے بے پروا ہوا
وہ صنم جب سے بسادیدہ حیران میں آ

آتش عشق پڑی عقل کے سامان میں آ
طاقت نہیں کسی کو کہ ایک حرف سن سکے

احوال گر کہوں میں دل بے قرار کا
آئے ولی ہماری طرف تیغ ناز سے

اس شوخ کو خیال اگر ہے شکارکا
مسند گل منزل شبنم ہوئی

دیکھ رتبہ دیدہ بیدار کا
جنون عشق ہوا اس قدر زمیں کو محیط

کہ پارسا کو ہوئی موج بو ریا زنجیر
دورنگی سے تری اے سرو رعنا

کبھی راضی کبھی بیزار ہیں ہم
خط کے آنے نے خبردار کیا گلرو کو

نشہ ہوش ہے اس بادہ ریحانی میں
ایک دل نہیں آرزو سے خالی

ہر جا ہے محال اگر خلا ہے
مرا دل مجھ سے کرکے بیوفائی

پسندِ خاطرِ خویاں ہوا ہے
ترک کر اے رقیب فرعونی

آہ میری عصائے موسیٰ ہے
اے ولی گلبدن کو باغ میں دیکھ

ولیِ صد پارہ باغ باغ ہوا
اے ولی سر و قد کو دیکھوں گا

وقت آیا ہے سرفرازی کا
حاشیہ

(۱) ۸ شعر کی غزل اور غزل کو ردیف سے انہوں نے آراستہ کیا۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • گستاخانہ خاکے اور امت ِ مسلمہ!
  • کشتی کی وہ سنہری شام
  • کچرا بابا
  • اب اپنا اختیار ہے چاہے جہاں چلیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
فیلا لوجیا
پچھلی پوسٹ
شبِ معراج

متعلقہ پوسٹس

رفوگر

جون 14, 2020

پتوکی از مستنصر تارڑ

ستمبر 29, 2019

کالی کلی

فروری 6, 2020

منافقت سے بھری محبت

اکتوبر 12, 2020

رزم آرائی کی غزل

جولائی 5, 2024

بدنام جو ہوں گے تو

فروری 3, 2021

فردوسِ بریں

جون 5, 2026

ال گلہری

دسمبر 30, 2014

سونے کی انگوٹھی

فروری 16, 2020

ذوق کی قصیدہ نگاری

اپریل 13, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سانجھ

جنوری 5, 2020

کیسر بائی کی ٹھمری بھیرویں

مارچ 27, 2025

میں تتی دھی پنجاب دی

جون 6, 2013
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں