100
کوئی تو اپنا ہو کوئی تو خیر خواہ نکلے
اس آس میں نکلے صلح کی کوئی راہ نکلے
عدالتوں سے امیدِ انصاف کیسے رکھتے
ہمارے اوپر ہمارے اپنے گواہ نکلے
یہ چکیوں میں روایتوں کی جو پس رہے ہیں
مجال ہو جو کسی کے منہ سے بھی آہ نکلے
ہمیں خبر تھی ہے اک خسارا مگر ہم اس دن
تمام وعدے تمام رشتے نباہ نکلے
تمہارے لفظوں کی تیغ سے ہم یوں چیختے ہیں
کہ تیر لگتے ہی اک ہرن کی کراہ نکلے
نہیں پلٹنا تو کیوں ڈریں ہم مسافتوں سے
ہم اپنا گھر بار کر کے سب کچھ تباہ نکلے
یہ سوچ کر ہم کہیں گے غزلیں کہ ان کے لب سے
ہمارے شعروں پہ کاش ان کی بھی واہ نکلے
فیاض ڈومکی
