30
آنکھوں پہ میری کیوں کوئی منظر نہیں کھلا
یہ بھید ہے جو آج تک مجھ پر نہیں کھلا
دل کا دریچہ تیرے لئے کھل گیا مگر
مرعوب تیرے حسن سے ہو کر نہیں کھلا
میں کس طرح سے لے کے اسے اور شعر میں
مجھ پر میرے خیال کا پیکر نہیں کھلا
اک ایسے راستے پہ چلے جا رہے ہیں ہم
جو راستہ کبھی بھی کسی پر نہیں کھلا
بھاگے تھے ڈر کے غار کی جانب مگر علی
اس غار کا ہمارے لئے در نہیں کھلا
علی کوثر
