110
جا تجھے دل ربا معاف کیا
زندگی با خدا معاف کیا
تیرے جانے کا غم نہیں مجھ کو
یہ مقدر ہے, جا معاف کیا
ہم اچانک ہی اجنبی ہو گئے
کیوں یہ بدلی ہوا، معاف کیا
کتنی نازک سی شے بھروسا ہے
توڑ تم نے دیا، معاف کیا
آخری بار اُسے ملوں اور کہوں
جا تجھے بے وفا معاف کیا
لمس شامل لہو میں جب سے ہے
دل ہے سیماب سا, معاف کیا
خود سے بھی پوچھنا تھا مجھ کو حسیب
تو نے یہ کیا کِیا، معاف کیا
حسیب بشر
