101
غزل کے سینے میں روز اک زمیں اگاتے ہیں
ہمیں نا جانے اشارے کہاں سے آتے ہیں
درود بھیجتے ہیں جون پر فدائے سخن
قلم کو گھول کے پھر قافیے پلاتے ہیں
تمھاری نظروں کے قصے تو اب پرانے ہوئے
ہمارے میکدے میں شیخ جھوم جاتے ہیں
خلافِ شیوۂِ رنداں تو انکے خون میں ہے
حرم میں بیٹھ کے توہینِ مے سناتے ہیں
یہ عہد وہ ہے کہ دل ، دلبری سے پاک ہیں اب
کہ دل کہ باتیں محب بول کر بتاتے ہیں
عجب ہی لطف ہے ہجراں کی آگ میں یارو
نمک بھی زخموں پہ لگ جائے چین پاتے ہیں
عطا ہے انکی کہ دو دو ٹکے کے لوگ بھی اب
ہماری بے بسی پر تالیاں بجاتے ہیں
یہ مفلسی میں ہے واحد سہارا عشق زملؔ
خیالِ یار میں خود کو پکا کے کھاتے ہیں
ناصر زملؔ
