118
ایسا نہیں کہ ہار نہیں جانا چاہئیے
بس آپ کا وقار نہیں جانا چاہئیے
اس خوش بدن نے پیار سے دو پل چھوئے تھے ہاتھ
کچھ سال یہ خمار نہیں جانا چاہئیے
میں خود ہدف بنی ہوں کہ اس بدگمان کا
خالی کوئی بھی وار نہیں جانا چاہئیے
شائد وہ شخص حال کسی روز پوچھ لے
مالک ! ابھی بخار نہیں جانا چاہئیے
اک بار کوئی آپ کو جب مسترد کرے
اس سمت بار بار نہیں جانا چاہئیے
خواہش وصال کی ہو طلب ہو جنون ہو
سب جائے ، اعتبار نہیں جانا چاہئیے
کومل جوئیہ
