خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباہم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر
آپکا اردو باباابو خالد قاسمیاردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہ

ہم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر

از سائیٹ ایڈمن اگست 17, 2025
از سائیٹ ایڈمن اگست 17, 2025 0 تبصرے 62 مناظر
63

قرآن مجید اللہ رب العزت کا وہ پاکیزہ اور معجز نما کلام ہے جو اس نے اپنی مخلوق کی دائمی رہنمائی کے لیے اپنے آخری نبی، امام الانبیاء، سید المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر وحی کے ذریعہ نازل فرمایا۔ یہ وہ نورِ ہدایت ہے جو ازل سے لوحِ محفوظ میں ثبت ہے، جو کسی تغیر و تبدل کا شکار نہیں ہوسکتا، اور جسے ہر قسم کے باطل اور شیطانی وساوس سے محفوظ رکھا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اس کتاب کی حفاظت کا ذمہ لیا، چنانچہ قیامت تک کوئی طاقت اس کے ایک حرف کو بھی بدل نہیں سکتی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، مخلوق نہیں، اور اس کی حقیقت و ہیئت ہماری عقل و فہم سے بالاتر ہے، لیکن ایمان و تصدیق کے ساتھ ہم اس پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ آسمانوں کے اوپر محفوظ، ملا اعلیٰ کے فیصلوں کی مانند اٹل اور غیر متبدل ہے۔
"قرآن” کا لفظ مادہ "قرأ” سے ماخوذ ہے، جس کا معنی پڑھنا ہے،(المنجد :٦١٣) اور حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ لاکھوں زبانیں دن رات اس کی تلاوت میں مصروف رہتی ہیں، کبھی خوش الحانی سے اور کبھی آہ و زاری کے ساتھ، خواہ معنی سے واقف ہوں یا نہ ہوں۔ خود اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کو "قرآن” کہہ کر پکارا ہے، جیسا کہ فرمایا: "بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَجِيدٌ” (البروج: 21)۔ یہ کتاب عربی زبان میں نازل ہوئی تاکہ اولین مخاطبین براہِ راست اس کو سمجھ سکیں اور اس کا پیغام آگے پہنچا سکیں، جیسا کہ ارشاد ہوا: "إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ” (یوسف: 2)۔ یہ کتاب قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوئی، مگر اس کا فائدہ وہی اٹھا سکتا ہے جس کے دل میں خشیتِ الٰہی اور طلبِ حق کی آگ موجود ہو، جیسا کہ ارشاد ہے:”ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ” (البقرۃ: 2)۔
نزولِ قرآن کی کیفیت بھی ایک عظیم معجزہ تھی۔ کبھی یہ وحی گھنٹی کی مانند آواز کی صورت میں آتی، جو سب سے سخت اور بوجھل ہوتی، اور آپ ﷺ پر اس کا اثر اتنا شدید ہوتا کہ مبارک پیشانی سے پسینے کے قطرے بہنے لگتے۔ کبھی فرشتہ کسی انسانی شکل میں، بالخصوص حضرت دحیہ کلبیؓ کی صورت میں آتے اور اللہ کا پیغام پہنچاتے۔ کبھی حضرت جبرئیلؑ اپنی اصل ہیئت میں جلوہ گر ہوتے، جیسا کہ دو مرتبہ ہوا۔ ایک مرتبہ معراج کی شب بلاواسطہ رب کریم سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا اور نماز کی فرضیت اسی موقع پر عطا ہوئی۔ کبھی ایسا ہوتا کہ جبرئیلؑ آپ ﷺ کے سامنے آئے بغیر آپ کے قلبِ اطہر پر براہِ راست وحی القا فرماتے۔(فتح البارى ١/ ١٨. تاريخ نزول القرآن:٢٦)
قرآن کا نزول ماہِ رمضان کی بابرکت رات لیلۃ القدر میں لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر مکمل ہوا، اور پھر 23 برس کے عرصے میں حالات و ضروریات کے مطابق تھوڑا تھوڑا نازل ہوتا رہا۔ سب سے پہلی وحی سورۃ العلق کی ابتدائی آیات کی صورت میں غارِ حرا میں نازل ہوئی، اور اس کے بعد تین برس تک وحی کا سلسلہ موقوف رہا۔ پھر دوبارہ سورۃ المدثر کی ابتدائی آیات کے ساتھ یہ سلسلہ شروع ہوا اور آپ ﷺ کی وفات تک جاری رہا۔(المرشد الوجيز إلى علوم تتعلق بالكتاب العزيزص: 33 35،
مع القرآن الكريم ص18)
اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کے لیے ایسے اسباب فراہم کیے جو کسی اور آسمانی کتاب کے لیے نہیں کیے گئے۔ سب سے پہلا ذریعہ حفظ تھا۔ خود نبی کریم ﷺ وحی نازل ہوتے ہی اسے دہراتے تاکہ یاد ہوجائے، مگر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی: "لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ، إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ” (القیامہ: 16-17)، یعنی آپ جلدی نہ کریں، ہم ہی اس کو آپ کے دل میں جمع کریں گے اور آپ کو پڑھائیں گے۔ اس کے بعد رمضان میں ہر سال حضرت جبرئیلؑ کے ساتھ قرآن کا دور کیا جاتا، اور وفات کے سال یہ دور دو مرتبہ ہوا۔ صحابہ کرامؓ بھی شوق و ذوق سے قرآن حفظ کرتے، راتوں کو تہجد میں دہراتے اور ایک دوسرے سے سبقت کی کوشش کرتے۔ ساتھ ہی کتابت کا بھی خاص اہتمام ہوا، اور نزول کے فوراً بعد کاتبینِ وحی مختلف اشیاء پر اسے تحریر کرتے: پتھر کی سلوں، چمڑے کے پارچوں، کھجور کی شاخوں، بانس کے ٹکڑوں، درخت کے پتوں اور جانوروں کی ہڈیوں پر۔ کاتبینِ وحی میں حضرت زید بن ثابتؓ، حضرت علیؓ، حضرت ابی بن کعبؓ، حضرت زبیر بن عوامؓ، حضرت معاویہؓ اور دیگر صحابہ شامل تھے۔” تفسير القرآن العظيم ” (7/218. جامع البيان ” (17/68)
جب حضرت ابو بکر صدیقؓ کے دور میں جنگِ یمامہ میں حفاظ کی ایک بڑی تعداد شہید ہوئی تو حضرت عمرؓ نے قرآن کو ایک جگہ جمع کرنے کا مشورہ دیا۔ ابتدا میں حضرت ابو بکرؓ اس کام کو نیا ہونے کی وجہ سے گراں سمجھتے تھے، مگر شرح صدر کے بعد حضرت زید بن ثابتؓ کو اس عظیم ذمہ داری پر مقرر کیا گیا۔ انہوں نے حفظ، تحریر اور تواتر، تینوں ذرائع سے تصدیق کر کے ہر آیت کو ثبت کیا، یہاں تک کہ مکمل قرآن ایک مصحف میں جمع ہوگیا۔ حضرت عثمانؓ کے دور میں جب اسلام عجمی علاقوں میں پھیلا اور قراءت کے اختلاف سے فتنے کا اندیشہ ہوا، تو انہوں نے واحد معیار پر مشتمل "نسخۂ امام” تیار کرا کے مختلف مراکز کو بھیجا اور باقی نسخے تلف کرا دیے، یوں امت میں وحدتِ قراءت قائم ہوئی۔ بعد میں نقطے، اعراب، پاروں اور رکوعات کی سہولت دی گئی تاکہ تلاوت آسان ہو۔ ( المنار في علوم القرآن ١٥١- جمع القرآن حفظا وكتابة ١١)
قرآن کریم کی فضیلت اس قدر عظیم ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "الماهر بالقرآن مع السفرة الكرام البررة” (البخاري (4937)، یعنی جو شخص قرآن کا ماہر ہو، قیامت کے دن معزز اور نیک فرشتوں کے ساتھ ہوگا۔ ایک اور حدیث میں فرمایا: "يقال لصاحب القرآن: اقرأ وارتق ورتل كما كنت ترتل في الدنيا، فإن منزلتك عند آخر آية تقرؤها” (أبو داود (1464)، یعنی صاحبِ قرآن سے کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور جنت کے درجات چڑھتا جا، تیرا مقام وہی ہوگا جہاں تیری آخری آیت ختم ہوگی۔ اسی طرح قرآن پڑھنے اور اس پر عمل کرنے والے کے والدین کو قیامت کے دن ایسا نورانی تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج سے بھی زیادہ ہوگی۔ (ابو داود،باب في ثواب قراءة القرآن، ج:١، ص:٥٤٣)
قرآن کا فہم صرف اس وقت صحیح اور مکمل ہوسکتا ہے جب اسے مفسرِ اول، نبی کریم ﷺ کی تشریح کے ساتھ پڑھا جائے۔ ارشادِ ربانی ہے: "وأنزلنا إليك الذكر لتبين للناس ما نزل إليهم ولعلهم يتفكرون” (النحل: 44)، یعنی ہم نے یہ ذکر آپ پر اتارا تاکہ آپ لوگوں کے لیے کھول کر بیان کریں۔ اس لیے حدیث کے بغیر قرآن کی تفہیم ممکن ہی نہیں، کیونکہ قرآن کے اجمال کو سنت نبوی تفصیل دیتی ہے، اور اس کے اصولوں کی عملی تصویر حضور ﷺ کی زندگی میں نظر آتی ہے۔ صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے ذریعے یہ علم امت تک محفوظ پہنچا، جو آج بھی مستند ذرائع میں موجود ہے۔
یہ کتابِ مقدس آغازِ نزول سے آج تک انسانیت کے لیے مینارِ نور ہے۔ اس میں ایمان، عبادات، اخلاق، معیشت، معاشرت، سیاست، حتیٰ کہ دنیا و آخرت کی کامیابی کے تمام اصول بیان کیے گئے ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ آج کا مسلمان اس کتاب سے دور ہوچکا ہے۔ یہ جزدانوں میں بند، رفوں پر سجی ہوئی اور ہماری عملی زندگی سے اوجھل ہو چکی ہے۔ نہ تلاوت کا اہتمام ہے، نہ تدبر کا، نہ احکام پر عمل کا۔(اور ہم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر:٨)
علامہ اقبالؒ نے بجا فرمایا۔ وہ زمانہ میں معزز تھے مسلمان ہو کر اور ہم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
ہم اپنی اولاد کی دنیاوی تعلیم پر تو بے پناہ محنت کرتے ہیں، اسکول، ہوم ورک، پروجیکٹس اور امتحانات کے لیے وقت، مال اور محنت سب قربان کر دیتے ہیں، مگر قرآن ناظرہ کی تعلیم دینے میں تساہل برتتے ہیں۔ حالانکہ یہ اللہ کا کلام ہے، جس کی تلاوت پر ایک ایک حرف کا اجر ملتا ہے، اور جو دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اور ہماری نسلیں قرآن و سنت سے اپنا تعلق جوڑیں، مستند علما کی سرپرستی میں اس کے معانی و احکام سیکھیں اور اپنی عملی زندگی کو حضور ﷺ کے لائے ہوئے طریقے پر استوار کریں۔ یہی نجات کا راستہ ہے، یہی کامیابی کی شاہراہ۔
قرآن کریم اقوال علما کی روشنی میں
قرآنِ مجید اہلِ ایمان کے لیے زندگی کا سرچشمہ اور دلوں کا سب سے بڑا مونس ہے۔ فضل الرقاشی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "قرآن کے خوش الحان اور خوبصورت آواز کے ساتھ پڑھنے جیسی لذت کسی اور چیز میں نہیں، اور نہ ہی کسی چیز سے دل اتنا محو و مسرور ہوتا ہے جتنا کہ قرآن کی حسین تلاوت سے۔ اور ہر وہ دل جو قرآن کی خوش الحان آواز سے نہ پگھلے، وہ دراصل مردہ دل ہے، اور جو آنکھ اس تلاوت پر نہ بہے وہ صرف غافل یا لاپرواہ آنکھ ہو سکتی ہے” (حلیۃ الأولیاء، 6/207)۔ سلام بن مسکین رحمہ اللہ نے قرآن کو انسان کی بیماری اور اس کے علاج دونوں کی نشاندہی کرنے والا بتایا، فرمایا: "تمہارا مرض تمہارے گناہ ہیں، اور تمہاری دوا استغفار ہے” (التوبة لابن أبی الدنیا، ص 89)۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے قرآن سیکھنے والے کی عظمت اور مقام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: "جس نے قرآن سیکھا، اس کی قیمت و وقعت بڑھ گئی… اور جس نے اپنے آپ کو محفوظ نہ رکھا، اس کا علم اسے کوئی فائدہ نہ دے گا” (الآداب الشرعیة، 1/266)۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اہلِ قرآن کو نصیحت کی: "اے قرآن پڑھنے والو! اللہ سے ڈرو اور اپنے سے پہلے والوں کے طریقے کو اختیار کرو۔ اگر تم سیدھے چل پڑے تو تمہیں بہت آگے نکل جانے کی خوش خبری ہے، اور اگر تم نے دائیں یا بائیں مڑ کر چھوڑ دیا تو تم بہت دور کی گمراہی میں پڑ جاؤ گے” (حلیۃ الأولیاء، 9/218)۔ مجاہد رحمہ اللہ نے قرآن کے ساتھ تعلق کو یوں بیان کیا: "قرآن کہتا ہے: میں تیرے ساتھ ہوں جب تک تو میری پیروی کرتا رہے، اور جب تو نے مجھ پر عمل چھوڑ دیا تو میں تیرے پیچھے لگ جاؤں گا” (صفة الصفوة، 1/413)۔
مُعضَد رحمہ اللہ نے اپنی زندگی کی سب سے قیمتی نعمتیں گنوائیں: "اگر تین چیزیں نہ ہوتیں — دوپہر کی تپتی گرمی میں روزے کی پیاس، سردیوں کی طویل راتوں میں عبادت، اور اللہ کے کلام کے ساتھ تہجد کی لذت — تو میں پروا نہ کرتا کہ کسی بڑے منصب پر ہوں یا نہ ہوں” (فضائل القرآن لأبی عبید، ص 128)۔ یزید بن تمیم رحمہ اللہ نے سختی سے کہا: "جسے نہ قرآن روک سکے اور نہ موت کا تصور، تو پھر اگر اس کے سامنے پہاڑ بھی کھڑے کر دیے جائیں، تب بھی وہ باز نہیں آئے گا” (الزہد لأحمد بن حنبل، ص 138)۔ شعبی رحمہ اللہ نے تلاوت کا آداب سکھاتے ہوئے کہا: "جب قرآن پڑھو تو ایسے انداز میں پڑھو کہ تمہارے کان سنیں اور تمہارا دل سمجھ سکے، کیونکہ کان زبان اور دل کے درمیان منصف ہیں” (الزہد لابن المبارک، ص 422)۔
کسی نے ایک سے پوچھا: "جب تم قرآن پڑھتے ہو تو کیا اپنے دل میں کوئی اور خیال لاتے ہو؟” اس نے کہا: "قرآن کے سوا کوئی چیز مجھے اس قدر محبوب نہیں کہ میں اس کے بارے میں سوچوں” (قوت القلوب، 1/86)۔ ذوالنون مصری رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: "اللہ سے انس کیا ہے؟” فرمایا: "علم اور قرآن” (حلیۃ الأولیاء، 9/377)۔ ایک عالم نے فرمایا: "یہ قرآن ہمارے رب کی جانب سے آئی ہوئی خطوط ہیں، جو اس کے عہد و پیمان پر مشتمل ہیں؛ ہم انہیں نماز میں غور سے پڑھتے ہیں اور طاعت میں ان پر عمل کرتے ہیں” (موعظة المؤمنين، ص 80)۔
وہیب بن الورد رحمہ اللہ نے ان لوگوں پر رحمت کی دعا کی "جو جب دوزخ کے ذکر والی آیت سنتے تو یوں لگتا گویا اس کا دھواں ان کے کانوں میں گونج رہا ہے”۔ سعید الجرمی رحمہ اللہ نے خوفِ آخرت کی کیفیت بیان کی: "جب وہ دوزخ کے ذکر والی آیت سے گزرتے تو خوف سے چیخ پڑتے، گویا دوزخ کی بھاپ ان کے کانوں میں ہے اور آخرت ان کی آنکھوں کے سامنے ہے” (التخويف من النار، ص 46)۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "میں ناپسند کرتا ہوں کہ مجھ پر ایسا دن گزرے جس میں میں اللہ کے عہد — یعنی قرآن — کی طرف نہ دیکھوں” (البداية والنهاية، 7/225)۔
ایک اور نصیحت میں فرمایا گیا: "چار چیزیں ایسی ہیں جن کا ظاہر فضیلت ہے اور باطن فرض: نیک لوگوں کی صحبت فضیلت اور ان کی پیروی فرض، قرآن کی تلاوت فضیلت اور اس پر عمل فرض، قبروں کی زیارت فضیلت اور موت کی تیاری فرض، مریض کی عیادت فضیلت اور اس سے نصیحت لینا فرض” (أسيرة عثمان للصلابی، ص 28)۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن سے حقیقی محبت عطا فرمائے، ہمیں اس کو سمجھ کر پڑھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے دنیا میں پھیلانے والا بنائے، اور قیامت کے دن ہمیں اہلِ قرآن میں شامل فرما کر اپنے سایۂ رحمت میں جگہ دے۔ آمین۔

ابو خالد قاسمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ترے دم سے دنیا منور خدایا
  • تُو سمندر ہے تو پھر ظرف ذرا سا کیوں ہے
  • حفاظِ قرآن کے لیے مفید معلومات
  • دشمن کو سمجھ آئی نہیں یار ہماری
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
استغفار
پچھلی پوسٹ
اسلام میں متعدد نکاح

متعلقہ پوسٹس

پروفیسر گوہر نوید کے تنقیدی نظریات کا جائزہ

فروری 13, 2026

قرآن مجید میں تقویٰ

فروری 25, 2026

شہزاد نیّر سے ایک مختصر مصاحبہ

اپریل 24, 2025

چاند ماموں

مارچ 5, 2023

قرآن میں جنگ کے احکام

دسمبر 6, 2025

کورونا ڈوبتی انسانیت کے نام کھلاخط!

مئی 13, 2021

عید مبارک

مارچ 21, 2026

یہی تو بات … گوارا نہیں محبت کو

مئی 28, 2020

کتنے سورج تراشے مگر

اپریل 20, 2025

جہاں کی ضد ہے

جون 15, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

رقصِ زر کا خمار

دسمبر 2, 2024

انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں...

جنوری 29, 2020

ایک تصویر کہ اوّل نہیں دیکھی...

اپریل 23, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں