103
اس دن شاید ہم نے رستہ بدل لیا تھا
جس دن تم نے اپنا لہجہ بدل لیاتھا
منبر پر بھی درباری ہی بیٹھے ہوئے تھے
کچھ نے شجرہ کچھ نے لبادہ بدل لیاتھا
اس دن بھیڑ عزیزوں کی تھی گھر پر میرے
تنہائی نے اپنا چہرہ بدل لیاتھا
پرسش میں بھی دل آزاری ہی پنہاں تھی
کچھ لوگوں نے صرف طریقہ بدل لیاتھا
اس کی یاد سے باتیں کرتے دیکھ کے مجھ کو
خاموشی نے اپنا کمرہ بدل لیاتھا
دستاروں کے پیچ کھُلے تو ہم نے جانا
کس خوبی سے جہل نے حلیہبدل لیاتھا
میں تو اجالوں کا قیدی تھا لیکن طارق
جانے کس پل شب نے پہرہ بدل لیاتھا
ڈاکٹر طارق قمر
