بے روزگاری کا چیلنج: نوجوانوں کا سوال
جب ایک نوجوان اپنی جوانی کے قیمتی سال تعلیمی اداروں میں گزار دیتا ہے، والدین اپنی محنت کی کمائی اور خواہشوں کا خون پسینہ ایک کر کے اس کے خوابوں کو پروان چڑھاتے ہیں، اور پھر اس کے ہاتھ میں ڈگری تو آ جاتی ہے لیکن روزگار کے دروازے بند رہتے ہیں، تو یہ صرف ایک فرد یا خاندان کا المیہ نہیں بلکہ پوری قوم کی ناکامی اور معاشرتی نظام پر ایک کڑی تنقید ہے۔ بے روزگاری محض ایک معاشی بحران نہیں، بلکہ یہ نوجوان نسل کی امیدوں، خوابوں، اور عزتِ نفس کی بربادی ہے۔
پاکستان اس وقت دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوانوں کی آبادی سب سے زیادہ ہے۔ تقریباً 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر پر مشتمل ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر یہ نوجوان صحیح سمت میں مواقع اور روزگار پائیں تو ملک ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ یہی نوجوان آج سب سے زیادہ مایوسی اور محرومی کا شکار ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بے روزگاری کی شرح 9 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، لیکن یہ صرف کاغذی حقیقت ہے۔ حقیقت میں شہروں کی گلیوں اور دیہات کی چوپالوں میں کھڑے نوجوانوں کی آنکھوں میں جو سوال ہیں، وہ کہیں زیادہ بڑے اور خوفناک ہیں۔
ایک طرف یہ نوجوان اپنے گھروں کے واحد سہارا ہیں، دوسری طرف وہ نوکریوں کے حصول کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ دیہات سے شہروں کی طرف ہجرت کرنے والے ہزاروں نوجوان روزگار کی تلاش میں نکلتے ہیں، مگر فیکٹریوں، دفتروں اور اداروں کے دروازے ان کے لیے بند ہیں۔ جو چند ملازمتیں دستیاب ہیں وہاں سفارش، رشوت، اور اقربا پروری کا راج ہے۔ میرٹ کی پامالی نے اس ملک کے سب سے قیمتی سرمایے—یعنی نوجوانوں—کو کھوکھلا کر دیا ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کئی نوجوان اعلیٰ تعلیم کے باوجود رکشہ چلانے، چھابڑی لگانے یا معمولی مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ منظر صرف دل توڑنے والا نہیں بلکہ پالیسی سازوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ والدین سوچتے ہیں کہ بچے نے دن رات پڑھائی کی، لیکن اس کا انجام یہ نکلا کہ وہ ان پڑھ مزدور کے برابر کھڑا ہے۔ آخر ہم کہاں غلط ہو گئے؟
بے روزگاری کے تباہ کن اثرات محض معاشی نہیں بلکہ سماجی اور اخلاقی بھی ہیں۔ معاشرتی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب نوجوانوں کو روزگار نہیں ملتا تو وہ مایوسی، احساسِ محرومی اور بغاوت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہی بغاوت اکثر جرائم، منشیات، انتہا پسندی اور خودکشی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ پاکستان میں بڑھتے ہوئے جرائم کی ایک بڑی وجہ یہی بے روزگاری ہے۔ پولیس اور تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ چوری، ڈکیتی اور دیگر جرائم میں ملوث اکثر افراد بے روزگار نوجوان ہیں۔
ایک اور خطرناک رجحان "برین ڈرین” ہے۔ جب تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اپنے ملک میں مواقع نہیں ملتے تو وہ بیرونِ ملک ہجرت کر جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے
مطابق ہر سال لاکھوں پاکستانی نوجوان بہتر روزگار کی تلاش میں ملک چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم اپنی سب سے قیمتی افرادی قوت کو کھو دیتے ہیں اور دوسرے ممالک ہمارے ہنر مندوں اور ماہرین سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف معیشت بلکہ ملکی ترقی کے لیے بھی تباہ کن ہے۔
یہ بھی درست ہے کہ حکومتوں نے نوجوانوں کے نام پر مختلف پروگرام شروع کیے۔ کبھی "قرضہ اسکیم” متعارف کرائی گئی، کبھی "یوتھ انٹرن شپ پروگرام”، اور کبھی "اسکل ڈویلپمنٹ” کے نام پر منصوبے بنائے گئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ منصوبے زیادہ تر کاغذی کارروائی اور سیاسی تشہیر تک محدود رہے۔ جن نوجوانوں نے قرضے لیے، وہ پیچیدہ کاغذی کارروائی، کرپشن اور غیر شفافیت کے باعث فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ اسی طرح، فنی تعلیم کے ادارے بھی محدود ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے نوجوان عالمی مارکیٹ میں مقابلہ نہیں کر پاتے۔
پاکستان کی بے روزگاری کی ایک بڑی وجہ ہمارا پرانا اور غیر موثر تعلیمی نظام بھی ہے۔ نصاب آج کے جدید تقاضوں سے میل نہیں کھاتا۔ یونیورسٹیوں میں ڈگریاں تو ملتی ہیں لیکن ہنر اور عملی تربیت نہیں دی جاتی۔ نتیجہ یہ کہ ایک طرف ڈگری ہولڈرز کی فوج تیار ہو رہی ہے، دوسری طرف صنعتوں اور مارکیٹ میں ہنر مند افرادی قوت کی کمی ہے۔ یہ تضاد ہماری معاشی پالیسی کی ناکامی کی واضح علامت ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ مسئلہ ناقابلِ حل ہے؟ بالکل نہیں۔ اگر تعلیم کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے، فنی اور ٹیکنیکل تربیت عام کی جائے، چھوٹے اور درمیانے کاروبار کو سہولت دی جائے، نوجوانوں کے لیے آسان شرائط پر کاروباری قرضے فراہم کیے جائیں اور سب سے بڑھ کر میرٹ کو حقیقی معنوں میں نافذ کیا جائے، تو یہی نوجوان ملک کو ترقی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے، ان کی ترقی کا سب سے بڑا سہرا نوجوانوں کی صلاحیتوں کو دیا جاتا ہے۔ جرمنی، جاپان، اور جنوبی کوریا جیسے ممالک نے تعلیم اور ہنر مندی کو بنیاد بنا کر اپنے نوجوانوں کو بااختیار بنایا اور آج وہ دنیا کی مضبوط معیشتوں میں شمار ہوتے ہیں۔
پاکستان کے لیے بھی یہی راستہ ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو محض ڈگریاں دینے کے بجائے عملی ہنر سے آراستہ کرنا ہوگا۔ جدید آئی ٹی اور ڈیجیٹل اکنامی کی دنیا میں ہمارے نوجوانوں کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں۔ اگر حکومت آئی ٹی انڈسٹری کو سہولت دے، اسٹارٹ اپ کلچر کو فروغ دے اور عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں لائے تو لاکھوں نوجوان فری لانسنگ اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنا مقام بنا سکتے ہیں۔
یاد رکھیں، بے روزگاری صرف ایک فرد یا خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ قومی بقا کا سوال ہے۔ ایک نوجوان جب مایوسی کے اندھیروں میں ڈوبتا ہے تو صرف اس کی امید نہیں مرتی بلکہ پورے معاشرے کا مستقبل کمزور ہوتا ہے۔ جب تک ہم اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے، ہماری گلیوں میں جرم، نفرت، اور محرومی بڑھتی رہے گی۔
یہ وقت ہے کہ ریاست، حکومت، نجی شعبہ اور معاشرہ سب مل کر نوجوانوں کے سوال کا جواب دیں۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ یہ نوجوان ہمارا اصل سرمایہ ہیں، اگر ہم نے ان کی توانائیوں کو مثبت سمت نہ دی تو یہی توانائیاں بغاوت، جرم اور نفرت میں بدل جائیں گی۔ آنے والی نسلیں ہم سے سوال کریں گی کہ جب ہمارے پاس سب سے بڑی طاقت نوجوانوں کی صورت میں موجود تھی، تو ہم نے انہیں کیوں محرومیوں کے اندھیروں ۔میں دھکیل دیا؟
اب بھی وقت ہے۔ ہمیں تعلیم، روزگار اور میرٹ کی پالیسیوں کو ازسرِ نو تشکیل دینا ہوگا۔ یہی وہ جواب ہے جو آج کے نوجوان اپنے ملک سے چاہتے ہیں۔ اگر ہم نے یہ جواب نہ دیا تو کل تاریخ ہم سے یہ سوال پوچھے گی—اور اس کا جواب دینا شاید ہمارے لیے ممکن نہ ہوگا۔
یوسف صدیقی
