خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرفرشتہ بھی نہیں آیا
اردو تحاریراردو کالمزکشور ناہید

فرشتہ بھی نہیں آیا

ایک اردو کالم از کشور ناہید

از سائیٹ ایڈمن نومبر 29, 2017
از سائیٹ ایڈمن نومبر 29, 2017 0 تبصرے 419 مناظر
420

فرشتہ بھی نہیں آیا

پچھلے کچھ دنوں سے وطن کے حالات سے مجھے پاکستان کے قیام کے بعد قائداعظم کی رحلت، لیاقت علی خان کے قتل کے سارے واقعات یاد آگئے۔ کیسے کسی کے لئے غلام محمد، چوہدری محمد علی کی لڑائیاں جاری تھیں۔ ابھی تو پاکستان کا آئین بھی نہیں بنا تھا۔ ابھی تک بننے والے نئے سربراہ کو حکومت برطانیہ کے ملازم کی حیثیت سے حلف اٹھانا ہوتا تھا۔ ابھی پاکستان کی اسٹیشنری بھی نہیں تیار ہوئی تھی۔ ہم لوگ ریڈیو جاتے تو انگریز کے تیار کردہ ایگریمنٹ پر ہاتھ سے کاٹ کر گورنمنٹ آف پاکستان لکھ دیا جاتا تھا۔
ہم محمد علی بوگرہ سے شروع ہوئے اور ہر دفعہ کوئی نیا شوکت عزیز برآمد کر کے، وزارت خزانہ اور کبھی وزارت عظمیٰ کو اس کے سپرد کرتے رہے۔ شاید آنے والے دن بھی کسی درآمد شدہ شخص کو سربراہ یا کچھ اور ( کہلوادیں ) قوم میں تو اتنی طاقت نہیں کہ ترکی اور ارجنٹینا کی طرح نامنظور قوتوں کا محاصرہ کرلے۔
بہرحال میں نے طے کیا کہ نہ اخبار پڑھونگی نہ ٹی وی دیکھوں گی تو پھر کیا کرونگی۔ میرے سامنے فرشتے آگئے۔ کہا یہ پڑھو مگر اس کتاب پر تو لکھا تھا ’’فرشتہ نہیں آیا‘‘۔ یہ افسانے تھے ڈاکٹر ناصر عباس نیر کے کہ جن کی تنقید کا حوالہ تو بین الاقوامی ہوچکا ہے۔ یہ شخص نصابی تنقید نہیں، فلسفیانہ نظریاتی تنقید کے ذریعے، پوری دنیا میں لکھی جانے والی تنقید اور ادب کا تقابل کرتا ہے اور اردو ادب میں نیا ماحول پیدا کررہا ہے۔
کتاب کا انتساب انتظار حسین کے نام ہے۔ پتہ نہیں کیوں مجھے جگہ جگہ انتظار کا آخری آدمی اور زرد کتا یاد آتا گیا۔ وہ کہانی میں جب ابا کا صندوق کھولتا ہے۔ اس میں دھندلا آئینہ، زندگی اور ماضی دونوں کو آنکھوں کے سامنے لے آتا ہے۔ وہ سارے بوسیدہ کاغذ جو انتظار ہوتے تو انہیں کبھی کریشن مہاراج کے یہاں دریافت کرتے تو کہیں ابن رشد کی مٹی ہوئی تحریروں میں شمار کرتے، مگر ناصر عباس نے تو بتایا ہے کہ یہ کون سی دنیا ہے جہاں آدمی دور بھیڑیے کی آواز سے نہیں ڈرتا مگر آئینے کے عکس سے ڈر جاتا ہے۔
اس نے بتایا ہے کہ نہ صرف اس کے سر پر بلکہ ہم سب کے سر پر ایک مشین لگی ہے۔ وہ اس مشین کو روکنا چاہتا ہے۔ جیسے ہم سب پاکستانی اس سیاست اور اس وحشت میں اپنا ہی منہ نوچ لینا چاہتے ہیں۔ ہم بھی ابا کے صندوق کے ہیرو کی طرح سوچتے ہیں، یہ چھوٹا سا شہر اسلام آباد، دور بستیوں، کھیتوں، پہاڑیوں کو نابود کرتا ہوا، ایک ریوڑ کی طرح یہ شہر پھیل کر ان لوگوں کی آماجگاہ بن چکا ہے جو کالے دھن سے بیس بیس منزلہ عمارتیں کھڑی کررہے ہیں، جلسہ کرنے والوں کے لئے پانی کی طرح پیسہ بہا رہے ہیں اور رنگ رنگ کی ٹوپیوں والوں کے جلوسوں سے ڈر رہے ہیں۔
ناصر عباس کہانی کے ذریعے ان اندھیری گلیوں کی جانب لے آتا ہے جہاں کہیں کسی فرقے کی مسجد جلائی جارہی ہے۔ کہیں خواجہ سرا کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا۔ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب ہم اپنے بچپن میں خدا کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔ تو کچھ یاد پڑتا ہے کہاجاتا تھا، وہ سب سے خوبصورت، سب سے ذہین، سارے جہان کا حاکم اور بہت کچھ، ہم اس تصور میں کہیں اپنے ابا کو اور کبھی بازار میں خاموشی سے بھیک مانگتے اس گوڑے چٹے بابا کو خدا سمجھ لیتے۔
یاد ہے ہم تو 65 اور 71 کی جنگ میں بھی سوچ رہے تھے کہ ہندوستان، بم پھینکتا ہے اور کوئی نہ کوئی فرشتہ وہ بم پکڑ کر فنا کر دیتا ہے۔ مجھے یاد ہے ناصر عباس نے جیسے میری کہانی لکھ دی ہے جب اماں نے کہا ’’تم اب بڑی ہوگئی ہو۔ دوپٹہ لیا کرو اور لڑکوں کے ساتھ کھیلنا بھی بند کردو۔ میرے سامنے وہ سب لڑکیاں آگئیں جنہیں کبھی چاکلیٹ دینے، خربوزہ دینے اور نوشگفتہ کلیوں کو چھوکر، اپنی وحشت کو نرمی میں بدلتے ہوئے کہتا ہے بس تھوڑی دیر کی بات ہے۔ یہ ساری ابلتی ہوئی کہانی چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے‘‘ اوہ میرے خدا، میری مدد کے لیے تو فرشتہ بھی نہیں آیا۔

انتظار حسین اور منٹو کے خاص کر گنجے فرشتے، مجھے ناصر عباس کی حکایات جدیدو مابعید جدید کے افسانچوں، حکایتوں اور تماثیل کا منظر پیش کرتے ہوئے، وہ دیومالائی کہانیوں میں آج کے سچ کو نہیں چھپاتا وہ تو کبھی سوروں، کبھی بھیڑیوں، بدمست ہاتھیوں کے روپ میں، گھسا ہوا جوتا پہنے، ہمارے زمانے کی کھوپڑی کھول کر وہ سب کچھ دکھابھی رہا ہے اور دیکھ بھی رہاہے کہ گھسا ہوا جوتا کس کا ہے اور کسی کا بھی نہیں۔
حد کردی ناصر عباس نے کہ آج ہمارے سارے حکم چلانے والے، عورت کو بے سر کا نسوانی دھڑ سمجھتے، سمجھانے میں اپنی ساری قوتیں لگا دیتے ہیں اور گاؤں کی ایک لڑکی عالمی امن کا انعام لینے، یو این او میں جاتی ہے تو وہ اس کو مبارکباد دیتے ہوئے بھی سہم رہے ہیں کہ کہیں کوئی ان کی حکومت نہ چھین لے۔
یہ شخص جس کا نام ناصر عباس نیر ہے، بہاولنگر کا رہنے والا ہے۔ کیا اس نے اپنی دادی سے پریوں کی کہانیاں نہیں سنیں۔ اگر سنی ہوتیں تو وہ ان پر لکھتا۔ میرے آج کے محسوس زمانے کی خاموشی کو بولنا سکھا رہا ہے جانتا ہے کہ ہمیں چھڑانے کوئی فرشتہ نہیں آئے گا۔

کشور ناہید

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نوحهِٔ زمین
  • یہ ہفتہ کیسے گزرے گا
  • بدلتے چہرے ۔۔۔ بدلتے حالات
  • روشانے کی رخصتی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
نہیں معلوم کیا واجب ہے کیا فرض
پچھلی پوسٹ
کیا یہی ہے جس پہ ہم دیتے ہیں جاں

متعلقہ پوسٹس

بھٹو آخر کیوں؟

نومبر 16, 2019

دریائے نیلوفر کی خلوت

جنوری 11, 2025

25 دسمبر

دسمبر 25, 2025

شبِ معراج

جنوری 17, 2026

ترجیحات

مئی 8, 2020

ملاقاتی

جنوری 13, 2020

سرِ شام دلربا سرگوشی

دسمبر 12, 2024

اک مدت تک کوشش

مارچ 29, 2026

علمی احتیاط

جنوری 17, 2026

لاہور سے شیلا باغ تک

اگست 20, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ذات کا سناٹا

جون 6, 2020

کچھ اردو رسم الخط کے بارے...

مئی 27, 2024

میلاد االنبیؐ کی خوشی

ستمبر 29, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں