100
دیکھوں جو آسمان تو یزداں مرے خلاف
پھر اس زمین پر ہیں یہ انساں مرے خلاف
ہر چال چل چکے وہ مگر کچھ نہیں ہوا
دیکھو ذرا کھڑے ہیں پشیماں مرے خلاف
دیکِھو کہ آسمان بدلتا ہے کیسے رنگ
دشمن کے ساتھ دوست بھی یکساں مرے خلاف
آواز گر دباؤں ملامت کرے ضمیر
آواز جو اُٹھاؤ تو سلطاں مِرے خلاف
کرتا ہوں گر میں تنگیِ دامان کا علاج
آسودگی کے سارے ہی امکاں مِرے خلاف
فیاضؔ زندگی اِسی اُلجھن میں کٹ گئی
دایاں اگر ہے ساتھ تو ، بایاں مِرے خلاف
فیاض ڈومکی
