خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاممسئلہ کشمیر
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزعابد خان لودھی

مسئلہ کشمیر

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 9, 2025
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 9, 2025 0 تبصرے 60 مناظر
61

مسئلہ کشمیر دنیا کے تنازعات میں سے ایک ہے۔جس کی وجہ سے بر صغیر کے ڈیڑھ ارب لوگ اذیت کا شکار ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان دشمنی کی وجہ سے ہتھیاروں کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔تجارتی تعلقات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس پر دونوں ملک بہت نیچے ہیں۔ قومی ساؤ نزم کی بنیاد پر دشمنی کے جذبات بڑھا کر عوام کا استحصال کیا جاتا ہے۔ مسئلے کے بنیادی فریق ، ریاستی عوام بنیادی حقوق سے محروم ، منقسم اور ریاستی جبر کا شکار ہیں۔ اس پورے خطے میں امن کی بحالی اور ترقی کے لئے اس تنازعہ کا حل نا گزیر ہے۔ بر صغیر کے با شعور لوگوں کا یہ فرض ہے۔ کہ صرف ریاستی عوام کے لئے بلکہ اپنی تعلیم ، صحت ، روزگار،معاشی میدان میں ترقی ، اور جمہوری حقوق کے لئے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل پر زور دیں۔ دہشت گردی اور مقروض معیشت کے پیچھے بنیادی وجہ ہندستان اور پاکستان کے درمیان خراب تعلقات ہیں۔ جن کی جڑ مسئلہ کشمیر ہے۔ستر سال سے اس بنیادی مسئلے کے حل میں پیش رفت نہ ہونے کی وجہ یہ ہے۔ہندوستان ریاست جموں کشمیر کو اپنا اٹوٹ ٹنگ قرار دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی محض کاغذ کا ٹکڑا ثابت ہوئی ہیں۔ کیونکہ وہاں عالمی طاقتیں حاوی ہیں اور وہ اپنے مفادات کے مطابق ہی اقوام متحدہ کو استعمال کرتی ہیں۔ اس مسئلے کو بھارت کی نظر سے دیکھنے سے یہ کبھی بھی حل نہیں ہو گا۔ مسئلہ کشمیر تب ہی حل ہو سکتا ہے۔ جب ریاستی عوام کو بنیادی فریق تسلیم کر کے ان کی امنگوں کے مطابق اس کا حل تلاش کیا جائے۔
پاکستان اور بھارت اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ جنگ لڑ کر پوری ریاست پر قبضہ کر سکیں۔ اور اگر یہ ناممکن کام ہو بھی جائے تو اس طرح صورت حال مذید مخدوش ہو جائے گی۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند عوام نے لاکھوں جانیں قربان کر کے یہ ثابت کیا ہے۔ کہ وہ کسی صورت بھارت کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں۔ اسی طرح گلگت بلتستان کبھی بھی بھارت میں شامل نہیں ہونگے۔ البتہ جموں اور لداخ کے لوگوں کی اکثریت کا انتخاب مختلف ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف ایسی کوئی طاقت موجود نہیں جو بھارت کو ریاست پر سے اپنا قبضہ ختم کرنے پر مجبور کرے ۔ جس طرح 1947میں بنگال اور پنجاب تقسیم ہو کر ہی پاکستان کو حصہ بن سکے تھے۔ وہی عمل ریاست جموں کشمیر کے ساتھ دہرایا جانا ہو گا۔
لیکن سب سے اہم بات یہ ہے۔ کہ آج ہم 2017میں کھڑے ہیں ۔زمینی حقائق تبدیل ہو چکے ہیں۔اور 1947کی عینک سے آج کا معروضی سچ نہیں دیکھا جا سکتا ۔ بنگال کی مثال سے صورت حال کی وضاحت کی جا سکتی ہے۔مسلم لیگ 1947میں خود مختار متحدہ بنگال کے حق میں تھی۔اور کانگرس کی ضد پر اس کو تقسیم کیا گیا۔ اور یوں مشرقی بنگال مشرقی پاکستان بنا۔ اکثریت کے جبر کے خوف سے نجات کے بعد قومی تضادات سامنے آ گئے۔ پنجابی جاگیر داروں اور اور فوج نے پاکستان پر قبضہ کر لیا۔ ون یونٹ قائم کیا اور صوبائی خود مختاری ختم کر دی۔ استحصال نے مزاحمت کو جنم دیا۔ اور جرنل شیر علی کا ایجاد کردہ نظریہ پاکستان متحدہ پاکستان کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا ۔ اور بنگلہ دیش بن گیا۔سیاسی قیادت کی بد عنوانیوں کی داستانیں زبان زد عام ہیں ۔ تعلیم صحت اور کاروبار کی بہترین سہولتیں اشرافیہ کو حاصل ہیں۔ اور عوام بدترین استحصال کا شکار ہیں۔ پاکستان کے عوام کو اپنی اشرافیہ کے جبر سے آذادی حاصل کرنے کے لئے عین اسی طرح کوشش کرنی چاہیے ۔ جیسے کشمیری کر رہے ہیں ۔ عالمی اقوام کو بھی الحاق کی بنیاد پر موجود ستر سالہ تنازعہ سے کوئی دلچسپی نہیں ہو سکتی۔
کشمیری عوام پاکستان اور بھارت سب کے لئے اس مسئلے کا حل ہو جانا ضروری ہے۔ اور اس کا واحد ممکنہ اور منصفانہ حل کشمیریوں کا حق خود ارادیت ہے۔ تقسیم سے بچاؤ کا واحد راستہ یہی ہے۔کشمیریوں کی بیرون ملک مقیم ایک بہت بڑی تعداد کشمیر کے لئے کوشش کر رہی ہے۔ حق خود ارادیت کو اقوام متحدہ بنیادی حق تسلیم کر چکی ہے۔ اور موجودہ وقتوں میں کئی چھوٹے چھوٹے ملکوں نے اس حق کوKashmir اپنی خود مختاری کے لئے کامیابی سے استعمال کیا ہے۔
کشمیر کی آذادی کے لئے چلائی جانے والی تحریک کو فرقہ واریت کی بنیاد پر تقسیم کرنا ممکن نہیں ہو گا ۔ نہ اسے پراکسی وار بنا کر پیش کرنے میں ہندوستان کو کامیابی ہو سکے گی۔ ریاست جموں کشمیر جنوبی ایشیاء کا مرکز بن سکتی ہے۔ پاکستان کے چھوٹے صوبوں میں سرگرم سیاسی کارکن اور دانشور کشمیریوں کے حق خودمختاری کے حامی ہیں۔ لہٰذا حکمران طبقات اصولی موقف کے نام پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کا راگ الاپنے میں کمفر ٹیبل محسوس کرتے ہیں ۔ کیونکہ حالات کا جوں کا توں رہنا ان کی حکمرانی کو استحکام بخشتا ہے۔ بھارت میں بھی انسانی حقوق کے علمبردار دانشور اس حل کو تقویت بخشیں گے۔
تقسیم بر صغیر کے وقت مسلم لیگ نے ریاستوں کے آذاد رہنے کے حق کی بھر پور وکالت کی تھی۔ جبکہ کانگرس کا موقف یہ تھا کہ ریاستوں کو بہتر صورت پاکستان یا بھارت کا حصہ بننا چاہیے ۔ مہاراجہ ریاست اور مسلم کانفرنس ریاست کی خود مختاری کے حامی تھے۔ کانگرس کی پر زور مخالفت اور بتطانیہ کی اس کی حمایت کی وجہ سے اس وقت کوئی بھی ریاست خود مختار نہیں رہ سکی۔ قبائیلیوں کے حملے کے بعد مہاریجہ سے الحاق ہندوستان کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ الحاق کے حامی شیخ عبداللہ نے طویل جیل کاٹی۔ الحاق نواز سیاستدانوں نے گذشتہ ستر سالوں میں چھوٹی چھوٹی مراعاتوں کے عوض تمام اختیارات سے دستبرداری قبول کر لی۔ اور مفادات کی سیاست میں الجھے رہے۔ جبکہ کشمیر کی حامی جماعتوں نے مقبول بٹ شہید کو آذادی کی علامت بنا کر کشمیری عوام کے ایک بڑے حصے کو متحرک کر دیا ۔نا اہل سیست دانوں کی وجہ سے کشمیر مسائلستان بن چکا ہے۔ اور ان عوامی مسائل کی بنیاد پر عوام میں وسیع تر جرات بنائی جا سکتی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے کروڑوں محنت کشوں سے براہ راست جرات پیدا کر کے انہیں کشمیر کے حق میں قائل کیا جا سکتا ہے۔یہ بات ہندوستان کے عوام تک پہچانے کی ضرورت ہے۔ کہ کشمیری عوام ان کے دشمن ہیں نہ ان کے مخالف بلکہ وہ خود غاصبانہ قبضے کا شکار ہیں۔اور مظلوم عوام کے استحصال کے خلاف ان کی جدو جہد کے ساتھ یکجہتی رکھتے ہیں۔ ہندوستان کے کروڑوں غریبوں کی دشمن ان کے ملک کی استحصالی اشرافیہ ہے۔ اور مسئلہ کشمیر کو محض اس استحصال کو طوالت دینے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ہندوستان کے عوام کی نجات میں ہی در اصل ہماری آذادی کی کنجی پنہاں ہے۔ بین الاقوامی رائے عامہ پر بھی بنیادی انسانی حقوق کی بازیابی کے لئے تحریک مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔ فرقہ واریت ، دہشت گردی ، اور پراکسی وار کے پروپیگنڈے کا توڑ بھی یہی ہے۔

عابد خان لودھی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • امتحانی مراکز یا واہگہ بارڈر
  • عابد ہاشمی اور ’’مقصدِ حیات‘‘
  • دل نے جب بھی ترا خیال کیا
  • یوم حساب
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
عوام کی آواز ( ہیلمٹ )
پچھلی پوسٹ
معاشرے میں نصیبو کا کردار

متعلقہ پوسٹس

رمِ حیات پہ پوری کتاب لکھوں گی

جنوری 12, 2026

ترقی یا پستی

مئی 25, 2024

پاکستان : مذہب اور سیاست کا سفر

فروری 6, 2026

بھٹو کا جیالا اور آصف زرداری

نومبر 16, 2019

بے غرض محسن

دسمبر 10, 2017

ننگی آوازیں

جنوری 12, 2020

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

فرشتہ بھی نہیں آیا

نومبر 29, 2017

اللہ کے محبوب اور مقرب بندوں سے نسبت

دسمبر 6, 2024

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا...

اپریل 6, 2026

پھوجا حرام دا

جنوری 25, 2020

غل خان

مئی 10, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں