خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابے روزگاری کا چیلنج
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

بے روزگاری کا چیلنج

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 3, 2025
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 3, 2025 0 تبصرے 46 مناظر
47

بے روزگاری کا چیلنج: نوجوانوں کا سوال

جب ایک نوجوان اپنی جوانی کے قیمتی سال تعلیمی اداروں میں گزار دیتا ہے، والدین اپنی محنت کی کمائی اور خواہشوں کا خون پسینہ ایک کر کے اس کے خوابوں کو پروان چڑھاتے ہیں، اور پھر اس کے ہاتھ میں ڈگری تو آ جاتی ہے لیکن روزگار کے دروازے بند رہتے ہیں، تو یہ صرف ایک فرد یا خاندان کا المیہ نہیں بلکہ پوری قوم کی ناکامی اور معاشرتی نظام پر ایک کڑی تنقید ہے۔ بے روزگاری محض ایک معاشی بحران نہیں، بلکہ یہ نوجوان نسل کی امیدوں، خوابوں، اور عزتِ نفس کی بربادی ہے۔

پاکستان اس وقت دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوانوں کی آبادی سب سے زیادہ ہے۔ تقریباً 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر پر مشتمل ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر یہ نوجوان صحیح سمت میں مواقع اور روزگار پائیں تو ملک ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ یہی نوجوان آج سب سے زیادہ مایوسی اور محرومی کا شکار ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بے روزگاری کی شرح 9 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، لیکن یہ صرف کاغذی حقیقت ہے۔ حقیقت میں شہروں کی گلیوں اور دیہات کی چوپالوں میں کھڑے نوجوانوں کی آنکھوں میں جو سوال ہیں، وہ کہیں زیادہ بڑے اور خوفناک ہیں۔

ایک طرف یہ نوجوان اپنے گھروں کے واحد سہارا ہیں، دوسری طرف وہ نوکریوں کے حصول کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ دیہات سے شہروں کی طرف ہجرت کرنے والے ہزاروں نوجوان روزگار کی تلاش میں نکلتے ہیں، مگر فیکٹریوں، دفتروں اور اداروں کے دروازے ان کے لیے بند ہیں۔ جو چند ملازمتیں دستیاب ہیں وہاں سفارش، رشوت، اور اقربا پروری کا راج ہے۔ میرٹ کی پامالی نے اس ملک کے سب سے قیمتی سرمایے—یعنی نوجوانوں—کو کھوکھلا کر دیا ہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کئی نوجوان اعلیٰ تعلیم کے باوجود رکشہ چلانے، چھابڑی لگانے یا معمولی مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ منظر صرف دل توڑنے والا نہیں بلکہ پالیسی سازوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ والدین سوچتے ہیں کہ بچے نے دن رات پڑھائی کی، لیکن اس کا انجام یہ نکلا کہ وہ ان پڑھ مزدور کے برابر کھڑا ہے۔ آخر ہم کہاں غلط ہو گئے؟

بے روزگاری کے تباہ کن اثرات محض معاشی نہیں بلکہ سماجی اور اخلاقی بھی ہیں۔ معاشرتی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب نوجوانوں کو روزگار نہیں ملتا تو وہ مایوسی، احساسِ محرومی اور بغاوت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہی بغاوت اکثر جرائم، منشیات، انتہا پسندی اور خودکشی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ پاکستان میں بڑھتے ہوئے جرائم کی ایک بڑی وجہ یہی بے روزگاری ہے۔ پولیس اور تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ چوری، ڈکیتی اور دیگر جرائم میں ملوث اکثر افراد بے روزگار نوجوان ہیں۔

ایک اور خطرناک رجحان "برین ڈرین” ہے۔ جب تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اپنے ملک میں مواقع نہیں ملتے تو وہ بیرونِ ملک ہجرت کر جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کےunemployment مطابق ہر سال لاکھوں پاکستانی نوجوان بہتر روزگار کی تلاش میں ملک چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم اپنی سب سے قیمتی افرادی قوت کو کھو دیتے ہیں اور دوسرے ممالک ہمارے ہنر مندوں اور ماہرین سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف معیشت بلکہ ملکی ترقی کے لیے بھی تباہ کن ہے۔

یہ بھی درست ہے کہ حکومتوں نے نوجوانوں کے نام پر مختلف پروگرام شروع کیے۔ کبھی "قرضہ اسکیم” متعارف کرائی گئی، کبھی "یوتھ انٹرن شپ پروگرام”، اور کبھی "اسکل ڈویلپمنٹ” کے نام پر منصوبے بنائے گئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ منصوبے زیادہ تر کاغذی کارروائی اور سیاسی تشہیر تک محدود رہے۔ جن نوجوانوں نے قرضے لیے، وہ پیچیدہ کاغذی کارروائی، کرپشن اور غیر شفافیت کے باعث فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ اسی طرح، فنی تعلیم کے ادارے بھی محدود ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے نوجوان عالمی مارکیٹ میں مقابلہ نہیں کر پاتے۔

پاکستان کی بے روزگاری کی ایک بڑی وجہ ہمارا پرانا اور غیر موثر تعلیمی نظام بھی ہے۔ نصاب آج کے جدید تقاضوں سے میل نہیں کھاتا۔ یونیورسٹیوں میں ڈگریاں تو ملتی ہیں لیکن ہنر اور عملی تربیت نہیں دی جاتی۔ نتیجہ یہ کہ ایک طرف ڈگری ہولڈرز کی فوج تیار ہو رہی ہے، دوسری طرف صنعتوں اور مارکیٹ میں ہنر مند افرادی قوت کی کمی ہے۔ یہ تضاد ہماری معاشی پالیسی کی ناکامی کی واضح علامت ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ مسئلہ ناقابلِ حل ہے؟ بالکل نہیں۔ اگر تعلیم کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے، فنی اور ٹیکنیکل تربیت عام کی جائے، چھوٹے اور درمیانے کاروبار کو سہولت دی جائے، نوجوانوں کے لیے آسان شرائط پر کاروباری قرضے فراہم کیے جائیں اور سب سے بڑھ کر میرٹ کو حقیقی معنوں میں نافذ کیا جائے، تو یہی نوجوان ملک کو ترقی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے، ان کی ترقی کا سب سے بڑا سہرا نوجوانوں کی صلاحیتوں کو دیا جاتا ہے۔ جرمنی، جاپان، اور جنوبی کوریا جیسے ممالک نے تعلیم اور ہنر مندی کو بنیاد بنا کر اپنے نوجوانوں کو بااختیار بنایا اور آج وہ دنیا کی مضبوط معیشتوں میں شمار ہوتے ہیں۔

پاکستان کے لیے بھی یہی راستہ ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو محض ڈگریاں دینے کے بجائے عملی ہنر سے آراستہ کرنا ہوگا۔ جدید آئی ٹی اور ڈیجیٹل اکنامی کی دنیا میں ہمارے نوجوانوں کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں۔ اگر حکومت آئی ٹی انڈسٹری کو سہولت دے، اسٹارٹ اپ کلچر کو فروغ دے اور عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں لائے تو لاکھوں نوجوان فری لانسنگ اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنا مقام بنا سکتے ہیں۔

یاد رکھیں، بے روزگاری صرف ایک فرد یا خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ قومی بقا کا سوال ہے۔ ایک نوجوان جب مایوسی کے اندھیروں میں ڈوبتا ہے تو صرف اس کی امید نہیں مرتی بلکہ پورے معاشرے کا مستقبل کمزور ہوتا ہے۔ جب تک ہم اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے، ہماری گلیوں میں جرم، نفرت، اور محرومی بڑھتی رہے گی۔

یہ وقت ہے کہ ریاست، حکومت، نجی شعبہ اور معاشرہ سب مل کر نوجوانوں کے سوال کا جواب دیں۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ یہ نوجوان ہمارا اصل سرمایہ ہیں، اگر ہم نے ان کی توانائیوں کو مثبت سمت نہ دی تو یہی توانائیاں بغاوت، جرم اور نفرت میں بدل جائیں گی۔ آنے والی نسلیں ہم سے سوال کریں گی کہ جب ہمارے پاس سب سے بڑی طاقت نوجوانوں کی صورت میں موجود تھی، تو ہم نے انہیں کیوں محرومیوں کے اندھیروں ۔میں دھکیل دیا؟

اب بھی وقت ہے۔ ہمیں تعلیم، روزگار اور میرٹ کی پالیسیوں کو ازسرِ نو تشکیل دینا ہوگا۔ یہی وہ جواب ہے جو آج کے نوجوان اپنے ملک سے چاہتے ہیں۔ اگر ہم نے یہ جواب نہ دیا تو کل تاریخ ہم سے یہ سوال پوچھے گی—اور اس کا جواب دینا شاید ہمارے لیے ممکن نہ ہوگا۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہوا آئی نہ ایندھن آ رہا ہے
  • اکیچ بات ہے
  • من کا بھوت بنگلہ !
  • پانچ دن
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
EPA کا مضحکہ خیز حکم نامہ
پچھلی پوسٹ
غزہ کے سفیر

متعلقہ پوسٹس

اکبر الہ آبادی، نوآبادیاتی نظام اور عہد حاضر

مئی 27, 2024

ہوا چلی تو بے کلی

نومبر 3, 2024

بے چہرگی سے چہرہ چھپا کر کھڑا رہا

مارچ 11, 2022

سوداگری

نومبر 9, 2025

ہمیشہ خیر رہے ، دن ہرے بھرے جائیں

مئی 4, 2020

موسم کی شرارت

جنوری 15, 2020

مرے وجود کی جاگیر اس نے مانگی ہے

نومبر 30, 2019

مراۃ العروس : ڈپٹی نذیر احمد

اپریل 12, 2025

دھند میں ڈوبی ساری فضا

مئی 28, 2024

منظور

مارچ 16, 2016

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

خط اور انتظار

نومبر 14, 2019

سن رائیگاں

فروری 2, 2022

گمراہی کا راستہ

جنوری 4, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں