دنیا تیزی سے ڈیجیٹل دور کی طرف بڑھ رہی ہے، اور ہمارے ہاں بھی نئی نسل، جسے ہم "ڈیجیٹل نسل” کہہ سکتے ہیں، موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ساتھ پروان چڑھ رہی ہے۔ لیکن اس ڈیجیٹل نسل کو ایک گہرا اور پیچیدہ بحران درپیش ہے۔ ان کے اور ہماری اپنی زبان، اردو، کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے اور یہ فاصلہ محض الفاظ یا جملوں تک محدود نہیں، بلکہ ایک تہذیبی خلا کی صورت اختیار کر رہا ہے۔
اردو رسم الخط سے نابلدی اور زبان کے رموز و اوقاف سے ناواقفیت نے نئی نسل کو فکری اور تہذیبی کمزوری میں دھکیل دیا ہے۔ اسکولوں میں ذریعہ تعلیم انگریزی کر دیا گیا ہے، یہ سوچ کر کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف انگریزی ذریعہ تعلیم سے ترقی ممکن نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو نائجیریا، گھانا اور دیگر کئی ممالک جو انگریزی کو قومی زبان کے طور پر اپنائے ہوئے ہیں، ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہوتے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ انگریزی نے انہیں ترقی نہیں دی، بلکہ وہ اب بھی معاشی کمزوری اور بدحالی کے گرداب میں ہیں۔
ہمارے ہاں بھی صورتِ حال کچھ مختلف نہیں۔ نہ یہ ڈیجیٹل نسل اچھی انگریزی سیکھ پاتی ہے کیونکہ معاشرتی اور گھریلو ماحول اس زبان کی مکمل تائید نہیں کرتا، اور نہ ہی یہ اردو میں مضبوط بنیاد رکھتی ہے کیونکہ اسکولوں میں اسے وہ اہمیت اور معیار نہیں دیا جا رہا جو پچھلی نسلوں کو حاصل تھا۔ یوں نئی نسل دوہری کمزوری کا شکار ہے: ایک طرف اپنی مادری زبان میں کمزور، اور دوسری طرف انگریزی میں بھی غیر مستحکم۔
اس سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ نسل اپنی اقدار، اپنے مذہب، اپنی ثقافت اور اپنی معاشرتی بنیادوں سے بھی دور ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے ذہنوں میں زبان کا بحران صرف الفاظ یا جملوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک گہرا شناختی بحران بن چکا ہے۔ جب زبان اپنی اصل روح کھا دیتی ہے تو ساتھ میں تہذیب، فکر اور معاشرت بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ڈیجیٹل نسل کو دوبارہ اپنی زبان، اپنی تہذیب اور اپنی اقدار سے جوڑیں۔ زبان صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب اور فکری ورثے کی نمائندگی کرتی ہے۔ اگر ہم اپنی آنے والی نسل کو اپنی زبان سے محروم کر دیں، تو یہ محض لسانی نقصان نہیں بلکہ ہماری فکری اور تہذیبی خودمختاری کا زوال ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اردو کی تعلیم اور استعمال کو حقیقی معنوں میں فروغ دیں، تاکہ نئی نسل نہ صرف اپنی زبان میں مضبوط ہو بلکہ اپنی ثقافت اور شناخت کے ساتھ بھی جڑی رہے۔
یوسف صدیقی
